پاکستان کرکٹ بورڈ کا اجلاس ملتوی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ کی گورننگ باڈی کا اجلاس جو بارہ اپریل کو ہونا تھا ناگزیر وجوہات کی بنا پر ملتوی کر دیا گیا۔ عام طور پر گورنگ باڈی کا اجلاس تین ماہ بعد بلایا جاتا ہے لیکن ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے چودہ اپریل کو ہونے والے اجلاس میں پیشی سے پہلے گورننگ بورڈ کے ارکان کا اعتماد حاصل کرنا چاہتے تھے اور اس لیے انہوں نے 22 مارچ کو ہونے والے گزشتہ اجلاس سے صرف بیس دن بعد اس غیر معمولی اجلاس کے لیے گورنگ باڈی کے اراکین کو دعوت دے دی۔ اس کے علاوہ شعیب اختر پر پابندی کے فیصلے کے بعد پیدا ہونے والے حالات کے پیش نظر بھی انہیں گورننگ بورڈ کو اپنے اعتماد میں لینا تھا اور اس اجلاس کا ایک اور مقصد گورننگ بورڈ کے کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک رکن ڈاکٹر محمد علی شاہ کے ایک نجی ٹیلی ویژن پر کرکٹ بورڈ کے آئین کی بابت بیان کا نوٹس لینا تھا لیکن ذرائع کے مطابق چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف بورڈ کے اراکین کو اجلاس سے پہلے اپنے حق میں قائل کرنے میں کامیابی حاصل نہیں کر سکے اس لیے انہیں گورننگ بورڈ کا اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔ ادھرپاکستان کرکٹ بورڈ کو بنگلہ دیش کے خلاف سیریز کے انتظامات پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ہونے والی پانچ میچز کی سیریز میں جہاں کرکٹ شائقین اور سپانسر کرنے والے اداروں کی دلچسپی کم ہے وہاں ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ بھی اس سیریز کو سنجیدگی سے نہیں لے رہا۔
نہ صرف قذافی سٹیڈیم لاہور میں بجلی بند ہونے اور فلڈ لائٹس والے ایک پول میں خرابی اس کی واضح مثال ہے بلکہ اقبال سٹیڈیم فیصل آباد میں بھی ایسی ہی غیر ذمہ داری دیکھنے میں آئی۔ فیصل آباد میں میچ کے دوران کچھ وقت بارش ہوئی بارش تھمنے کے بعد گراؤنڈ خشک کرنے کا مرحلہ آیا تو گراؤنڈ کا پانی جذب کرنے کے لیے صرف ایک مشین تھی جب کہ کسی بھی بین الاقوامی میچ کے لیے ایک سے زیادہ مشینیں ہونی چاہیں اور اس پر مزید یہ کہ مشین کام نہیں کر رہی تھی اور جس طرح ڈومیسٹک کرکٹ کے میچوں کے دوران دیسی طریقے سے گدیوں کے ساتھ پانی خشک کیا جاتا ہے اسی طرح گراؤنڈ کو سکھایا گیا۔ لاہور میں فلڈ لائٹس کاایک پول میچ سے ایک دن پہلے بنگلہ دیش اور پاکستان کی ٹیموں کی پریکٹس کے دوران بجھ گیا تھا۔ میچ اگلے دن تین بجے شروع ہوا لیکن تمام وقت میں اس خرابی کو درست نہیں کیا گیا، جس کے سبب میچ کے دوران 50 منٹ ضائع ہوئے اور بنگلہ دیش کے کوچ اور کپتان نے اپنی بیٹنگ لائن کی ناکامی کا ذمہ دار بھی بجلی بند ہونے کو قرار دیا۔ ان واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے بنگلہ دیش کی ٹیم کو پاکستان کھیلنے کے لیے بلوا تو لیا لیکن اس بین الاقوامی کرکٹ کے انتظامات سنجیدگی سے نہیں کیے جا رہے۔ |
اسی بارے میں کرکٹ بورڈ میں استعفوں کی لہر20 March, 2007 | کھیل ’ کھلاڑی یا اہلکار ملوث نہیں‘23 March, 2007 | کھیل میری محنت ضائع گئی: جسٹس قیوم30 March, 2007 | کھیل پاکستانی ٹیم کا ایک ’طویل ڈراؤنا خواب‘23 March, 2007 | کھیل پاکستانی کرکٹ کے سات ہنگامہ خیز ماہ23 March, 2007 | کھیل ’پاکستان کو محتاط ہونا چاہیے تھا‘23 March, 2007 | کھیل پاکستانی کرکٹ کے سات ہنگامہ خیز ماہ23 March, 2007 | کھیل پاکستان کرکٹ: نئی قیادت کی تلاش22 March, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||