BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 14 June, 2004, 20:22 GMT 01:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان کرکٹ بورڈ میں پھوٹ

News image
فاسٹ بالر شعیب اختر کی ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کےلئے پاکستان کرکٹ ٹیم میں شمولیت کا معاملہ متنازع بن گیا ہے ۔

وسیم باری کی سربراہی میں قائم پاکستان کرکٹ بورڈ کی قومی سلیکشن کمیٹی نے جون کے آخری ہفتے میں لاہور میں شروع ہونےوالے قومی کیمپ کے 25 ممکنہ کھلاڑیوں کے نام پاکستان کرکٹ بورڈ کے حوالے کردیئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق شعیب اختر کا نام بھی ان کھلاڑیوں میں شامل ہے لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو رمیض راجہ کے خیالات اس کے برعکس ہیں۔

رمیض راجہ یہ واضح کرچکے ہیں کہ شعیب اختر فٹ نہیں ہیں لہذا انہیں ایشیا کپ کے لئے پاکستان کرکٹ ٹیم میں شامل نہیں کیا جائے گا اس سلسلے میں انہوں نے ڈرہم کاؤنٹی کی جانب سے موصول ہونے والی میڈیکل رپورٹ کا حوالہ بھی دیا ہے۔

News image

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو کے برعکس چیئرمین شہریار خان نے پیر کو کراچی میں اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ شعیب اختر پاکستان کرکٹ بورڈ کے میڈیکل کمیشن کے سامنے اپنی فٹنس ثابت کرکے ایشیا کپ کھیل سکتے ہیں ۔

ان متضاد بیانات سے ان افواہوں کو تقویت ملتی ہے کہ شہر یار خان اور رمیض راجہ میں سرد جنگ جاری ہے جس سے بورڈ کی پالیسویوں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔

شعیب اختر بھارت کے خلاف ہوم سیریز خصوصاً راولپنڈی ٹیسٹ میں پاکستان کی شکست کےبعد سے شہ سرخیوں میں رہے ہیں۔

وہ چاہے ٹی وی کمنٹری میں رمیض راجہ کے تبصرے ہوں، کپتان انضمام الحق کا تیز وتند بیان ہو یا ٹیم منیجمنٹ کےخیالات ایسا محسوس ہوا جیسے پاکستان کی گیارہ رکنی ٹیم صرف ایک شعیب اختر کی ذات میں سمٹ کر رہ گئی ہے۔

شکست کی تمام تر ذمہ داری شعیب اختر کےکھاتےمیں ڈال دی گئی یہاں تک کہ ٹیم منیجمنٹ فاسٹ بالر کے خلاف بغاوت کا مقدمہ کرنے کی بات بھی کرتی رہی ہے۔

بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ وقفےوقفے

News image
سے شعیب اختر کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ اس سلسلے میں کپتان انضمام الحق کے ایک بیان کوکسی طور نظرانداز کیا نہیں کیا جا سکتا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ شعیب اختر جب بھی ٹیم میں رہے ہیں جیت میں ان کا کوئی بھی کردار نہیں رہا بلکہ ان کی موجودگی میں ٹیم شکست سے ہی دوچار رہی ہے ۔

ایسا نہیں ہے کہ ہر کوئی شعیب اختر کے خلاف ہی ہے اس دوران شعیب اختر کے حق میں بھی بیانات سامنے آئے ہیں۔ عمران خان نے شعیب اختر کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کو ناقابل معافی قرار دیتے ہوئے فاسٹ بالر کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کا مشورہ دیا۔

وسیم اکرم کے خیال میں شعیب اختر کا معاملہ صحیح طور پر ہینڈل نہیں کیا گیا اور اسے قربانی کا بکرا بنایا گیا۔

جہاں تک انضمام الحق کے اس دعوے کا تعلق ہے کہ حالیہ کامیابیوں میں شعیب اختر کا کردار نہیں ہے یہ حقیقت پر مبنی نہیں ہے ۔

