BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 September, 2007, 13:26 GMT 18:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پی سی بی کا نیا آئین مکمل

نسیم اشرف
نئے آئین میں چیئرمین کے اختیارات کو کم کر دیا گیا ہے: نسیم اشرف
پاکستان کرکٹ بورڈ کا نیا آئین جو کئی سال سے بن رہا تھا آخر کار مکمل ہوا اور اس کا نوٹیفکیشن جمعہ 21 ستمبر کو جاری کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر نسیم اشرف نے کہا کہ وزارت قانون نے نئے آئین کی منظوری دے دی ہے اور نوٹیفکیشن کے بعد دس سے پندرہ دن تک نئے آئین کے مطابق تمام معاملات طے پایا کریں گے۔

ہمیشہ کی طرح اس آئین کے مطابق بھی پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی نامزدگی صدر پاکستان، جو کہ بلحاط عہدہ پی سی بی کے پیٹرن ہوتے ہیں، کریں گے۔ تاہم گزشتہ آئین کے بر عکس خزانچی اور بورڈ کے سیکرٹری کی تقرری چیئرمین پی سی بی کیا کریں گے۔

ڈاکٹر نسیم اشرف نے کہا کہ نئے آئین کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملات چلانے کے لیے ایک پندرہ رکنی گورنگ بورڈ ہوگا۔

اس گورننگ بورڈ کے پانچ ممبران ریجنل ایسوسی ایشنز کے صدر ہوں گے۔ یہ ارکان ملک کی گیارہ ریجنل ایسوسی ایشنز سے ہوں گے جو کہ باری باری دو سال کے لیے روٹیشن کی بنیاد پر گورننگ بورڈ میں شامل ہوں گے۔

گورننگ بورڈ کا ایک رکن اداروں کی نمائندگی کرے گا جن میں پی آئی اے، حبیب بینک، نیشنل بینک وغیرہ شامل ہیں۔

اختیارات اور رائے شماری
 ڈاکٹر نسیم اشرف کا دعویٰ ہے کہ نئے آئین میں چیئرمین کے اختیارات کو کم کر دیا گیا ہے۔ اب تمام فیصلے گورننگ بورڈ کرے گا اور تمام اہم معاملات پر رائے شماری بھی ہوگی۔

نئے آئین کے مطابق گورنگ بورڈ میں دو سابق کرکٹرز کو بھی شامل کیا جائے گا۔
چھ رکن ٹیکنو کریٹس ہوں گے جن کی نامزدگی پی سی بی کے پیٹرن چیئرمین کے مشورے سے کریں گے جبکہ پندرھویں رکن خود چیئرمین ہوں گے۔

ڈاکٹر نسیم اشرف کا دعویٰ ہے کہ نئے آئین میں چیئرمین کے اختیارات کو کم کر دیا گیا ہے۔ اب تمام فیصلے گورنگ بورڈ کرے گا اور تمام اہم معاملات پر رائے شماری بھی ہوگی۔

پی سی بی کے چیئرمین نے کہا کہ شعیب اختر پر لگے الزامات کا جائزہ لینے کے لیے ڈسپلینری کمیٹی ایک ہفتے تک کارروائی شروع کر دے گی اور اس وقت تک ٹیم بھی جنوبی افریقہ سے واپس پہنچ جائے گی اور تمام ضروری شہادتیں اکٹھی کی جا سکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ڈسپلینری کمیٹی یہ جائزہ بھی لے گی کہ جنوبی افریقہ میں شعیب اختر اور محمد آصف کے واقعے کی اطلاع میڈیا کو کس نے دی۔

انہوں نے کہا کہ شعیب اختر کا فیصلہ کارروائی شروع ہونے کے ایک ہفتے کے بعد سنا دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں محمد یوسف کا یہ بیان پڑھ کر خوشی ہوئی ہے کہ پاکستان کے لیے کھیلنا ان کی پہلی ترجیح ہے اور انہیں امید ہے کہ جب ان سے محمد یوسف کی ملاقات ہوگی تو وہ ان کو کھیلنے کے لیے راضی کرلیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد