’دلی دھماکے ایک بزدلانہ اقدام ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے وزيراعظم منموہن سنگھ نے دلی میں سنیچر کو ہوئے سلسلہ وار بم دھماکوں کی مذمت کی ہے جبکہ دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی دھماکوں کو بزدلانہ اقدام قرار دیا ہے۔ دلی میں سنيچر کی شام ہونے والے پانچ بم دھماکوں میں کم از کم اٹھارہ افراد ہلاک اور ستر زخمی ہوئے ہیں۔ ان دھماکوں میں دو مرکزی دلی میں واقع کناٹ پلیس اور سنٹرل پارک ميں ہوئے جبکہ اس کے علاوہ غفار مارکیٹ میں ایک جبکہ دو دھماکےگریٹر کیلاش مارکیٹ میں ہوئے ہیں۔ بھارت کے وزیراعظم نے دھماکوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے عوام سے امن قائم رکھنے کی اپیل کی ہے جبکہ حکمراں اتحاد یو پی اے کی صدر سونیا گاندھی کا کہنا ہے کہ یہ ایک بزدلانہ کارروائی ہے اور قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا۔ دلی کی وزيراعلٰی کا کہنا ہے کہ جو لوگ اس کارروائی کے ذمہ دار ہیں وہ ملک کے دشمن ہیں۔ وزیر داخلہ شیو راج پاٹل نے بھی دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ’جو کچھ بھی دلی میں ہوا اس کا ہمیں بہت افسوس ہے۔ جن لوگوں نے اپنوں کو کھویا ہے اس کا کوئی معاوضہ تو نہیں دیا جا سکتا ہے لیکن ہم پوری طرح سے مدد کرنے کے لیے تیار ہیں‘۔ گجرات کے وزیراعلی نریندر مودی نے کہا کہ انہوں نے پہلے متنبہ کیا تھا کہ شدت پسندوں کا اگلا نشانہ دلی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستوں کے پاس دہشتگردی سے لڑنے کے لیے مناسب قانون نہیں ہے اور مرکزی حکومت نے ان کی بات کو نظر انداز کر دیا۔ بھارتی رہنماؤں کے علاوہ ہمسایہ ملک پاکستان کے صدر اور وزیراعظم نے بھی دلّی میں ہونے والے دھماکوں کی شدید مذمت کی ہے۔ صدر آصف زرداری نے دھماکوں کی’شدید مذمت‘ کرتے ہوئے کہا ہے وہ انسانی جانوں کے ضیاع پر غم اور دکھ کا اظہار کرتے ہیں۔ پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی ایک مذمتی بیان میں کہا ہے کہ دھماکے کے ذمہ دار افراد ’انسانیت کے دشمن‘ ہیں۔ |
اسی بارے میں دلی دھماکے: 55 ہلاک، ہائی الرٹ29 October, 2005 | انڈیا دھماکے،انڈین اخبارات کی رائے27 July, 2008 | انڈیا سورت میں مزید کئی بم ملے 29 July, 2008 | انڈیا احمدآباد دھماکے: آٹھ افراد گرفتار16 August, 2008 | انڈیا احمدآباد:ہلاکتیں 49، فوج کا گشت27 July, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||