BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 September, 2008, 13:44 GMT 18:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دلّی میں پانچ دھماکے، 20 ہلاک، 80 سےزائد زخمی

دلی دھماکے
تمام بم شہر کے اہم اور متمول علاقوں میں رکھے گئے تھے

بھارت کے دارالحکومت نئی دلی میں سنیچر کے روز مختلف مقامات پر ہونے والے پانچ دھماکوں میں کم از کم بیس افراد ہلاک اور اسّی سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔

یہ دھماکے کناٹ پلیس میں پالیکا بازار اور گوپال داس بلڈنگ، قرول باغ کی غفار مارکیٹ اورگریٹر کیلاش کی ایم مارکیٹ میں ہوئے۔

ایک زخمی
دھماکوں میں زخمی ہونے والے ایک شخص مرہم پٹی کے بعد

تمام بم شہر کے اہم اور متمول علاقوں میں رکھے گئے تھے۔ دھماکوں کے بعد دلی میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پرسکون رہیں اور شہر کے پرہجوم علاقوں کا رخ نہ کریں۔

بھارت کے وزیرِ داخلہ شیو راج پاٹل نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

ہندوستان کے وزيراعظم منموہن سنگھ نے ان دھماکوں کی مذمت کی ہے جبکہ پاکستان کے صدر اور وزیراعظم نے بھی اپنے بیانات میں جانی و مالی نقصان پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔

دلّی پولیس کے ترجمان راجن بھگت نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر میں مزید دو بم بھی ملے ہیں جنہیں پھٹنے سے قبل ہی ناکارہ بنا دیا گیا۔

بم سکواڈ کناٹ پلیس میں ایک سینما کے سامنے پھٹنے سے قبل ہی بم ناکارہ بنا رہا ہے

دلی پولیس کے مطابق کناٹ پلیس کے علاقے میں پھٹنے والے بم کچرا دانوں میں نصب کیے گئے تھے جبکہ ایک دھماکے کا نشانہ ایک رکشہ بنا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دھماکوں میں کم شدت کا دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا ہے۔

دھماکوں کے بعد دلی میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور اسٹنٹ کمشنر پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پرسکون رہیں اور شہر کے پرہجوم علاقوں کا رخ نہ کریں۔

دھماکوں میں کیل، پیچ اور بال بیئرنگ یا چھرے دار گولیا استعمال کی گئی ہیں جبکہ دھماکہ خیز مواد میں بھی تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔

دھماکے کے ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ کناٹ پلیس کی گوپال داس بلڈنگ کے نیچے سے بہت تیز آواز آئی۔ ہم نے سوچا کہ ٹائر پھٹا ہے۔ لیکن پھر ہم نے دیکھا ایک زخمی آدمی گر رہا تھا اور اس کے بعد چار پانچ لوگ اور گرے۔ دھواں اٹھ رہا تھا اور لوگ بھاگنے لگے تب ہمیں لگا کہ بلاسٹ ہوا ہے‘۔

دھماکے کے بعد سکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا

پولیس کے جوائنٹ کمشنر کرنیل سنگھ نے بھارتی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ’انڈین مجاہدین‘ نامی تنظیم نے ای میل کے ذریعے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔یاد رہے کہ انڈین مجاہدین وہی تنظیم ہے جس نےاسی برس جے پور اور بنگلور میں ہونے والے سلسلہ وار دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

دلی کی میئر آرتی مہرا نے کہا ہے کہ شہر کو اس طرح کے بزدلانہ حملوں سے خوف زدہ ننہیں کیا جا سکتا۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ بھارتی دارالحکومت حملوں کا نشانہ بنا ہو۔ اس سے قبل
اکتوبر سنہ 2005 میں دلّی میں ہونے والے دھماکوں میں ساٹھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ سنہ 2001 میں دلّی میں واقع بھارتی پارلیمان کی عمارت پر شدت پسندوں کے حملے میں چودہ افراد مارے گئے تھے۔

اکتوبر سنہ 2005 سے لے کر ابتک ہندوستانی شہروں میں بم دھماکوں میں کم از کم 400 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ہندوستان مسلم شدت پسند گروہوں کو ان دھماکوں کا ذمہ دار قرار دیتا رہا ہے۔

 دِلی میں بم دھماکہدھماکوں کی تاریخ
انڈیا میں چند برس میں ہونے والے بڑے دھماکے
دِلی میں دھماکہدِلّی میں دھماکے
دِلّی میں دھماکوں کی تصاویر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد