شعیب کا معاملہ سینیٹ کے سامنے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فاسٹ بالر شعیب اختر پر پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے پانچ سالہ پابندی کے فیصلے پر آج اسلام آباد میں سینٹ کی کھیلوں سے متعلق قائمہ کمیٹی میں گرما گرم بحث ہوئی۔ شیعب اختر کے علاوہ بورڈ کے چیرمین اور دیگر اہلکار بھی کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ سینٹ کی کھیلوں سے متعلق قائمہ کمیٹی نے تقریباً تین گھنٹے تک اس موضوع پر بحث کی جس میں فریقین کے بیانات سنے گئے۔ اپنے بیان میں شیعب اختر نے بورڈ پر انہیں غیر ضروری طور پر نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس بورڈ اہلکاروں کی مبینہ ویڈیو فلمیں ہیں جو غیر ملکی دوروں میں راتیں ہوٹل سے باہر گزارنے سے متعلق ہیں۔ پاکستان ٹیم کے دو کھلاڑیوں کے نام نہ بتاتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ دلی میں میچ کے دوران ان کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے کمرے سے لڑکی بھی برآمد ہوئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کے کئی کھلاڑی شراب پیتے ہیں لیکن انہیں ہی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ ان کا اصرار تھا کہ اگر بچہ خراب ہو تو اسے گھر سے نہیں نکال دیا کرتے۔ کمیٹی کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ عوام اور میڈیا کی حمایت کے شکرگزار ہیں اور چاہتے کہ کہ ٹیم میں واپس آکر ملک کو جتائیں۔ اجلاس کے دوران بورڈ کے چئیرمین نسیم اشرف نے اپنے فیصلے اور اقدامات کا دفاع کیا۔ تاہم کمیٹی کے سینٹر انور بیگ کی جانب سے ان پر مسلسل تابڑ توڑ حملے جاری رہے۔ کمیٹی کے چئیرمین سینٹر ظفر اقبال چوہدری نے شیعب کی اپیلٹ ٹرائبیونل کے سامنے دائر اپیل کا فیصلہ سامنے آنے تک انتظار پر زور دیا۔ تاہم پی سی بی کے چئیرمین سے کہا کہ انہیں اس معاملے میں میڈیا میں نہیں آنا چاہیے تھا۔ |
اسی بارے میں شعیب اختر پر پانچ برس کی پابندی01 April, 2008 | کھیل شعیب کو 20 کروڑ ہرجانے کے نوٹس03 April, 2008 | کھیل پابندی کے خلاف شعیب کی اپیل04 April, 2008 | کھیل ’بورڈ اور چئرمین کا احترام کرتا ہوں‘04 April, 2008 | کھیل پاکستان کرکٹ بورڈ کا اجلاس ملتوی11 April, 2008 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||