دورۂ بھارت: کرکٹ کے علاوہ سب کچھ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہت کم ایسا ہوا ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم بھارت جائے اور وہ دورہ کسی تنازعے یا کسی چونکادینے والی خبر کے بغیر خیر و خیریت سے گزرجائے، ورنہ کوئی نہ کوئی تنازعہ سائے کی طرح اس کے ساتھ ساتھ لگا رہا ہے۔ موجودہ دورہ بھی اس سے مختلف نہیں جس میں کرکٹ کے علاوہ سب کچھ نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔ ایک اہم دورہ ہونے کے پیش نظر کھلاڑیوں کی تمام تر توجہ صرف اور صرف کرکٹ پر مرکوز ہونی چاہئے تھی لیکن بھارت پہنچتے ہی کھلاڑیوں کی توجہ کرکٹ کے ساتھ ساتھ دیگر سماجی اور ثقافتی سرگرمیوں کی طرف مرکوز ہوگئی اور انہوں نے مختلف ٹی وی چینلز اور اخبارات سے بھاری معاوضوں پر معاہدے کر کے پیسہ کمانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کرکٹ پس منظر میں چلی گئی اور دیگر معاملات ابھر کر سامنے آگئے۔ دورے کی ابتدا سے ہی فلمی دنیا اور دیگر تقریبات میں پاکستانی کرکٹرز کی شرکت بھارتی میڈیا کی سب سے پسندیدہ خبر رہی۔ پاکستانی ٹیم اپنی کرکٹ کی خصوصیات کو اجاگر کرنے کے بجائے اس دورے میں فلموں ’اوم شانتی اوم‘ اور ’سانوریا‘ میں غیرمعمولی دلچسپی لیتی نظر آئی۔
شعیب اختر پورے دورے میں نائٹ کلبس جانے کی خبروں اور تصویروں کی زد میں بھی رہے ہیں، یہ سب کچھ بھارتی میڈیا شہ سرخیوں میں شائع کرتا رہا ہے۔ پاکستانی ٹیم منیجمنٹ اسے بھارتی میڈیا کی منفی سوچ قرار دیتی ہے لیکن اپنے کرکٹرز کو اس نے اس مبینہ منفی سوچ والے میڈیا سے دور رکھنے کے بجائے اس کے قریب جانے کا پورا پورا موقع فراہم کیا۔ پاکستانی کرکٹرز شعیب ملک، شعیب اختر، یونس خان، محمد یوسف اور کوچ جیف لاسن اس دورے میں اخباری کالم بھی لکھ رہے ہیں جس کی انہیں اجازت دی گئی ہے لیکن انہیں اس بات کا پابند نہیں رکھا گیا ہے کہ کیا لکھنا ہے اور کیا نہیں لکھنا۔ یہ سینڈیکٹ کالم ہیں لیکن کیا یہ کالم شائع ہونے سے قبل ٹیم منیجر کو دکھائے جاتے ہونگے یہ کہنا مشکل ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو یونس خان کا یہ کالم کبھی بھی شائع نہ ہوتا جس میں انہوں نے کولکتہ ٹیسٹ میں ٹیم سلیکشن پر عدم اطمینان ظاہر کیا تھا اور یہ واضح کردیا تھا کہ بہت سے فیصلے ان کے نہیں تھے کیونکہ انہیں میچ کی صبح بتایا گیا کہ وہ کپتانی کرنے والے ہیں۔ اپنے کالم میں یونس خان نے یہ بھی لکھا تھا کہ اگر وہ کیے گئے فیصلوں کا حصہ ہوتے تو اس میں ان کی مرضی بھی جھلک رہی ہوتی۔ یونس خان کے چند روز پہلے کے اس کالم سے یہ بات باآسانی سمجھ میں آجاتی ہے کہ وہ قیادت سے خوش نہیں اور اب جب وہ بنگلور ٹیسٹ میں کپتانی سے انکار کی خبر کی تردید کر رہے ہیں تو ان کی یہ تردید آسانی سے ہضم نہیں ہوتی۔
کوئی بھی دورہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعلی حکام اور ان کے اہل خانہ کی وہاں موجودگی کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ بھارتی دورے میں بھی پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعلی افسران اور ان کی فیملیز کی موجودگی کے بارے میں خبریں اخبارات کی زینت بنیں لیکن ساتھ ہی متبادل کھلاڑیوں کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی عدم دلچسپی واضح طور پر سامنے آئی۔ ون ڈے سیریز کے بعد راؤ افتخار کو وطن واپس بھیج دیا گیا لیکن جب عمرگل اور شعیب اختر کے ان فٹ ہونے کے بعد متبادل کھلاڑی کو بھارت بھیجنے کا وقت آیا تو پتہ چلا کہ یاسر عرفات کو روانہ کرنا پڑا کیونکہ وہی ایک ایسے بولر تھے جن کا بھارت کا ویزا لگا ہوا تھا جنہیں فوری طور پر بھارت بھیجا جاسکتا تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت کے انتہائی اہم دورے اور پاکستانی بولرز کی فٹنس تاریخ کو دیکھتے ہوئے کیا پیش بندی کے طور پر تین چار ریزرو بولرز کے ویزے پہلے سے نہیں لگوائے جاسکتے تھے کہ وقت پڑنے پر ان میں سے کسی کو روانہ کیا جاسکے۔ یہ کام تاخیر سے ہوا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ میں اب اتنے زیادہ افسران ہوگئے ہیں کہ ان کے لئے قذافی اسٹیڈیم کے کمرے کم پڑنے لگے ہیں لیکن ہر کام کے لئے افسران کی نگاہیں چیئرمین پر مرکوز رہتی ہیں کیونکہ یہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی روایت رہی ہے کہ چیئرمین ہی طاقت کا محور ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ چیئرمین بہت زیادہ مصروف آدمی ہیں اور ان کا کام صرف کرکٹ پر نظر رکھنا تو نہیں ہے۔ انہیں ملک کے صدر کا امیج بڑھانے کے لئے امریکہ بھی جانا پڑتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||