’انڈین کرکٹ لیگ، خدشات بےجا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان، بھارت اور سری لنکا کے کرکٹ بورڈز کی طرف سے متنازعہ کہے جانے والی انڈین کرکٹ لیگ کے بارے میں پاکستان کے بعض سابق نامور کھلاڑیوں اور کھیل کے منتظمین کا خیال ہے کہ اس سے بین الاقوامی کرکٹ کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ ستر کے عشرے میں ہونے والی کیری پیکر سیریز میں پیش پیش پاکستان کے سابق کپتان آصف اقبال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عام لوگوں سے زیادہ کرکٹ آفیشلز کو یہ فکر لاحق ہو رہی ہے کہ انڈین لیگ انٹرنیشنل کرکٹ کو ہائی جیک کر رہی ہے، جبکہ ایسا نہیں ہے۔ آصف اقبال نے کہا کہ اگر انڈین لیگ کرکٹرز کو ضرورت پڑنے پر ان کے ملک کی طرف سے کھیلنے کی اجازت دیتی ہے، جیسا کہ کاؤنٹی ٹیمیں کرتی ہیں، تو پھر ان کرکٹرز پر پابندی یا ان کے خلاف سخت موقف کا کیا جواز ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ آج کرکٹ میں جتنا بھی پیسہ اور خوشحالی ہے وہ ’کیری پیکر کے انقلاب‘ کی وجہ سے ہے۔ ماضی میں کرکٹ بورڈز مارکیٹنگ سے ناواقف تھے جبکہ پیکر سیریز نے اس کھیل کی کمرشل ویلیو کا احساس بیدار کیا۔ پیکر سیریز کی طرح انڈین لیگ بھی کرکٹرز کو بھاری معاوضے دے رہی ہے جس پر خوش ہونا چاہئے۔
آصف اقبال نے کہا کہ پیکر کرکٹ ہو یا انڈین لیگ اس میں تفریحی عنصر تو ہے لیکن یہ کھیل کی سرکاری حیثیت نہیں ہیں۔ ’چانچہ یہ کس طرح آفیشل کرکٹ کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔‘ پاکستان کے ایک اور سابق اور بعد میں پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو رہنے والے رمیض راجہ بھی کرکٹرز پر لگنے والی ممکنہ پابندی کے خلاف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انڈین لیگ کھیلنے والے کرکٹرز کوان کے بورڈز اپنے سسٹم کی کرکٹ میں نہ کھلائیں، لیکن وہ ان پر تاحیات پابندی کیسے لگاسکتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیف ایگزیکٹیو عارف عباسی کہتے ہیں کہ پابندی لگنے کی صورت میں کرکٹرز عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں، کیونکہ یہ پیشہ ور کرکٹرز ہیں اور انہیں اپنے پیشے سے دور نہیں کیا جاسکتا۔ ’یہ بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے۔‘ عارف عباسی نے کہا کہ کیری پیکر نے جب پاکستانی کرکٹرز سے معاہدے کیے تھے تو انہوں نے اس کے نمائندے لنٹن ٹیلر سے یہ بات منوائی تھی کہ اگر ملک کو ضرورت پڑی تو ان کرکٹرز کو جانے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انڈین لیگ کے کرتا دھرتا کپل دیو سے بھی ان کی بات ہوئی ہے اور وہ بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ ملک کو ضرورت پڑنے پر کھلاڑی کو لیگ سے جانے کی اجازت ہوگی۔ ’ایسے میں اس انڈین لیگ کی مخالفت ان کی سمجھ سے باہر ہے۔‘ |
اسی بارے میں انضمام کو انڈین لیگ کی پیشکش29 July, 2007 | کھیل ’یوسف پاکستانی کرکٹ کیلیے اہم‘23 August, 2007 | کھیل کپل کرکٹ اکیڈمی سے فارغ 21 August, 2007 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||