BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 26 August, 2007, 12:56 GMT 17:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پی سی بی آئین: ’ہم رکاوٹ نہیں‘

جسٹس (ریٹائرڈ) ملک محمد قیوم (فائل فوٹو)
جسٹس قیوم کا کہنا تھا کہ ’ہماری طرف سے کوئی تاخیر نہیں ہے اور نہ ہی ہوگی‘
اٹارنی جنرل آف پاکستان جسٹس (ریٹائرڈ) ملک محمد قیوم نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے آئین کے نفاذ میں تاخیر اٹارنی جنرل آفس کی وجہ سے نہیں ہوئی۔

انہوں نے سابق اٹارنی جنرل کے دفتر سے جاری ہونے والے اس خط کی بھی تائید کی جس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف کے ان بیانات کو سختی سے مسترد کردیا گیا ہے جن میں وہ آئین کے نفاذ میں تاخیر کا ذمہ دار اٹارنی جنرل کے دفتر کو قرار دیتے آئے ہیں۔

اٹارنی جنرل جسٹس (ریٹائرڈ) ملک محمد قیوم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ بورڈ کے آئین کا مسودہ نہ جانے کتنے لوگوں کے پاس ہوگا البتہ انہوں نے اپنی فائل چیک کی ہے جس میں مسودے کی کاپی ملی ہے لیکن اس پر کسی نے ان سے بات یا مشاورت نہیں کی اور نہ ہی سابق اٹارنی جنرل سے کسی نے کی تھی۔ انہیں یہ ضرور معلوم ہے کہ ایک میٹنگ ہونی تھی جو ابھی تک نہیں ہوئی۔

جسٹس (ریٹائرڈ) ملک محمد قیوم نے کہا کہ انہوں نے خود ڈاکٹر نسیم اشرف سے رابطے کی کوشش کی لیکن وہ ملک میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’ہماری طرف سے کوئی تاخیر نہیں ہے اور نہ ہی ہوگی‘۔

جسٹس (ریٹائرڈ) ملک محمد قیوم سے جب سابق اٹارنی جنرل کے دفتر کے ایک خط کی بابت پوچھا گیا جس میں ڈاکٹر نسیم اشرف کے بیانات پر شدید ردعمل ظاہر کیا گیا ہے تو انہوں نے کہا کہ اس خط میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ بالکل درست ہے۔

واضح رہے کہ ہفتے کو سینٹ کی سپورٹس سے متعلق سٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے تمام سٹاف کی تنخواہوں کی فہرست کے ساتھ ساتھ اس خط کی کاپی بھی جاری کی گئی جو اٹارنی جنرل آف پاکستان کے دفتر سے20 مئی2007 کو لکھا گیا ہے۔

فائل فوٹو
کرکٹ بورڈ گزشتہ آٹھ سال سے ایڈہاک ازم پر چل رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں پی سی بی کے آئین کے نفاذ کا مطالبہ شدت اختیار کرچکا ہے لیکن بورڈ کے سابق سربراہ شہریار خان اور موجودہ چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف کئی بار تاریخ دینے کے باوجود آئین نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں

اس خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین گزشتہ کئی ماہ سے اپنے بیانات میں یہ الزام عائد کرتے آئے ہیں کہ پی سی بی کے آئین کے سلسلے میں تاخیر اٹارنی جنرل آف پاکستان کے دفتر میں ہورہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پی سی بی کا آئین اٹارنی جنرل کے دفتر ضروری کارروائی کے لیے بھیجا ہی نہیں گیا تھا۔ صرف ایک مرتبہ اس پر کمنٹس کرکے چوبیس گھنٹے میں اسے واپس کردیا گیا تھا جس کے بعد پی سی بی کے چیئرمین سے ایک میٹنگ ہوئی جس میں انہوں نے اس کے مسودے میں ضروری ردو بدل پراتفاق کیا تھا۔ اس کے بعد پہلی مرتبہ آئین کا مسودہ اٹارنی جنرل آف پاکستان کو بھیجا گیا ہے۔

بیس مئی2007 کے اس خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی سی بی کے چیئرمین کے مسلسل بیانات پر اٹارنی جنرل نے کوئی بیان جاری کرنا مناسب نہیں سمجھا کیونکہ اس سے پی سی بی کے چیئرمین کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا۔ دوسری بات یہ کہ اٹارنی جنرل آف پاکستان، پی سی بی کے لیگل ایڈوائزر نہیں ہیں اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اس ضمن میں اٹارنی جنرل سے براہ راست مشورے نہیں کر سکتے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ گزشتہ آٹھ سال سے ایڈہاک ازم پر چل رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں پی سی بی کے آئین کے نفاذ کا مطالبہ شدت اختیار کرچکا ہے لیکن بورڈ کے سابق سربراہ شہریارخان اور موجودہ چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف کئی بار تاریخ دینے کے باوجود آئین نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

 وسیم باری’آل آؤٹ‘
چیئرمین کے بعد سلیکشن کمیٹی بھی مستعفی
محمد آصفکھلاڑیوں کو تنبیہ
کھلاڑی اچھے رویے کا مظاہرہ کریں: بورڈ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد