BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جھگڑا آفریدی سے ہوا تھا‘

کوئی سخت کاروائی کی گئی تواور آپشنز بھی ہیں: شعیب اختر
پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر شعیب اختر کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ میں ہونے والے ناخِوش گوار کے واقعہ کے ذمہ دار شاہد آفریدی ہیں۔

انہوں نے ڈیفنس کے علاقے میں ایک گھر کے پورچ میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ جنوبی افریقہ میں شاہد آفریدی نے پریکٹس کے بعد ان کے خاندان کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی تھی جس پر وہ اشتعال میں آگئے اور ان کی ہاتھا پائی ہو گئی۔ انہیں چھڑانے کے لیے محمد آصف بیچ میں آ گئے اور غلطی سے بیٹ ان کو لگ گیا۔

شعیب اختر نے کہا کہ وہ آصف کو مارنا نہیں چاہتے تھے لیکن اس وقت وہ بہت غصے میں تھے اور غلطی سے آصف کو بیٹ لگ گیا۔ انہوں نے کہا کہ ’آصف میرا چھوٹا بھائی ہے اور ڈوپنگ کے سلسلے میں میں نے اس کی بہت مدد کی تھی میں اسے کیوں ماروں گا۔‘

شعیب نے فرانس کے فٹ بال کے کھلاڑی زین الدین زیدان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تو ورلڈ کپ کے فائنل میں دوسری ٹیم کے کھلاڑی کی جانب سے ماں بہن کے خلاف نازیبا زبان پر ٹکر مار دی تھی ۔

شعیب اختر نے کہا کہ کوئی شخص ایسی بات برداشت نہیں کرتا چاہے وہ مذاق ہی میں کیوں نہ کہی گئی ہو۔

آصف میرا چھوٹا بھائی ہے، میں اسے کیوں ماروں گا: شعیب اختر

شعیب اختر نے مزید کہا کہ واقعے کے کچھ دیر کے بعد یہ خبر ٹی وی پر آ رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ خبر اتنی جلدی کیسے آ گئی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ خبر آنے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو ان کے خلاف ایکشن لینا پڑا اور ان کو واپس بھیج دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کیا دنیا کی ہر ٹیم کے کھلاڑیوں کے آپس میں جھگڑے ہوتے ہیں لیکن ان کو اتنا نہیں اچھالا جاتا۔انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا انڈین ٹیم میں گنگولی اور چیپل کے درمیان جھگڑے پر ایک ای میل کے منظر عام پر آنے سے انڈین ٹیم کو خمیازہ بھگتنا پڑا۔

شعیب اختر نے کہا کہ ان کے آنےسے اگر ٹیم کو نقصان پہنچےگا تو ان کو بہت افسوس ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس وجہ سے محمد آصف اور ٹیم کے باقی ممبران سے اور جن لوگوں کو ان کے آنے سے دکھ ہوا ہے معذرت خواہ ہیں۔

شعیب اختر نے کہا کہ وہ ملک کے لیے کھیلنا چاہتے ہیں اور وہ فٹ ہیں اور جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ پی سی بی کے ارباب اختیار سے مل کر انہیں تمام حقائق بتانا چاہتے ہیں اور وہ شاہد آفریدی کے خلاف بھی بورڈ سے باضابطہ شکایت بھی کریں گے۔

 ڈوپنگ کی تحقیق کرنے والی کمیٹی کے سربراہ شاہد حامد نےمیرے خلاف فیصلہ دے کر میری کرکٹ کو تباہ کرنے کی کوشش کی تھی اور اس فیصلے سے شاہد حامد شہرت حاصل کرنا چاہتے تھے
شعیب اختر

شعیب اختر نے کہا کہ ان کے خلاف زندگی بھر کی پابندی کی بات درست نہیں۔ ان کی پاکستان کے لیے بہت خدمات ہیں اور انہوں نے ہمیشہ پیسے پر ملک کو ترجیح دی ہے اور وہ ملک کے لیے کھیلنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ان کے خلاف کوئی سخت کاروائی کی گئی تو ان کے پاس اور آپشنز بھی ہیں جن میں انڈین لیگ کا آپشن بھی ہے تاہم ان کے بقول انہوں نے انڈین لیگ کی جانب سے دی گئی کافی بڑی پیشکش کو ملک کے لیے ٹھکرا دیا۔

پی سی بی نے ڈوپنگ کمیٹی کے خلاف بیان دینے پر بھی شعیب کے خلاف ڈسپلنری ایکشن کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پر شعیب نے کہا کہ وہ اپنی بات پر قائم ہیں اور جمہوریت کے تحت ان کو بات کرنے کا پورا حق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈوپنگ کی تحقیق کرنے والی کمیٹی کے سربراہ شاہد حامد نے ان کے خلاف فیصلہ دے کر ان کی کرکٹ کو تباہ کرنے کی کوشش کی تھی اور اس فیصلے سے شاہد حامد شہرت حاصل کرنا چاہتے تھے اس لیے انہوں نے ان کے خلاف بات کی۔

شعیب اختر نے کہا کہ وہ چونکہ ایک مشہور آدمی ہیں اس لیے انہیں غیر ضروری طور پر تنازعات میں الجھایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ذرائع ابلاغ بھی ان کے خلاف بے بنیاد خبریں بناتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد