پاکستان کرکٹ بورڈ میں پھوٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فاسٹ بالر شعیب اختر کی ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کےلئے پاکستان کرکٹ ٹیم میں شمولیت کا معاملہ متنازع بن گیا ہے ۔ وسیم باری کی سربراہی میں قائم پاکستان کرکٹ بورڈ کی قومی سلیکشن کمیٹی نے جون کے آخری ہفتے میں لاہور میں شروع ہونےوالے قومی کیمپ کے 25 ممکنہ کھلاڑیوں کے نام پاکستان کرکٹ بورڈ کے حوالے کردیئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق شعیب اختر کا نام بھی ان کھلاڑیوں میں شامل ہے لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو رمیض راجہ کے خیالات اس کے برعکس ہیں۔ رمیض راجہ یہ واضح کرچکے ہیں کہ شعیب اختر فٹ نہیں ہیں لہذا انہیں ایشیا کپ کے لئے پاکستان کرکٹ ٹیم میں شامل نہیں کیا جائے گا اس سلسلے میں انہوں نے ڈرہم کاؤنٹی کی جانب سے موصول ہونے والی میڈیکل رپورٹ کا حوالہ بھی دیا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو کے برعکس چیئرمین شہریار خان نے پیر کو کراچی میں اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ شعیب اختر پاکستان کرکٹ بورڈ کے میڈیکل کمیشن کے سامنے اپنی فٹنس ثابت کرکے ایشیا کپ کھیل سکتے ہیں ۔ ان متضاد بیانات سے ان افواہوں کو تقویت ملتی ہے کہ شہر یار خان اور رمیض راجہ میں سرد جنگ جاری ہے جس سے بورڈ کی پالیسویوں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ شعیب اختر بھارت کے خلاف ہوم سیریز خصوصاً راولپنڈی ٹیسٹ میں پاکستان کی شکست کےبعد سے شہ سرخیوں میں رہے ہیں۔ وہ چاہے ٹی وی کمنٹری میں رمیض راجہ کے تبصرے ہوں، کپتان انضمام الحق کا تیز وتند بیان ہو یا ٹیم منیجمنٹ کےخیالات ایسا محسوس ہوا جیسے پاکستان کی گیارہ رکنی ٹیم صرف ایک شعیب اختر کی ذات میں سمٹ کر رہ گئی ہے۔ شکست کی تمام تر ذمہ داری شعیب اختر کےکھاتےمیں ڈال دی گئی یہاں تک کہ ٹیم منیجمنٹ فاسٹ بالر کے خلاف بغاوت کا مقدمہ کرنے کی بات بھی کرتی رہی ہے۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ وقفےوقفے
ایسا نہیں ہے کہ ہر کوئی شعیب اختر کے خلاف ہی ہے اس دوران شعیب اختر کے حق میں بھی بیانات سامنے آئے ہیں۔ عمران خان نے شعیب اختر کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کو ناقابل معافی قرار دیتے ہوئے فاسٹ بالر کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کا مشورہ دیا۔ وسیم اکرم کے خیال میں شعیب اختر کا معاملہ صحیح طور پر ہینڈل نہیں کیا گیا اور اسے قربانی کا بکرا بنایا گیا۔ جہاں تک انضمام الحق کے اس دعوے کا تعلق ہے کہ حالیہ کامیابیوں میں شعیب اختر کا کردار نہیں ہے یہ حقیقت پر مبنی نہیں ہے ۔ انضمام الحق کو نیوزی لینڈ کی سرزمین پر ٹیسٹ
جنوبی افریقہ کے خلاف لاہور ٹیسٹ میں یوسف یوحنا کو 8 وکٹوں کی جیت سے فاتح کپتان بنا دینے والے شعیب اختر ہی تھے جنہوں نے پہلی اننگز میں دو وکٹیں حاصل کرنے کے بعد دوسری اننگز میں ابتدائی چار بلے بازوں، گریم اسمتھ، ہرشل گبز، بوئٹا ڈیپینار اور جیک کیلس کی قیمتی وکٹیں حاصل کرکے جنوبی افریقی ٹیم کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ شارجہ ٹیسٹ میں ان کی5 وکٹوں نے ویسٹ انڈیز کو صرف 171 رنز پر ڈھیر کردیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف لاہور ٹیسٹ میں جسے انضمام الحق کی شاندار ٹرپل سنچری کی وجہ سے یاد رکھا جاتا ہے شعیب اختر نے پہلی اننگز میں6 وکٹیں حاصل کرکے نیوزی لینڈ کو صرف73 رنز پر آؤٹ کردیا تھا۔ یہ وہ پرفارمنس ہے جن کی بدولت پاکستان نے کئی کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔ شوکت خانم ہسپتال کی رپورٹ سے پتہ چلا بتایا کہ شعیب اختر کی گیارہویں پسلی میں اسٹریس فریکچر ہے اور یہی بات ڈرہم کاؤنٹی کی میڈیکل رپورٹ میں بھی سامنے آئی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو غصہ اس بات پر ہے کہ شعیب اختر یہ وعدہ کرکے انگلینڈ گئے تھے کہ وہ تین ہفتے آرام کرنے کے بعد ہی میچ کھیلیں گے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیااور جاتے ہی میچ کھیل لیا۔ شعیب اختر کا کاؤنٹی کرکٹ میں وقفے وقفے سے میچ کھیلنا پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس دعوے کی نفی کرتا ہے کہ وہ مکمل فٹ نہیں ہیں۔ ایشیا کپ میں بھی انہیں وقفے وقفے سے کھلانے کی پالیسی کے تحت موقع دیا جاسکتا ہے لیکن سب سے اہم مسئلہ اعتماد کی بحالی کا ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان منیجمنٹ اور شعیب اختر کے درمیان جو خلیج پیدا ہوگئی ہے اسے دور کرنے کی ذمہ داری پاکستان کرکٹ بورڈ کی ہے لیکن اس کے حکام متضاد بیانات سے صورتحال کو غیرضروری پر خراب کرچکے ہیں۔ ان حالات میں شعیب اختر کے لئے یہ آسان نہ ہوگا کہ وہ ان لوگوں کے درمیان آکر سو فیصد پرفارمنس دے سکے جو اس کے خلاف بغاوت کے مقدمے سے لے کر جیت کے بجائے ہر شکست کا اسے ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||