BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 29 July, 2008, 15:20 GMT 20:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گجرات دھماکے، فسادات کیوں نہیں؟

فائل فوٹو
دھماکوں کے بعد حالت پر جلد ہی قابو پالیاگيا ورنہ فسادات کا خطرہ تھا
سنیچر کی شام کو جب گجرات کے شہر احمد آباد میں سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے تو پہلا خدشہ یہی تھا کہ کہیں فرقہ وارانہ فسادات نہ پھوٹ پڑیں کیونکہ دو ہزار دو کے فسادات ابھی بھولے نہیں ہیں جس میں تقریبا دو ہزار مسلمان مارے گئے تھے۔

لیکن تمام خدشات کے باوجود اس بار فسادات نہیں ہوئے۔

گجرات مذہبی اعتبار سے بہت حساس ہے جہاں تقسیم ہند کے بعد سب سے زیادہ فسادات ہوئے ہیں۔ اس میں بھی ریاست کے شہر احمد آباد اور بڑودہ سب سے آگے ہیں جہاں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

اس بار دھماکے کے فورا بعدگجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی نے خود چارج سنبھالا اور فورا ہی فوج کو ان علاقوں میں فلیگ مارچ کے لیے بلالیا جہاں فرقہ وارانہ تشدد کا زیادہ خطرہ تھا اور ساتھ ہی سب سے امن کی اپیل بھی کی۔

ان دھماکوں میں زخمی ہوئے ایک شخص بھرت بھائی کا کہنا ہے کہ ’ جن لوگوں نے دھماکے کیے ہیں ان پر مجھ میں اور میرے دوست میں بہت غصہ تھا لیکن میں اپنے رہنماؤں کی اس بات سے متفق ہوں کہ تشدد سے تشدد ہی بڑھتا ہے۔‘

گرچہ زیادہ تر دھماکے ہندوں کی اکثریت والے علاقوں میں ہوئے ہیں لیکن سخت گیر ہندو رہنماؤں کی طرف سے بھی اس بار اشتعال انگیز بیان نہیں آئے جس سے کافی مدد ملی ہے۔

دھماکوں کے بعد کئی مقامات پر حالات کشیدہ ہوگئے تھے لیکن فساد نہیں ہوئے

سیاسی تجزیہ کار اچیوت یاگنک کا کہنا ہے کہ ’ اس بار نریندر مودی کے لیے بہت کچھ داؤں پر لگا ہے، وہ ملک کی قومی سیاست میں ایک اہم رہنما کا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں ۔ وہ گجرات پر کوئی دھبہ اس لیے بھی نہیں لگنے دینا چاہتے کیونکہ یہ تجارتی نکتہ نظر سے سب سے محفوظ ہے اسی لیے انہوں نے اس بار حالات پر فورا قابو پالیا جبکہ دو ہزار دو کے فسادات تو باقاعدہ منظم طریقے سے کرائے گئے تھے۔‘

مسلم اکثریتی علاقے شاہ پور میں ایک پولیس افسر این پی جوشی کا کہنا تھا کہ دھماکوں کے بعد کسی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے پولیس رات دن کوششوں میں لگي ہوئی ہے۔ جبکہ اس پورے علاقے میں دو ہزار دو کے فسادات دوران پولیس نے بلوائیوں کو نظر انداز کر دیا تھا۔

مسٹر جوشی کا کہنا تھا ’ دھماکے کے بعد ہندوں اور مسلمانوں کے درمیان کشیدگی تھی اور ہمیں اس کے بارے پتہ چلا تو ہم نے دونوں برادریوں کے درمیان ایک میٹنگ کرائی۔‘

ریاست کے وزیر اعلی نریندر مودی پر یہ الزام لگتا رہا ہے کہ دو ہزار در کے فسادات کے دوران وہ مسلم برادری کو تحفظ دینے میں ناکام رہے تھے۔ وہ اب بھی ریاست کے وزیر اعلی ہیں اور ریاست کے ہندوں اور مسلمانوں کے درمیان خلیج بڑھتی رہی ہے۔

گجرات میں مسلمان تقریبا دس فیصد ہیں لیکن تقریبا سبھی پسماندہ مسلم بستیوں میں رہتے ہیں جبکہ گجرات اقتصادی طور پر سب سے تیز رفتار ریاست ہے۔

تجزیہ کاروں کے نزدیک ان دھماکوں سے سیاسی طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی کو مزید فائدہ پہنچےگا۔ اچیوت یاگنک کہتے ہیں’ اب بی جے پی کے پاس مزید لوگ آئیں گے۔ شہری علاقوں میں بی جے پی مزید مضبوط ہوگی، دھماکے سے ہندوں میں جو خوف پیدا ہوگا وہ صرف بھارتیہ جنتارٹی پارٹی کے لیے ہی مدد گار ثابت ہوگا۔‘

ماہرین کے مطابق احمد آباد جیسے شہر میں ہندوں اور مسلمانوں کے درمیان رشتے اب بھی بہت نازک ہیں۔ تقریبا ڈیڑھ لاکھ مسلمان فسادات کے دوران بے گھر ہوئے تھے جو آج بھی پناہ گزین کی زندگی گزار رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد