ویسٹ انڈیز کی دوسری شکست | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیوزی لینڈ نے سٹائرس کے شاندار 80 رنز کی بدولت عالمی کپ کے سپر ایٹ مرحلے کے اپنے پہلے میچ میں ویسٹ انڈیز کو سات وکٹوں سے ہرا دیا ہے۔ نیوزی لینڈ نے 178 رنز کا ہدف چالیسویں اوور میں حاصل کیا۔ سپر 8 مرحلے میں یہ ویسٹ انڈیز کی دوسری مسلسل شکست ہے۔ نیوزی لینڈ کی اننگز کا آغاز زیادہ پراعتماد نہیں تھا کیونکہ پہلے ہی اوور میں ان کے اوپنر فلٹن کو ڈیرن پاول نے کلین بولڈ کر دیا۔اس موقع پر دوسرے اوپنر کپتان سٹیفن فلیمنگ نے اننگز قدرے سنبھال لی اور مارشل کے ساتھ شراکت میں سکور 45 تک لیجانے میں کامیاب ہوگئے۔اس موقع پر ڈیرن پاول کو ایک اور کامیابی اس وقت ملی جب مارشل ان کی ایک قدرے آہستہ گیند پر کپتان لارا کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔ دوسری جانب سٹیفن فلیمنگ سکور میں آہستہ آہستہ اضافہ کرتے رہے لیکن اس دوران انہوں نے چوکے لگانے کا کوئی اچھا موقع ضائع نہ کیا اور چھ چوکے لگائے۔وہ ایک اچھی اننگز کھیلنے کے بعد ایک مشکل رن بناتے ہوئے رن آؤٹ ہو گئے۔ انہوں نے پینتالیس رنز بنائے۔ کپتان کے آؤٹ ہونے پر سٹائرس کا ساتھ دینے کے لیے میکملن آئے اور دونوں نے اپنے کپتان کی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور کوئی غیر ضروری خطرہ مول نہیں لیا اور نیوزی لینڈ کو فتح سے ہمکنار کیا۔ اس سے پہلے نیوزی لینڈ نے میزبان ویسٹ انڈیز کو اپنے پچاس اوورز مکمل نہ کرنے دیے اور ساری ٹیم کو 44 اعشاریہ چار اوورز میں 177 رنز پر آؤٹ کر دیا۔ اس سے قبل نیوزی لینڈ نے ٹاس جیت کر ویسٹ انڈیز کو پہلے کھیلنے کی دعوت دی۔ ویسٹ انڈیز کی طرف سے اننگز کا آغاز چندر رپال اور کرس گیل نے کیا لیکن نیوزی لینڈ کے دونوں ابتدائی بولروں شین بونڈ اور مائیکل میسن نے انہیں پہلے سات اووروں میں چودہ رنز سے زیادہ سکور نہ کرنے دیا۔
بونڈ اور میسن کی طرف سے دباؤ جلد ہی کام آیا اور بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے چندر پال میسن کی ایک باہر جاتی ہوئی گیند پر سٹروک لگانے کی کوشش میں دوسری سلپ میں کیچ ہو گئے۔ انہوں نے صرف چار رنز بنائے۔ چندر پال کے آؤٹ ہونے پر کرس گیل کا ساتھ دینے کے لیے سراوان آئے جس کے بعد کرس گیل نے محتاط بیٹنگ چھوڑ کر تیز رفتاری سے رنز بنانا شروع کیے اور ہر اوور میں قریباً دو چوکے لگائے۔ سراوان نے بھی چندرپال کا ساتھ دیا لیکن وہ انیس رنز ہی بنا پائے اور 66 کے مجموعی سکور پر اس وقت آؤٹ ہو گئے جب گیند ان کے بلے کے اندورونی حصے کو چھوتی ہوئی گزری اور وکٹ کیپر برینڈن میکلم نے ایک ہاتھ سے شاندار کیچ لے لیا۔ نیوزی لینڈ کو اگلی بڑی کامیابی اس وقت ملی جب اورم نے کرس گیل کو 44 کے ذاتی سکور پر آؤٹ کیا۔ گیل کی انگز میں آٹھ چوکے شامل تھے۔ کرس گیل کے آؤٹ ہونے کے بعد کھیل پر زیادہ تر نیوزی لینڈ کے بولرز حاوی رہے اور مسلسل وکٹیں لیتے رہے۔ ویسٹ انڈیز کی پانچویں وکٹ اس وقت گری جب شین بونڈ نے بولنگ کا آغاز کیا اور اپنی پہلی ہی گیند پر براوو کو آؤٹ کر دیا۔وہ بھی سیمیولز اور سراوان کی طرح وکٹ کیپر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ انہوں نے اٹھارہ رنز بنائے۔ میچ پر نیوزی لینڈ کی گرفت اس وقت واضح طور پر مضبوط ہو گئی جب سکاٹ سٹائرس نے کپتان برائن لارا کو 37 رنز پر آؤٹ کر دیا۔ لارا کے آؤٹ ہونے پر ویسٹ انڈیز کے آخری کھلاڑیوں کو پورے پچاس اوورز کھیلنے اور ایک مناسب ہدف دینے کا چیلنج درپیش تھا جس میں وہ ناکام رہے۔ سپر 8 مرحلے کا یہ نیوزی لینڈ کا پہلا میچ ہے جبکہ ویسٹ انڈیز اپنا پہلا میچ سے ہار چکا ہے۔ نیوزی لینڈ نے اپنے گروپ کے تینوں میچ جیت لیے تھے لیکن دوسرے مرحلے تک پہنچتے پہنچتے اس کے دو کھلاڑی ڈیرل ٹفی اور لوا ونسنٹ زخمی ہو گئے جن کی جگہ کرس مارٹن اور ہمیش مارشل نے لی۔ ان دونوں کے علاوہ نیوزی لینڈ کے بلے باز روس ٹیلر بھی ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ نہیں کھیلے کیونکہ اب وہ بھی ان فٹ ہوگئے تھے۔ دوسری جانب ویسٹ انڈیز کی ٹیم کو اس میچ میں دقت کا سامنا تھا کیونکہ آسٹیلیا کے خلاف میچ دوسرے دن پر ملتوی ہونے کے باعت وہ مسلسل گزشتہ دو دن سے میدان میں تھے۔ ویسٹ انڈیز: نیوزی لینڈ: امپائرز: روڈی کورٹزن (جنوبی افریقہ)، اسد رؤف( پاکستان) |
اسی بارے میں چندرپال نے آئرلینڈ کو ’روک‘ دیا23 March, 2007 | کھیل ہیڈن کی سینچری، آسٹریلیا کی جیت24 March, 2007 | کھیل انگلینڈ نے کینیا کو آسانی سے ہرا دیا24 March, 2007 | کھیل نیدر لینڈز آٹھ وکٹ سے جیت گیا22 March, 2007 | کھیل بنگلہ دیش’اِن‘ انڈیا ’آؤٹ‘25 March, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||