BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 November, 2008, 07:32 GMT 12:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دہشتگردی مخالف فتوے کی توثیق

بھارت میں ہونے والے متعدد بم دھماکوں کے لیے اسلامی شدت پسندوں کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا
ہندوستان میں ہزاروں مسلم علماء، سکالروں اور کمیونٹی رہنماؤں کے ایک بڑے اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف جاری فتوے کو منظوری دی گئی ہے۔

ملک کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش کے حیدارآباد شہر ميں ملک کی بااثر تنظیم جمیعت علمائے ہند نے یہ اجلاس طلب کیا تھا۔

اجلاس کے پہلے دن منظور کی گئی قرار دار میں دہشت گردی کی کھل کر مذمت کی گئی وہیں دوسرے روز اجلاس کے خاتمے سے قبل دلت مسلم اتحاد، وقف کی ملکیت کے بہتر استعمال، فرقہ وارانہ فسادات کو روکنے کے لیے مناسب قوانین اور مسلمانوں کے لیے رزرویشن جیسے اہم موضوعات پر کھل کر بحث و مباحثہ کیا جائے گا۔

اس بحث میں آندھر پردیش کے وزير اعلی وائی ایس آر ریڈی ، سماجی کارکن سوامی اگنی ویش سمیت ملک کے سرکردہ دانشور شرکت کر رہے ہیں۔

اجلاس کے دوران سچّر کمیٹی اور شری رنگاناتھن رپورٹ کو جلد سے جلد نافذ کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

سنيچر کو انتیسویں اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے جمیعت علمائے ہند کے سینئر رہنما اور رکن پارلیمان مولانہ محمود مدنی نے کہا ’جمیعت دہشت گردی کی ہر قسم کی مخالفت کرتی ہے اور یہ چاہتی ہے کہ حکومت ان عناصر سے سختی سےنمٹے جو ملک میں تشدد اور دہشت گردی پھیلا رہے ہیں۔‘

جب ان سے مالیگاؤں دھماکے کے سلسلے ميں بعض ہندوؤں کی گرفتاری کے سلسلے میں سوال پوچھا گیا تو انہوں نے شدت پسندی کو کسی مذہب کے ساتھ جوڑنے کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے کہا ’پچھلے کئی برس سے جب دہشت گردی کو مسلمانوں اور اسلام سے جوڑا جاتا تھا ہم اس کی مذمت کرتے تھے اور اب جب یہی کوشش کسی اور برادری یا مذہب کے ساتھ کی جا رہی ہو تو ہم اسے کیسے صحیح ٹھہرا سکتے ہیں۔‘

ہندوؤں کی گرفتاری اور ہندو شدت پسندی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ‎’جب اسلام کو بدنام کرنے والے غلط تھے تو جو لوگ دوسروں کے بارے میں ایسی بات کر رہے ہیں وہ کیسے صحیح ہو سکتے ہیں۔‘

اس سال مئی میں دارالعلوم دیوبند کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف دیے گئے فتوی کو صحیح ٹھہراتے ہوئے اجلاس میں یہ بھی کہا گیا ’اب تک دیوبند کے فتوی پر صرف چار مفتیوں کے دستخط تھے لیکن یہاں پورے ملک سے آئے تقریبا چھ ہزار مفتیوں نے اس پر اپنے دستخط کر دیے ہیں اور اب اس میں مزید لوگ شامل ہوں گے اور یہ پیغام پھیلانے میں مدد فراہم کريں گے اسلام میں دہشت گردی کی کوئی جگہ نہیں ہے، اسلام کے نام پر دہشت گردی کو پھیلایا نہیں جا سکتا اور نہ ہی قرآن اس کی اجازت دے دیتا ہے۔‘

کئی مسلم رہنماوں کا خیال ہے کہ کچھ گمراہ لوگوں کو اسلام سے جوڑ کر اسلام اور مسلمانوں کی شبیہ خراب کی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں
وہ ہيں کہاں؟
28 October, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد