شعیب پر پابندی غیر قانونی: وکلاء | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے سابق ایڈوکیٹ جنرل اور نامور ماہرِ قانون اشتر اوصاف علی کا کہنا ہے کہ اگر فاسٹ بالر شعیب اختر پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے دی گئی سزا کے خلاف کسی عدالت سے رجوع کرتے ہیں تو قوانین کی بنیاد پر ان کی سزا برقرار نہیں رہے گی۔ اشتر اوصاف علی کا کہنا ہے کہ سزا یا جزا کا علم کسی بھی شخص کو پہلے سے ہونا چاہیے کہ وہ جو عمل کرنے جا رہا ہے اس کی کتنی جزا ہے اور کتنی سزا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کرکٹ بورڈ کے قانون میں یہ درج نہیں کہ بورڈ کے خلاف یا اس کے کسی افسر کے خلاف بات کرنے سے سزا پانچ سال کی پابندی ہے تو یہ سزا نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اگر سزا کسی کمیٹی کی صوابدید پر ہے جیسا کہ کرکٹ بورڈ کا دعویٰ ہے کہ وہ سزا دینے کا اختیار رکھتا ہے تب بھی وہ اتنی ہی سزا دے سکتا ہے جتنا بڑا جرم ہو۔ اشتر اوصاف علی نے زور دیا کہ اس صورت میں بھی شعیب اختر کو جو سزا دی گئی ہے وہ ان کی خطا سے کہیں زیادہ ہے اور اس پر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے بے شمار فیصلے ہیں کہ سزا اور خطا کا آپس میں ربط ہونا ضروری ہے۔
قانونی ماہر کے مطابق ’شعیب اختر پر جو تازہ الزام تھا جس پر یہ کمیٹی بٹھائی گئی وہ بورڈ کے خلاف بیان دینا تھا۔ بورڈ نے خود ہی اپنے متعلق طے کر لیا کہ ہمارے خلاف بات ہے اور جج بھی خود ہی بن گئے اور فیصلہ بھی سنا دیا اور فیصلے پر عمل درآمد بھی خود ہی کر لیا۔ یہ تمام عمل قانون قدرت کے خلاف ہے‘۔ ایک اور ماہرِ قانون لاہور ہائی کورٹ بار کے سابق سیکرٹری عابد ساقی کا کہنا ہے کہ اس تمام سلسلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ ایک حریف ہے اور اس نے خود ہی کھلاڑی کے احتجاج کو نظم و ضبط کی خلاف ورزی قرار دے دیا۔ عابد ساقی کا کہنا تھا کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کرکٹ بورڈ کے گورننگ بورڈ کے اراکین کی کمیٹی بنانے کی بجائے کوئی آزاد ٹریبونل قائم کیا جاتا جو اس معاملے کا جائزہ لے کر اس پر فیصلہ دیتا۔ انہوں نے کہا کہ جب کسی عمل کی سزا پہلے سے تجویز کردہ نہ ہو تو اس پر سزا نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا ہے کہ بورڈ کے خلاف بات کرنے پر پانچ سال کی پابندی کی سزا قانون کے منافی ہے اور کرکٹ بورڈ کو کسی کھلاڑی کو ایسی سزا دینے کا حق اور اختیار نہیں ہو سکتا۔ عابد ساقی نے کہا کہ اگر شعیب اختر اس کے خلاف اپیل کرتے ہیں یا کسی عدالت میں جاتے ہیں تو یہ سزا قائم نہیں رہ سکتی۔ |
اسی بارے میں شعیب کنٹریکٹ سے محروم25 January, 2008 | کھیل پی سی بی کا نیا آئین مکمل21 September, 2007 | کھیل آصف کی پٹائی پر شعیب کی چھٹی 07 September, 2007 | کھیل شعیب کو تین لاکھ روپے جرمانہ08 August, 2007 | کھیل شعیب اختر بھی کیمپ سے باہر04 August, 2007 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||