دلّی میں پانچ دھماکے، 20 ہلاک، 80 سےزائد زخمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے دارالحکومت نئی دلی میں سنیچر کے روز مختلف مقامات پر ہونے والے پانچ دھماکوں میں کم از کم بیس افراد ہلاک اور اسّی سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ دھماکے کناٹ پلیس میں پالیکا بازار اور گوپال داس بلڈنگ، قرول باغ کی غفار مارکیٹ اورگریٹر کیلاش کی ایم مارکیٹ میں ہوئے۔
تمام بم شہر کے اہم اور متمول علاقوں میں رکھے گئے تھے۔ دھماکوں کے بعد دلی میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پرسکون رہیں اور شہر کے پرہجوم علاقوں کا رخ نہ کریں۔ بھارت کے وزیرِ داخلہ شیو راج پاٹل نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ ہندوستان کے وزيراعظم منموہن سنگھ نے ان دھماکوں کی مذمت کی ہے جبکہ پاکستان کے صدر اور وزیراعظم نے بھی اپنے بیانات میں جانی و مالی نقصان پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔ دلّی پولیس کے ترجمان راجن بھگت نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر میں مزید دو بم بھی ملے ہیں جنہیں پھٹنے سے قبل ہی ناکارہ بنا دیا گیا۔
دلی پولیس کے مطابق کناٹ پلیس کے علاقے میں پھٹنے والے بم کچرا دانوں میں نصب کیے گئے تھے جبکہ ایک دھماکے کا نشانہ ایک رکشہ بنا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دھماکوں میں کم شدت کا دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا ہے۔ دھماکوں کے بعد دلی میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور اسٹنٹ کمشنر پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پرسکون رہیں اور شہر کے پرہجوم علاقوں کا رخ نہ کریں۔ دھماکوں میں کیل، پیچ اور بال بیئرنگ یا چھرے دار گولیا استعمال کی گئی ہیں جبکہ دھماکہ خیز مواد میں بھی تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔ دھماکے کے ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ کناٹ پلیس کی گوپال داس بلڈنگ کے نیچے سے بہت تیز آواز آئی۔ ہم نے سوچا کہ ٹائر پھٹا ہے۔ لیکن پھر ہم نے دیکھا ایک زخمی آدمی گر رہا تھا اور اس کے بعد چار پانچ لوگ اور گرے۔ دھواں اٹھ رہا تھا اور لوگ بھاگنے لگے تب ہمیں لگا کہ بلاسٹ ہوا ہے‘۔
پولیس کے جوائنٹ کمشنر کرنیل سنگھ نے بھارتی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ’انڈین مجاہدین‘ نامی تنظیم نے ای میل کے ذریعے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔یاد رہے کہ انڈین مجاہدین وہی تنظیم ہے جس نےاسی برس جے پور اور بنگلور میں ہونے والے سلسلہ وار دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ دلی کی میئر آرتی مہرا نے کہا ہے کہ شہر کو اس طرح کے بزدلانہ حملوں سے خوف زدہ ننہیں کیا جا سکتا۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ بھارتی دارالحکومت حملوں کا نشانہ بنا ہو۔ اس سے قبل اکتوبر سنہ 2005 سے لے کر ابتک ہندوستانی شہروں میں بم دھماکوں میں کم از کم 400 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہندوستان مسلم شدت پسند گروہوں کو ان دھماکوں کا ذمہ دار قرار دیتا رہا ہے۔ |
اسی بارے میں دلی دھماکے: 55 ہلاک، ہائی الرٹ29 October, 2005 | انڈیا دھماکے،انڈین اخبارات کی رائے27 July, 2008 | انڈیا سورت میں مزید کئی بم ملے 29 July, 2008 | انڈیا احمدآباد دھماکے: آٹھ افراد گرفتار16 August, 2008 | انڈیا احمدآباد:ہلاکتیں 49، فوج کا گشت27 July, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||