نئی دلّی دھماکے: عینی شاہدین نے کیا دیکھا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے دارالحکومت نئی دلی میں مختلف مقامات پر ہونے والے پانچ دھماکوں میں کم از کم اٹھارہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ پانچ دھماکے دلی کے چار مختلف مقامات پر ہوئے اور دھماکوں کے بعد شہر میں افراتفری پھیل گئی۔ دلی کے قرول باغ کی غفار مارکیٹ میں ہونے والے دھماکے عینی شاہد سنیل دت کا کہنا ہے کہ ’دھماکے کے فوراً بعد بھگڈر مچ گئی۔ لوگ ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ وہاں پولیس موجود تھی اور انہوں نے دھماکے کے مقام کو گھیر لیا۔ دھماکے کے فورا بعد دوکانداروں نے اپنی دوکانیں بند کر دیں۔ شکر ہے بلاسٹ مارکیٹ کے بیچ میں نہیں ورنہ بڑا نقصان ہو جاتا‘۔ گوپال داس بلڈنگ کے باہر دھماکے کے ایک عینی شاہد انل نے بی بی سی کی نادیہ پرویز کو بتایا ’ کناٹ پلیس کی گوپال داس بلڈنگ کے نیچے سے بہت تیز آواز آئی۔ ہم نے سوچا کہ ٹائر پھٹا ہے۔ لیکن پھر ہم نے دیکھا ایک زخمی آدمی گر رہا تھا اور اس کے بعد چار پانچ لوگ اور گرے۔ دھواں اٹھ رہا تھا اور لوگ بھاگنے لگے تب ہمیں لگا کہ بلاسٹ ہوا ہے‘۔ کناٹ پلیس میں ہی پالیکا بازار کے باہر سینٹر پارک میں ہوئے دھماکے کے ایک عینی شاہد چنچل نے بی بی سی کے نامہ نگار موہن لال کو بتایا ’جب دھماکہ ہوا تب میں ایک پب سے باہر نکل رہا تھا۔ میں نے پہلے دھماکے کی آواز سنی اور دھواں اٹھتا ہوا دیکھا۔ دوسرے دھماکے کی آواز سنی لیکن دھواں نہیں دیکھا۔ دھماکے کے مقام پر جو افراد زخمی ہوئے تھے ان میں چار افراد کو میں نے اسپتال پہنچایا۔ ان میں سے ایک کے سر سے خون نکل رہا تھا۔ اس کے بعد میں دو اور افراد کو ہسپتال پہنچایا‘۔ گریٹر کیلاش مارکیٹ کے دو دھماکوں کے عینی شاہد جے نے بی بی سی کے نامہ نگار پاننی آنند سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک دھماکہ سوا چھے بجے ہوا اور دوسرا اس کے 10 منٹ بعد ۔ پہلے دھماکے کی آواز دوسرے سے تیز تھی۔ جو لوگ بھاگ رہے تھے ان کی کمر میں کانچ چبھا ہوا تھا‘۔ |
اسی بارے میں دلی دھماکے: 55 ہلاک، ہائی الرٹ29 October, 2005 | انڈیا دھماکے،انڈین اخبارات کی رائے27 July, 2008 | انڈیا سورت میں مزید کئی بم ملے 29 July, 2008 | انڈیا احمدآباد دھماکے: آٹھ افراد گرفتار16 August, 2008 | انڈیا احمدآباد:ہلاکتیں 49، فوج کا گشت27 July, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||