BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 15 September, 2008, 11:32 GMT 16:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سخت قوانین کی ضرورت:انڈین میڈیا
ہندوستانی اخبارات
سنیچر کو ہونے والے دھماکوں میں بیس افراد ہلاک اور نوے زخمی ہوئے
ہندوستانی میڈیا نے ملک میں شدت پسند گروپوں کے حملوں سے نپٹنے کے لیے سخت قانون اور حکمتِ عملی وضع کرنے کی اپیل کی ہے۔

میڈیا کی یہ رائے سنیچر کو دلی کے مختلف بازاروں میں سلسلہ وار بم دھماکوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ ان پانچ بم دھماکوں میں بیس افراد ہلاک اور نوے زخمی ہوئے تھے۔

میڈیا کو ایک ای میل میں ایک مسلم شدت پسند گروپ نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ سنہ 2005 سے اب تک بھارت کے مختلف شہروں میں بم دھماکوں سے چار سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ہندوستان ٹائمز کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دہشت گردی کی روک تھام سے متعلق پرانے قوانین کو بحال کیا جائے اس سلسلے میں مشورہ خواہ کسی کا بھی ہو۔

روز نامہ ٹائمز آف انڈیا نے بھی دہشت گردی کو کچلنے کے لیے سخت قوانین کی ضرورت پر زور دیا۔اخبار لکھتا ہے کہ اس بحران کے وقت میں ایسی کچھ آزادیوں کو ختم کیا جانا چاہئے جن کی ہم قدر نہیں کر تے۔تاکہ شدت پسندوں کو قابو کیا جا سکے جن کے کوئی اصول یا ضابطے نہیں ہوتے۔

اخبار کے مطابق ان اقدامات پر پارلیمان میں تمام پارٹیوں کے سامنے بات ہونی چاہئے اور جلد از جلد ان پر عمل کیا جانا چاہئے۔

روزنامہ انڈین ایکسپریس نے مرکزی حکومت کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ان حملوں کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہی۔اخبار لکھتا ہے کہ ’حکومت نے ایسی شدت پسند تنظیموں کو ختم کرنے کے لیے زیادہ کچھ نہیں کیاجواس طرح کے حملوں کے پیچھے رہی ہیں‘۔

روز نامہ ہندو کا کہنا ہے کہ ان سلسلےوار حملوں سے ایسا لگتا ہے کہ ہماری پولیس اور خفیہ اداروں کے پاس ان دہشت گرد حملوں سے نپٹنے کے لیےمناسب وسائل نہیں ہیں۔

میل ٹوڈے کا کہنا ہے کہ حکام کو چاہئے کہ وہ اس طرح کے حملوں کی تحقیقات کے دوران ’مسلم فرقے ‘ کو ذمہ دار ٹہرانے سے گریز کیا کریں اور ہمیں یہ بات واضح کرنے کی ضرورت بھی نہیں کہ دھماکے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں مسلمان بھی شامل ہیں۔

تجزیہ نگار پرتاپ بھانو مہتا نے انڈین ایکسپریس میں لکھا ہے کہ ’دہشت گردی سے نپٹنے میں بھارت سے زیادہ کسی اور ملک کا تجربہ نہیں ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس مسلئے سے نپٹنے کے لیے تنظیمِ نو اور نئے طریقوں کی ضرورت ہے‘۔

مسٹر مہتا کا کہنا ہے کہ اس تمام صورتِ حال میں اچھی بات یہ ہے کہ یہ دھماکے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تشدد کا سبب نہیں بنے جو دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام کرنے کے برابر ہے۔

عینی شاہدین کے بیان
’پہلے دھماکے کی آواز دوسرے سے تیز تھی‘
 دِلی میں بم دھماکہدھماکوں کی تاریخ
انڈیا میں چند برس میں ہونے والے بڑے دھماکے
دِلی میں دھماکہدِلّی میں دھماکے
دِلّی میں دھماکوں کی تصاویر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد