پی سی بی آئین: ’ہم رکاوٹ نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹارنی جنرل آف پاکستان جسٹس (ریٹائرڈ) ملک محمد قیوم نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے آئین کے نفاذ میں تاخیر اٹارنی جنرل آفس کی وجہ سے نہیں ہوئی۔ انہوں نے سابق اٹارنی جنرل کے دفتر سے جاری ہونے والے اس خط کی بھی تائید کی جس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف کے ان بیانات کو سختی سے مسترد کردیا گیا ہے جن میں وہ آئین کے نفاذ میں تاخیر کا ذمہ دار اٹارنی جنرل کے دفتر کو قرار دیتے آئے ہیں۔ اٹارنی جنرل جسٹس (ریٹائرڈ) ملک محمد قیوم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ بورڈ کے آئین کا مسودہ نہ جانے کتنے لوگوں کے پاس ہوگا البتہ انہوں نے اپنی فائل چیک کی ہے جس میں مسودے کی کاپی ملی ہے لیکن اس پر کسی نے ان سے بات یا مشاورت نہیں کی اور نہ ہی سابق اٹارنی جنرل سے کسی نے کی تھی۔ انہیں یہ ضرور معلوم ہے کہ ایک میٹنگ ہونی تھی جو ابھی تک نہیں ہوئی۔ جسٹس (ریٹائرڈ) ملک محمد قیوم نے کہا کہ انہوں نے خود ڈاکٹر نسیم اشرف سے رابطے کی کوشش کی لیکن وہ ملک میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’ہماری طرف سے کوئی تاخیر نہیں ہے اور نہ ہی ہوگی‘۔ جسٹس (ریٹائرڈ) ملک محمد قیوم سے جب سابق اٹارنی جنرل کے دفتر کے ایک خط کی بابت پوچھا گیا جس میں ڈاکٹر نسیم اشرف کے بیانات پر شدید ردعمل ظاہر کیا گیا ہے تو انہوں نے کہا کہ اس خط میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ بالکل درست ہے۔ واضح رہے کہ ہفتے کو سینٹ کی سپورٹس سے متعلق سٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے تمام سٹاف کی تنخواہوں کی فہرست کے ساتھ ساتھ اس خط کی کاپی بھی جاری کی گئی جو اٹارنی جنرل آف پاکستان کے دفتر سے20 مئی2007 کو لکھا گیا ہے۔
اس خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین گزشتہ کئی ماہ سے اپنے بیانات میں یہ الزام عائد کرتے آئے ہیں کہ پی سی بی کے آئین کے سلسلے میں تاخیر اٹارنی جنرل آف پاکستان کے دفتر میں ہورہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پی سی بی کا آئین اٹارنی جنرل کے دفتر ضروری کارروائی کے لیے بھیجا ہی نہیں گیا تھا۔ صرف ایک مرتبہ اس پر کمنٹس کرکے چوبیس گھنٹے میں اسے واپس کردیا گیا تھا جس کے بعد پی سی بی کے چیئرمین سے ایک میٹنگ ہوئی جس میں انہوں نے اس کے مسودے میں ضروری ردو بدل پراتفاق کیا تھا۔ اس کے بعد پہلی مرتبہ آئین کا مسودہ اٹارنی جنرل آف پاکستان کو بھیجا گیا ہے۔ بیس مئی2007 کے اس خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی سی بی کے چیئرمین کے مسلسل بیانات پر اٹارنی جنرل نے کوئی بیان جاری کرنا مناسب نہیں سمجھا کیونکہ اس سے پی سی بی کے چیئرمین کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا۔ دوسری بات یہ کہ اٹارنی جنرل آف پاکستان، پی سی بی کے لیگل ایڈوائزر نہیں ہیں اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اس ضمن میں اٹارنی جنرل سے براہ راست مشورے نہیں کر سکتے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ گزشتہ آٹھ سال سے ایڈہاک ازم پر چل رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں پی سی بی کے آئین کے نفاذ کا مطالبہ شدت اختیار کرچکا ہے لیکن بورڈ کے سابق سربراہ شہریارخان اور موجودہ چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف کئی بار تاریخ دینے کے باوجود آئین نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں کرکٹ بورڈ کا آئین صدر کے پاس16 June, 2005 | کھیل پی سی بی کا نیا آئین صدر کے سپرد 15 June, 2005 | کھیل کرکٹ بورڈ الزامات پر خاموش16 December, 2004 | کھیل کرکٹ بورڈ:گھپلوں کے الزامات12 August, 2004 | کھیل پاکستان کرکٹ بورڈ میں پھوٹ 14 June, 2004 | کھیل پاکستان کرکٹ بورڈ کو مشکل21 February, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||