BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 September, 2007, 14:43 GMT 19:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مزید کمزوری نہیں دکھانی چاہیے‘

شعیب اور آصف
ڈسپلن کی دھجیاں بکھیرنے والے کرکٹر کی ٹیم میں جگہ نہیں ہونی چاہئے
پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹرز نے شعیب اختر کی جانب سے محمد آصف کو بیٹ مارکر زخمی کرنے کے واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو ڈسپلن کے معاملے میں اب مزید کمزوری نہیں دکھانی چاہیے۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر رمیز راجہ نے بی بی سی سےبات کرتے ہوئے کہا کہ شعیب اختر کا کریئر سب کے سامنے ہے، وہ کارکردگی سے زیادہ فیلڈ سے باہر کی حرکتوں کی وجہ سے شہ سرخیوں میں رہے ہیں اور ہر دو تین ماہ کے بعد کوئی نہ کوئی تنازعہ سامنے آہی جاتا ہے۔

رمیز راجہ نے کہا کہ شائقین انہیں ہمیشہ معاف کرتے رہے ہیں اور پاکستان کرکٹ بورڈ بھی ان سے نرمی برتتے ہوئے یوٹرن لیتا رہا ہے۔ رمیز کے بقول حال ہی میں ان پر عائد کیا گیا جرمانہ صرف اس لئے معاف کیا گیا کہ کہیں وہ انڈین لیگ میں نہ چلے جائیں۔

رمیز راجہ کے مطابق اس واقعے نے پاکستانی ٹیم کو ایک بار پھر مشکل میں ڈال دیا ہے اور سب کی توجہ پاکستانی ٹیم کی طرف ہوگئی ہے اس واقعے سےماحول خراب ہوگیا ہے۔ رمیز راجہ اس سلسلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ اور منیجمنٹ کو بھی برابر کا قصوروار سمجھتے ہیں۔

ڈسپلن پر سمجھوتہ
 کئی ٹیموں میں بڑے بڑے کھلاڑی موجود ہیں لیکن ان کے کرکٹ بورڈز نے ڈسپلن کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کر رکھا
جاوید میانداد

سابق کپتان جاوید میانداد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شعیب اختر کھیلے بغیر ہی منفی پبلسٹی حاصل کرتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کی کمزوری کا کرکٹرز فائدہ اٹھاتے آئے ہیں لیکن یہ سلسلہ اب بند ہوجانا چاہیے۔

جاوید میانداد نے کہا کہ شعیب اختر پر عائد کیے جانے والے جرمانے کو ہٹانے کا کوئی جواز نہ تھا۔

’ کئی ٹیموں میں بڑے بڑے کھلاڑی موجود ہیں لیکن ان کے کرکٹ بورڈز نے ڈسپلن کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کر رکھا ہے لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کی باگ ڈور اب ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جو اپنے مفاد کا ہی سوچ رہے ہیں اور انہوں نے کرکٹ کو تباہ کردیا ہے۔‘

سابق کپتان وقار یونس کے خیال میں ڈسپلن کی دھجیاں بکھیرنے والے کرکٹر کی ٹیم میں جگہ نہیں ہونی چاہئے۔

اسی بارے میں
شعیب اختر، محمد آصف بری
05 December, 2006 | کھیل
شعیب اختر پھر ان فٹ
18 May, 2004 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد