ہندوستان میں تازہ ترین دھماکوں کا واقعہ دِلّی میں پیش آیا ہے جہاں چار مختلف مقامات پر ہونے والے پانچ بم دھماکوں میں متعدد لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے۔ ذیل میں ہندوستان میں چند برسوں میں ہونے والے بڑے دھماکوں کی تفصیل پیش کی جارہی ہے تاہم نکسلی تنظیموں کی جانب سے کیے جانے والے دھماکوں کی تفصیل اس فہرست میں شامل نہیں ہے۔
ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں چھبیس جولائی کو یکے بعد دیگرے سولہ دھماکے ہوئے جن میں انچاس افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے۔
کرناٹک کے دارالحکومت بنگلور میں پچیس جولائی دو ہزار آٹھ کو یکے بعد دیگرے سات دھماکے ہوئے جن میں دو افراد مارے گئے۔ پولیس حکام کے مطابق ان کم شدت کے دھماکوں کا مقصد افراتفری پھیلانا اور امن و امان تباہ کرنا تھا۔
راجستھان کے دارالحکومت جے پور میں تیرہ مئی کو پر ہجوم بازاروں میں ہونے والے سات دھماکوں میں ساٹھ افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے۔
تئیس نومبر 2007 کو جمعہ کے دن ایک گھنٹے کے اندر ریاست اتر پردیش کے تین شہروں لکھنؤ، بنارس اور فیض آباد کی عدالتوں کے احاطے میں دھماکے ہوئے۔ ان دھماکوں میں تیرہ افراد ہلاک ہو ئے۔
چودہ اکتوبر 2007 کو ہندوستان کی ریاست پنجاب کے شہر لدھیانہ میں ایک دھماکہ ہوا جس میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور اٹھائیس زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں اکثر بہاری مزدور تھے۔
گیارہ اکتوبر 2007 کو ریاست راجستھان کے اجمیر میں مشہور خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ میں بم دھماکے ہوئے جس میں دو افراد ہلاک اور چودہ افراد زخمی ہوئے۔ یہ دھماکہ رمضان کے مہینے میں افطار کے عین وقت ہوا تھا۔
اٹھارہ مئی دو ہزار سات کو حیدرآباد کی تاریخی مکہ مسجد میں دھماکہ ہوا اور یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب لوگ جمعہ کی نماز ادا کر کے واپس جا رہے تھے۔ ان دھماکوں میں کم از کم چودہ افراد ہلاک ہوئے۔ دھماکوں کے بعد مظاہروں میں بعض مسلمان پولیس کی گولیوں کا نشانہ بنے۔
اٹھارہ فروری 2007 کو ریاست ہریانہ میں پاکستان جانے والی سمجھوتہ ایکسپریس میں تخریب کاری کے نتیجے میں لگنے والی آگ میں 66 افراد ہلاک ہوئے۔ مرنے والوں میں بیشتر پاکستانی شہری تھے۔
آٹھ ستمبر 2006 کو ریاست مہاراشٹر میں پاور لوم صنعت کے لیے مشہور شہر مالیگاؤں میں سلسلے وار چار بم دھماکے ہوئے۔ ان دھماکوں میں 43 افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے۔مرنے والوں میں بڑی تعداد میں بچے بھی شامل تھے۔
سات جولائی دو ہزار چھ میں ممبئی کی لوکل ٹرینوں میں سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے اور یہ سبھی دھماکے چند منٹوں کے وقفے سے ہوئے تھے۔ ان دھماکوں میں ایک سو تراسی افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔
اٹھارہ مئی دو ہزار چھ کو دلی کی تاریخی جامع مسجد میں دھماکہ ہوا تاہم یہاں کے دھماکوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
سات مارچ دو ہزار چھ کو ہندوؤں کے مقدس شہر بنارس کے سنکٹ موچن مندر اور ریلوے سٹیشن پر دھماکہ ہوا۔ ان دھماکوں میں کم از کم چودہ افراد ہلاک ہوئے۔
انتیس اکتوبر دو ہزار پانچ کو دیوالی اور عید کے موقع پر دلی کے دو مصروف بازاروں سمیت تین مقامات پر دھماکے ہوئے جن میں باسٹھ افراد ہلاک ہوئے۔ |