انضمام الحق کو نیوزی لینڈ کی سرزمین پر ٹیسٹ

News image
سیریز جتوانے والے کوئی اور نہیں بالکہ شعیب اختر ہی تھے۔ انہوں نے ویلنگٹن ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 48 رنز دے کر5 وکٹیں حاصل کیں اور پھر دوسری اننگز میں30 رن کے عوض6 وکٹوں کی شاندار کارکردگی سے پاکستان کی جیت پر مہر ثبت کردی ۔

جنوبی افریقہ کے خلاف لاہور ٹیسٹ میں یوسف یوحنا کو 8 وکٹوں کی جیت سے فاتح کپتان بنا دینے والے شعیب اختر ہی تھے جنہوں نے پہلی اننگز میں دو وکٹیں حاصل کرنے کے بعد دوسری اننگز میں ابتدائی چار بلے بازوں، گریم اسمتھ، ہرشل گبز، بوئٹا ڈیپینار اور جیک کیلس کی قیمتی وکٹیں حاصل کرکے جنوبی افریقی ٹیم کی کمر توڑ کر رکھ دی۔

شارجہ ٹیسٹ میں ان کی5 وکٹوں نے ویسٹ انڈیز کو صرف 171 رنز پر ڈھیر کردیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف لاہور ٹیسٹ میں جسے انضمام الحق کی شاندار ٹرپل سنچری کی وجہ سے یاد رکھا جاتا ہے شعیب اختر نے پہلی اننگز میں6 وکٹیں حاصل کرکے نیوزی لینڈ کو صرف73 رنز پر آؤٹ کردیا تھا۔

یہ وہ پرفارمنس ہے جن کی بدولت پاکستان نے کئی کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔
شعیب اختر پنڈی ٹیسٹ میں ان فٹ ہوئے یا یہ محض ڈرامہ تھا اس کے لئے پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک میڈیکل کمیشن تشکیل دیا لیکن اس سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین یہ بات ریکارڈ پر لاچکے تھے کہ شعیب اختر کی اسکین رپورٹ کلیئر تھی۔

شوکت خانم ہسپتال کی رپورٹ سے پتہ چلا بتایا کہ شعیب اختر کی گیارہویں پسلی میں اسٹریس فریکچر ہے اور یہی بات ڈرہم کاؤنٹی کی میڈیکل رپورٹ میں بھی سامنے آئی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کو غصہ اس بات پر ہے کہ شعیب اختر یہ وعدہ کرکے انگلینڈ گئے تھے کہ وہ تین ہفتے آرام کرنے کے بعد ہی میچ کھیلیں گے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیااور جاتے ہی میچ کھیل لیا۔

شعیب اختر کا کاؤنٹی کرکٹ میں وقفے وقفے سے میچ کھیلنا پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس دعوے کی نفی کرتا ہے کہ وہ مکمل فٹ نہیں ہیں۔ ایشیا کپ میں بھی انہیں وقفے وقفے سے کھلانے کی پالیسی کے تحت موقع دیا جاسکتا ہے لیکن سب سے اہم مسئلہ اعتماد کی بحالی کا ہے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان منیجمنٹ اور شعیب اختر کے درمیان جو خلیج پیدا ہوگئی ہے اسے دور کرنے کی ذمہ داری پاکستان کرکٹ بورڈ کی ہے لیکن اس کے حکام متضاد بیانات سے صورتحال کو غیرضروری پر خراب کرچکے ہیں۔

ان حالات میں شعیب اختر کے لئے یہ آسان نہ ہوگا کہ وہ ان لوگوں کے درمیان آکر سو فیصد پرفارمنس دے سکے جو اس کے خلاف بغاوت کے مقدمے سے لے کر جیت کے بجائے ہر شکست کا اسے ذمہ دار سمجھتے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد