’میں سمجھا مذاق میں بلا اٹھایا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر محمد آصف کا کہنا ہے کہ وہ سمجھ رہے تھے کہ شعیب اختر نے انہیں مذاقاً ڈرانے کے لئے بلا اٹھایا ہے لیکن انہیں اتنی ہی قوت سے ان کی بائیں ران پر بلا مارا جس قوت سے بیٹسمین چھکا لگاتا ہے۔ محمد آصف نے بی بی سی کو انٹرویو میں شعیب اختر کے ہاتھوں زخمی ہونے کے واقعے کی تفصیل بتائی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سنچورین میں ٹیم کی پریکٹس کے بعد وہ سب سے پہلے ڈریسنگ روم میں آئے تھے ان کے پیچھے شعیب اختر اور شاہد آفریدی باتیں کرتے ہوئے آ رہے تھے اور انہیں نہیں پتہ کہ وہ کیا کہہ رہے تھے لیکن ڈریسنگ روم میں جب وہ باتھ روم سے باہر آئے تو انہوں نے شاہد آفریدی کو شعیب اختر سے یہ کہتے سنا کہ آپ جونیئر کھلاڑیوں سے اپنا رویہ اچھا رکھیں کیونکہ ایسا نہ کرنے کی وجہ سے آپ کی عزت اور احترام ختم ہوتا جارہا ہے یہ کہہ کر شاہد آفریدی نے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا آصف سے ہی پوچھ لیں۔ آصف نے کہا کہ اس موقع پر وہ کوئی جواب دینے کے بجائے مسکرا دیے کیونکہ شعیب اختر اور شاہد آفریدی میں کوئی لڑائی جھگڑا تو ہو نہیں رہا تھا مذاق میں بات ہو رہی تھی لیکن شعیب اختر نے اچانک بیٹ اٹھاکر پوری طاقت سے ان کی بائیں ران پر دے مارا۔
محمد آصف نے کہا کہ پہلے تو وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ شعیب اختر نے مذاق میں انہیں ڈرانے کے لیے بیٹ اٹھایا ہے لیکن انہیں اب بھی دکھ ہے کہ شعیب اختر نے ان کے ساتھ ایسا کیا کیونکہ وہ شعیب اختر کی بہت عزت کرتے ہیں اور ہمیشہ انہیں شعیب بھائی کہہ کر پکارتے ہیں۔ آصف کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد شعیب اختر صرف ایک مرتبہ ان کے کمرے میں آئے اور معافی مانگی جس کے بعد انہیں وطن واپس بھیج دیا گیا۔ محمد آصف نے کہا کہ وہ اب مکمل فٹ ہیں اور انہوں نے سری لنکا کے خلاف وارم اپ میچ میں بولنگ بھی کی ہے اور وہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے تیار ہیں۔ | اسی بارے میں ’جھگڑا آفریدی سے ہوا تھا‘08 September, 2007 | کھیل ڈوپ ٹیسٹ: شعیب، آصف کلیئر04 August, 2007 | کھیل جارحانہ سوچ اچھی بات ہے: شعیب23 August, 2007 | کھیل شعیب اختر کے خلاف سزا معطل21 August, 2007 | کھیل جرمانے کے خلاف شعیب کی اپیل13 August, 2007 | کھیل ٹیم کا بھی فائدہ، میرا بھی: آصف14 July, 2007 | کھیل آصف کو دس کروڑ کی پیشکش19 August, 2007 | کھیل شعیب، آصف کے ٹیسٹوں کی مخالفت17 January, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||