شعیب اختر پھر ان فٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے فاسٹ بولر شعیب اختر دوبارہ پسلی کی تکلیف میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ انہوں نے جو ایم آر آئی کرایا ہے اس کی رپورٹ کے مطابق ان کی گیارہویں پسلی میں بدستور اسٹریس فریکچر کے آثار موجود ہیں جس سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ ان کی انجری جعلی یا خود ساختہ نہیں تھی۔ دوسری جانب ڈرہم کاؤنٹی کے حکام اس بات پر ناراض ہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو جب یہ پتہ تھا کہ شعیب اختر فٹ نہیں ہیں اور ان کے لئے میڈیکل کمیشن تشکیل دیا گیا تو انہوں نے فاسٹ بولر کی رپورٹس کے بارے میں انہیں بروقت مطلع کیوں نہیں کیا؟ شعیب اختر اسوقت انگلینڈ میں ڈرہم کاؤنٹی کی نمائندگی میں مصروف ہیں انہوں نے پہلے چار روزہ اور پھر ایکروزہ میچ میں عمدہ بولنگ اور بیٹنگ سے اپنی کاؤنٹی کو کامیابی سے ہمکنار کیا لیکن اسی دوران انہیں پھر وہی تکلیف ہوگئی جس کی وجہ سے وہ پنڈی ٹیسٹ میں بھارتی اننگز کے دوران فیلڈ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے پاکستان کرکٹ بورڈ نے میڈیکل کمیشن مقرر کرکے حقائق معلوم کرنے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ پاکستان ٹیم کے کپتان انضمام الحق اور ٹیم منیجمنٹ نے ان فٹ ہونے کے بعد بولنگ نہ کرنے اور بیٹنگ کرنے پر شعیب اختر کے بارے میں حیرانگی ظاہر کی تھی ۔ منگل کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شعیب اختر نے کہا کہ انگلینڈ پہنچ کر ان کا ارادہ آرام کرنے کا تھا لیکن کاؤنٹی کے چاروں بولر ان فٹ ہوگئے تھے جس کی وجہ سے انہیں میچ کھیلنا پڑا ۔ موجودہ صورتحال کے بارے میں راولپنڈی ایکسپریس کا کہنا ہے کہ وہ تازہ ترین ایم آر آئی کے بعد ایک ہفتے آرام کرینگے جس کے بعد ایک ون ڈے میچ کھیلیں گے اور پھر دس روز آرام کرینگے ۔ شعیب اختر کا کہنا ہے کہ ڈرہم کو ان کے وقفے وقفے سے کھیلنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ شعیب اختر کے لئے یہ بات تقویت کا باعث ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ) توقیرضیاء نے ان کا بھرپور انداز میں دفاع کیا ہے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیرمین نےالزام لگایا کہ موجودہ بورڈ کے حکام شعیب اختر کا معاملہ صحیح طور نہیں نمٹا رہے۔ اس نے کہا کہ شعیب اختر میچ ونر ہے اسے ڈرا دھمکا کر نتائج حاصل نہیں کئے جاسکتے ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||