پی سی بی کے خلاف احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک روزہ سیریز کے ختم ہونے کے ایک دن بعد پچیس مارچ کو پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹرز نے ایک پریس کانفرنس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے ناروا سلوک پر شدید احتجاج کیا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان امتیاز احمد،سابق کرکٹرز سعید احمد، محمد الیاس، اعجاز بٹ اور کرکٹ بورڈ کے سابق سیکریٹری ریٹائرڈ کرنل رفیع نسیم نے یہ احتجاج پی سی بی کی جانب سے انہیں میچ دیکھنے کے لیے کم قیمت والی ٹکٹیں بھجوانے پر کیا۔ سابق ٹیسٹ کرکٹرز نے بہت سخت الفاظ میں پی سی بی کے اس روّیے کی مذمت کی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو رمیض راجہ کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ رمیض راجہ کرکٹ کے کھیل اور کرکٹ بورڈ کا بیڑا غرق کرنے کے درپے ہے انہوں نے کہا کہ ’اس شخص نے ساری دنیا کے سامنے قومی ہیروز کو شرمندگی سے دوچار کیا۔‘ سابق کپتان امتیاز احمد نے کہا کہ فضل محمود اور میرے نام کے انکلوژرز قذافی سٹیڈیم میں موجود ہیں اور یہ کتنے دکھ کی بات ہے کہ ہمیں ہمارے نام والے انکلوژرز میں ہی میچ دیکھنے کے لیے مدعو نہیں کیا گیا۔ امتیاز احمد نے بتایا کہ تیئس مارچ کی رات کو پی سی بی نے مجھے پانچ سو روپے والے دو ٹکٹ بھیجے۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے وہ ٹکٹ لوٹا دیے۔ امتیاز احمد نے کہا کہ میری لی بون کرکٹ کلب جو کہ لندن میں کرکٹ کو کنٹرول کرتا ہے یہ کلب انہیں ہر کاونٹی اور بین الاقوامی میچ کے لیے مفت ٹکٹ بھیجتے ہیں اس لیے کہ میں اس کلب کا لائف ممبر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس پاکستان کرکٹ بورڈ کے بھی دو لائف ممبر شپ کے کارڈ تھے مگر وہ بھی کینسل کر دیے گئے ہیں۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر اعجاز بٹ نے کہا کہ یہ ہمارا حق ہے کہ ہمیں عزت کے ساتھ میچ دیکھنے کے لیے بلایا جائے۔انہوں نے کہا کہ وہ سابق ٹیسٹ کرکٹرز کی ایک ایسوسی ایشن بنائیں گے تاکہ ہم اپنے حق کے لیے لڑ سکیں۔ اعجاز بٹ نے رمیض راجہ پر الزام لگایا کہ وہ ٹکٹوں کی فروخت میں ہونے والی بد عنوانی کے ذمہ دار ہیں اور میں عدالت میں انکا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں۔ سعید احمد جو کہ پاکستان کی ٹیم کے کپتان بھی رہ چکے ہیں شکوہ کناں تھے کہ پی سی بی کے اہلکار خود تو تمام سہولتوں کے مزے لوٹ رہے ہیں مگر سابق کھلاڑیوں کے لیے کچھ نہیں۔
سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد الیاس نے بھی رمیض راجہ پر الزام لگایا کہ وہ بورڈ کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور قومی ہیروز کی کوئی عزت نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ میرےکچھ کہنے سے میرے داماد عمران فرحت کو نقصان پہنچ سکتا ہے تاہم میں کسی سے نہیں ڈرتا۔ ان کا کہنا تھا کہ کمنٹیٹر شہزاد ہمایوں کے بیٹے کو فضل محمود انکلوژر کے پندرہ سو ٹکٹ فروخت کیے گئے اور اس نے یہ ٹکٹ پچیس پچیس سو روپے میں بیچ کر مال بٹورا۔اور کتنے افسوس کی بات ہے کہ خود فضل محمود کو ان کے انکلوژر کے ٹکٹس نہیں دیے گئے۔ سابق ٹیسٹ کرکٹرز نے صدر پاکستان جرنل پرویز مشرف سے مطالبہ کیا کہ وہ ٹکٹس کی فروخت کے سلسلے میں ہونے والی بد عنوانی کی جانچ نیب سے کروائیں یا ہائی کورٹ کا کوئی جج اس معاملے کی جانچ پڑتال کرے۔ مبصرین کرکٹ بھی سابق کھلاڑیوں سے پی سی بی کے کے رویے کو غلط قرار دیتے ہیں۔ پی سی بی نے لاہور میں ہونے والے چوتھے ایک روزہ میچ کے لیے قومی ہیروز کو مدعو نہیں کیا تھا اخبارات نے بورڈ کے اس رویے پر تنقید کی تو انہیں پانچ پانچ سو والے دو دو ٹکٹ بھجوا دیے گئے جس پر پہلے ہی سے دلبرداشتہ یہ ہیروز پھٹ پڑے۔ مبصرین کرکٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ پی سی بی کا انحصار ٹکٹوں کے ذریعے ہونے والی آمدنی پر بالکل نہیں لہذا اگر حقدار لوگوں کو چند سو ٹکٹ دے بھی دیے جاتے تو بورڈ کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اعزازی ٹکٹ کسی کو بھی نہ دینے کا دعوی کھوکھلا ہے اور متعدد با رسوخ اشرافیہ کو ایک روزہ میچوں کے ٹکٹ بلامعاوضہ ملے جس سے انہوں نے اپنے دوست احباب کو نوازا۔ پی سی بی کے اہلکاروں نے پی سی بی ہیڈ کواٹر میں موجود دفاتر اور وی آئی پی باکسز میں اپنے پسندیدہ اشخاص کو مدعو کر رکھا تھا جہاں ان کی مشروبات اور انواع واقسام کے کھانوں سے تواضع کی گئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||