کرکٹ بورڈ:گھپلوں کے الزامات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے خزانچی محمد نعیم کا استعفیٰ منظورکر کے ان کو بطور خازن فرائض کی ادائیگی سے روک دیا ہے۔ محمد نعیم نے تیرہ مئی کو استعفیٰ دیتے ہوئے پی سی بی کے چئر مین شہر یار خان اور اس وقت بورڈ کے چیف ایگزیکٹو رمیض راجہ پر پاک بھارت سیریز کے دوران شدید نوعیت کی مالی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کئے تھے۔ پی سی بی کے ترجمان کے مطابق محمد نعیم نے شہر یار خان سے فون پر استعفیٰ واپس لینے کی بات کی تھی جس کے بعد انہیں کام کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ لیکن محمد نعیم نے دس اگست کو اپنا استعفیٰ پاک بھارت سریز میں پاکستان کی شکست کے اسباب کا جائزہ لینے والی سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے کھیل کے اجلاس میں پیش کر دیا۔ جس کے بعد گیارہ اگست کو جب وہ لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں واقع پی سی بی کے صدر دفتر میں آئے تو انہیں کام کرنے سے روک دیا گیا اور بتایا کہ ان کا استعفیٰ منظور کر لیا گیا ہے۔ پی سی بی کے ترجمان نے محمد نعیم کی طرف سے لگائے گئے الزامات کی سخت تردید کی ہے اور کہا ہے کہ بورڈ ان تمام الزامات کا جواب تحریری طور پر سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی کو دے گا۔ ترجمان کے مطابق پاک بھارت سریز کے اکاؤنٹس کےآڈٹ کے لیے آزاد آڈیٹرز نے بارہ اگست سے کام شروع کر دیا ہے۔ ترجمان کے مطابق پاک بھارت سیریز کے دوران تمام معاہدے خزانچی محمد نعیم کی رضامندی سے ہوئے اور سیریز کے دوران محمد نعیم نے خود ایک آڈیٹر کی سفارش کی جس نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کا تمام معاہدے شفاف انداز میں کیے گئے ہیں۔ سابق خزانچی نے چئر مین شہر یار خان پر الزام لگایا کہ انہوں نے اپنے دعووں کے برعکس پی سی بی کے معاملات میں مالی ایمانداری کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ان کے خط میں چودہ الزامات لگائے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پی سی بی کے سابق چیف ایگزیکٹو رمیض راجہ نے بغیر ٹینڈر طلب کیے ان سے بالا بالا معاہدے کیے۔ نعیم کا کہنا ہے کہ پاک بھارت سریز کو دیکھنے کے لیے سٹیڈیم میں دس ہزار چار سو تین کرسیوں کو لگانے کاساٹھ لاکھ پچانوے ہزارکا ٹھیکہ اس پارٹی کو دیا گیا جس نے چھ سو روپے فی کرسی قیمت لگائی تھی جبکہ اسی طرح کی کرسی لگانے کے لیے ایک دوسری پارٹی نے چار سو بانوے روپے کی قیمت لگائی تھی۔ خازن نے الزام لگایا کہ کافی تعداد میں کرسیاں سریز سے پہلے لگائی ہی نہیں گئیں۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹنگ کے ماہر اور ایک وکیل کو ان سے مشورہ کیے بغیر سات ہزار روپے فی گھنٹہ پر رکھا گیا۔ پی سی بی کے سابق خازن نےالزام لگایا ہے کہ ایک پارٹی کو ٹکٹ چھاپنے اور بیچنے کا ٹھیکہ دیا گیا جبکہ یہ کام بینک مفت کرتے آئے ہیں۔پی سی بی نے اس کام کی اس پارٹی کو بہت بڑی رقم دی۔ سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے کھیل کے اجلاس میں پی سی بی کے اعلیٰ اہلکاروں کو خاصی کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اجلاس کے بعد سینٹر انور بیگ نے مطالبہ کیا کہ جب تک پاک بھارت سیریز کے تمام اخراجات کا آڈٹ نہیں ہو جاتا رمیض راجہ کو بیرون ملک جانے سے روکا جائے۔ رمیض راجہ آج کل سری لنکا میں سری لنکا اور جنوبی افریقہ کے درمیان کرکٹ سیریز کی کمنٹری کر رہے ہیں۔ انہوں نے چند روز قبل ہی چیف ایگزیکٹو کے عہدے کو کمنٹری کی مصروفیات کی بناء پر چھوڑا تھا تاہم کئی مبصرین کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ استعفیٰ بے ضابطگیوں کے الزامات اور سٹینڈنگ کمیٹی کے دباؤ کے سبب دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||