چیئر لیڈرز کو ’فحاشی‘ پر تنبیہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی پولیس کا کہنا ہے کہ انڈین پریمئر لیگ کے منتظمین کو میچوں کے دوران ’چیئر لیڈرز‘ کے غیر شائستہ ملبوسات پر جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آئی پی ایل میں’چیئر لیڈرز‘ کی شمولیت کو کرکٹ کے کھیل میں مزید رنگینی اور تفریح پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے اور منی سکرٹس میں ملبوس ان لڑکیوں کو دنیا بھر سے اس ٹورنامنٹ کی رونق بڑھانے کے لیے لایا گیا ہے۔ تاہم کرکٹ کے کھیل میں اس ’اضافے‘ پر کچھ بھارتی سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ لڑکیاں فحش اور بیہودہ لباس پہنتی ہیں جس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ممبئی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ کہیں ان چیئر لیڈرز کی پرفارمنس تفریحی لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی تو نہیں کرتی۔ نوی ممبئی کے پولیس کمشنر رام راؤ واگھ کا کہنا ہے کہ وہ چیئر لیڈرز کے خلاف کسی بلاواسطہ کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتے۔تاہم انہوں نے کہا کہ اس ٹورنامنٹ کے منتظمین پر سٹیڈیم کی حدود میں پرفارمنس کی اجازت دینے والے تفریحی لائسنس کی خلاف ورزی پر جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔ان کے مطابق ممبئی پولیس کے سینئر افسر اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا ’چییڑ لیڈرز نے تہذیب کی حد پار کی یا نہیں‘۔ پولیس کمشنر واگھ نے بی بی سی اردو کی ریحانہ بستی والا کو بتایا کہ ’میدان پر فحش رقص کی اجازت نہیں دی جا سکتی‘ اور اس لیے اگر انہیں یہ لگا کہ کم کپڑوں میں فحش رقص ہو رہا ہے اور اس کی وجہ سے اگر کسی طرح کا ہنگامہ ہوتا ہے تو پھر وہ کارروائی کرنے پر مجبور ہوں گے کیونکہ نظم و نسق کو برقرار رکھنے کی پولیس کی ذمہ داری ہے۔
ادھر آئی پی ایل میں شریک ممبئی کی ٹیم ممبئی انڈینز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اس اطلاع پر فکر مند نہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جاوید اختر نے کہا کہ ’ہماری چیئر لیڈرز صحیح لباس پہنتی ہیں اس لیے ہمارے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے‘۔ ممبئی پولیس کے علاوہ کچھ ریاستی حکام بھی چیئر لیڈرز کے ملبوسات سے خوش نہیں ہیں۔ مہاراشٹر کے جونیئر وزیرِ داخلہ سدھا رام مھاترے نے ان لڑکیوں کے ملبوسات کو غیر شائشتہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ’ ہم بھارت میں رہتے ہیں جہاں عورتوں کی پوجا کی جاتی ہے یہاں اس قسم کی فحش چیز کی کیسے اجازت دی جا سکتی ہے‘۔ پریس ٹرسٹ آف انڈیا سے بات کرتے ہوئے سدھا رام کا کہنا تھا کہ ’ یہ چیز غیر ملکیوں کے لیے ہے، ہمارے لیے نہیں۔ مائیں اور بیٹیاں یہ میچ ٹی وی پر دیکھتی ہیں۔ یہ اچھا نہیں لگتا‘۔ اس سے قبل مہاراشٹر قانون ساز کونسل میں اپوزیشن لیڈر نتن گڈکری نے جمعرات کو ان چیئرلیڈرز کے بارے میں کہا تھا ’میدان میں ان کا رقص ہماری تہذیب کے خلاف ہے اور یہ رقص بارگرلز کے ڈانس سے بھی بدتر ہے‘۔
گڈکری کا کہنا تھا کہ کرکٹ کا میدان اب کرکٹ کے علاوہ بہت کچھ بن گیا ہے جہاں کھیل نہیں بلکہ سستی تفریح ہوتی ہے۔ تاہم آئی پی ایل چیئرمین للت مودی نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ میچوں میں کسی طرح کے قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے۔’ہمارے لیے وہ چیئرلیڈرز ہیں اور دوسرے اگر انہیں رقاصائیں کہتے ہیں تو یہ ان کا مسئلہ ہے ہمارا نہیں‘۔ بالی وڈ ہیرو اور آئی پی ایل کی کولکتہ ٹیم کے مالک شاہ رخ خان کا بھی کہنا ہے کہ ’چیئر لیڈرز میں آخر برائی کیا ہے۔ میرا بھی خاندان ہے مگر مجھے اس میچ میں کچھ منفی چیز نظر نہیں آتی‘۔ بھارتی قومی کمیشن برائے خواتین کی سربراہ بھی اس موقف سے متفق نظر آتی ہیں۔گرجا ویاس کا کہنا ہے کہ یہ چیئر لیڈرز صرف’ کھیل میں مزید تفریح پیدا کرنے کے لیے ہیں۔ بس انہیں بھارتی اقدار کو مدِ نظر رکھتے ہوئے صحیح طریقے سے پیش کرنے کی ضرورت ہے‘۔ |
اسی بارے میں کیا کرکٹ کا مزاج بدل رہا ہے؟ 23 April, 2008 | کھیل ’20/20 مقبول ترین کھیل بن سکتا ہے‘ 25 April, 2008 | کھیل مصباح پچاس لاکھ روپے میں بکے 11 March, 2008 | کھیل آئی پی ایل: کولکتہ کی شاندار جیت18 April, 2008 | کھیل سب سے مہنگا ٹورنامنٹ شروع18 April, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||