BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 April, 2008, 10:22 GMT 15:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شعیب پر پابندی غیر قانونی: وکلاء

شعیب اختر
اگر کرکٹ بورڈ کے قانون میں پانچ سال کی پابندی کی سزا نہیں ہے تو یہ سزا نہیں دی جا سکتی
پنجاب کے سابق ایڈوکیٹ جنرل اور نامور ماہرِ قانون اشتر اوصاف علی کا کہنا ہے کہ اگر فاسٹ بالر شعیب اختر پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے دی گئی سزا کے خلاف کسی عدالت سے رجوع کرتے ہیں تو قوانین کی بنیاد پر ان کی سزا برقرار نہیں رہے گی۔

اشتر اوصاف علی کا کہنا ہے کہ سزا یا جزا کا علم کسی بھی شخص کو پہلے سے ہونا چاہیے کہ وہ جو عمل کرنے جا رہا ہے اس کی کتنی جزا ہے اور کتنی سزا۔

انہوں نے کہا کہ اگر کرکٹ بورڈ کے قانون میں یہ درج نہیں کہ بورڈ کے خلاف یا اس کے کسی افسر کے خلاف بات کرنے سے سزا پانچ سال کی پابندی ہے تو یہ سزا نہیں دی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ اگر سزا کسی کمیٹی کی صوابدید پر ہے جیسا کہ کرکٹ بورڈ کا دعویٰ ہے کہ وہ سزا دینے کا اختیار رکھتا ہے تب بھی وہ اتنی ہی سزا دے سکتا ہے جتنا بڑا جرم ہو۔

اشتر اوصاف علی نے زور دیا کہ اس صورت میں بھی شعیب اختر کو جو سزا دی گئی ہے وہ ان کی خطا سے کہیں زیادہ ہے اور اس پر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے بے شمار فیصلے ہیں کہ سزا اور خطا کا آپس میں ربط ہونا ضروری ہے۔

اشتر اوصاف علی
شعیب اختر کو جو سزا دی گئی ہے وہ ان کی خطا سے کہیں زیادہ ہے: اشتر اوصاف علی

قانونی ماہر کے مطابق ’شعیب اختر پر جو تازہ الزام تھا جس پر یہ کمیٹی بٹھائی گئی وہ بورڈ کے خلاف بیان دینا تھا۔ بورڈ نے خود ہی اپنے متعلق طے کر لیا کہ ہمارے خلاف بات ہے اور جج بھی خود ہی بن گئے اور فیصلہ بھی سنا دیا اور فیصلے پر عمل درآمد بھی خود ہی کر لیا۔ یہ تمام عمل قانون قدرت کے خلاف ہے‘۔

ایک اور ماہرِ قانون لاہور ہائی کورٹ بار کے سابق سیکرٹری عابد ساقی کا کہنا ہے کہ اس تمام سلسلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ ایک حریف ہے اور اس نے خود ہی کھلاڑی کے احتجاج کو نظم و ضبط کی خلاف ورزی قرار دے دیا۔

عابد ساقی کا کہنا تھا کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کرکٹ بورڈ کے گورننگ بورڈ کے اراکین کی کمیٹی بنانے کی بجائے کوئی آزاد ٹریبونل قائم کیا جاتا جو اس معاملے کا جائزہ لے کر اس پر فیصلہ دیتا۔ انہوں نے کہا کہ جب کسی عمل کی سزا پہلے سے تجویز کردہ نہ ہو تو اس پر سزا نہیں دی جا سکتی۔

ان کا کہنا ہے کہ بورڈ کے خلاف بات کرنے پر پانچ سال کی پابندی کی سزا قانون کے منافی ہے اور کرکٹ بورڈ کو کسی کھلاڑی کو ایسی سزا دینے کا حق اور اختیار نہیں ہو سکتا۔ عابد ساقی نے کہا کہ اگر شعیب اختر اس کے خلاف اپیل کرتے ہیں یا کسی عدالت میں جاتے ہیں تو یہ سزا قائم نہیں رہ سکتی۔

کرکٹ نہیں چھوڑ رہا
فلموں کے لیے کرکٹ نہیں چھوڑ رہا: شعیب اختر
شعیب اختر’شعیب کا مستقبل‘
کیا ہوگا کیا نہیں ہوگا؟ سینئر کھلاڑیوں کی رائے
شعیب اختر متنازع شعیب اختر
شعیب کے تنازعے اور ہنگامے تب سے اب تک
شعیباوول سے قبل۔۔۔۔
شعیب انگلینڈ کی دیہاتی ٹیم میں کھیلیں گے
شیعب اخترشیعب کی واپسی
شیعب تیسرے ٹیسٹ میں حصہ لینےکیلیے تیار
 فاسٹ بالر شعیب اخترگھٹنوں کا کھیل
وہ کھلاڑی جنہیں ان کے گھٹنے لے بیٹھے
اسی بارے میں
شعیب کنٹریکٹ سے محروم
25 January, 2008 | کھیل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد