’مسلمانوں کونشانہ مت بناؤ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں مختلف مکتب فکر کے مذہبی رہنماؤں نے’دہشتگردی کے نام پر مسلمانوں کو ہراساں کئے جانے‘ پر حکومت کی سخت نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ انہیں’نشانہ نا بنایا جائے۔‘ سبھی مسلک کے علماء نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تمام مسلمانوں کو اپنے مذہبی اختلافات بھلا کر متحدہ طور پر اس مشکل گھڑی کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ دارالحکومت دلی کی جامع مسجد پر کئی عشروں بعد سبھی مسلک کے علماء ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے۔ اس کا اہتمام جامع مسجد کے امام سیّد احمد بخاری نے کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اور اس کی ایجنسیوں کا مسلمانوں کے تئیں جو رویہ ہے اس سے مقابلہ کرنے کے لیے اتحاد ضروری ہے۔ ’پڑھے لکھے مسلم نوجوانوں کو ٹارگیٹ کیا جارہا ہے جگہ جگہ فرقہ وارانہ فسادات میں مسلمانوں کو نقصان پہنچایا جارہا ہے لیکن کوئی بھی اس پر بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔ مسلم قائدین مسلمانوں کے حامی نہیں بلکہ اقتدار کے لالچی ہیں۔‘
امام بخاری نے کہا کہ اس جلسے کا مقصد مسلمانوں میں اتحاد پیدا کرنا ہے تاکہ مسلم برادری کے جو خدشات ہیں وہ حکومت تک ایک پلیٹ فارم سے پہنچ سکیں اور’ اگر حکومت نے ہمارے خدشات اور شکایتیں نا سنیں تو پھر ہمیں کچھ سخت اقدامات کرنے پڑیں گے۔‘ جمعیت العلماء ہند کے مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ کانگریس کی موجودہ حکومت نے ملک میں وہ ماحول پیدا کیا ہے کہ آج کل مسلمان اپنے آپ کو کہیں محفوظ نہیں محسوس کر تا۔’ہندو نظریاتی تنظیمیں آر ایس اور وی ایچ پی نےمسلمانوں کو جو نقصان پچاس برس میں پہنچایا اس سے کہیں زیادہ اس حکومت کے وزیر داخلہ نے پہنچایا ہے۔‘ بریلوی مسلک کے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر مولانا توقیر ضیاء نے کہا کہ اب وقت آگيا ہے کہ تمام مسلمان متحد ہوکر فرقہ پرستی کا مقابلہ کریں۔ ’عوام میں اتحاد پہلے ہی سے ہے اور آج سے خواص میں اس کی شروعات ہوئی ہے۔‘ اس جلسے میں جماعت اسلامی، جمعیت اہل حدیث، بریلوی اور شیعہ سنی مسلک کے کئي بڑے رہنماؤن نے خطاب کیا۔ ندوۃ العلوم کے ناظم مولانا رابع ندوی کا بھی ایک پیغام پڑھ کر سنایا گیا جس میں انہوں نے مسلمانوں کی شبیہ خراب کرنے پر ذرائع ابلاغ پر نکتہ چینی کی ہے۔ ملک کے کئی دانشور اور سینئر صحافیوں کو بھی بولنے کا موقع ملا۔ اخبار راشٹر سہارا کے ایڈیٹر عزیر برنی نے جامعہ نگر انکاؤنٹر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت کی سازش ہے۔’ یہ دو لڑکوں کا قتل یا صرف انکاؤنٹر نہیں ہے بلکہ حکومت نے مسلم برادری کو احساس کمتری میں مبتلا کرنے کے لیے ایک سازش کی ہے لیکن اس میں وہ کامیاب نہیں ہوگی بلکہ وہ بے نقاب ہوچکی ہے۔‘ مسٹر برنی کا کہنا تھا کہ یہ اجلاس ایک شروعات ہے اور اگر مسلمان متحد ہوگئے تو اس کے اثرات آنے والے انتخابات میں دکھیں گے۔ ہندوستان میں دہشتگردی کے حوالے سے سینکڑوں بے قصور مسلم نوجوانوں کی حراست پر مسلم تنظیمیں پہلے بھی آواز اٹھاتی رہی ہیں لیکن جامعہ نگر انکاؤنٹر میں دو مسلم طلباء کی ہلاکت کے بعد ان کے روے میں سختی آئی ہے۔ اس انکاؤنٹر کی عدالتی تفتیش کا مطالبہ ہورہا ہے اور مسلم تنظیمیں اس کے لیے شہر شہر پروگرام کرنے کا اردہ رکھتی ہیں۔ حکومت تفتیش سے تو منع کر چکی ہے لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب اسے احساس ہونے لگا ہے کہ آنے والے انتخابات میں اسے اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ | اسی بارے میں مسلمانوں کو فرقہ واریت کےخدشات13 November, 2007 | انڈیا ’ممبئی کے ہندو، مسلم رہائشی فلیٹ‘03 August, 2007 | انڈیا دہشتگردی:’ہر شکل میں مذمت‘ 01 June, 2008 | انڈیا دہشتگردی کے خلاف فتویٰ31 May, 2008 | انڈیا ’مسلمانوں کوہراساں ہونےسے بچائیں‘17 April, 2008 | انڈیا ریزرویشن کا مقدمہ بڑے بنچ کے حوالے25 January, 2008 | انڈیا ’ہمیں بھی پوٹا لگا کر جیل میں بند کر دیں‘12 December, 2007 | انڈیا ’مسلمان بھارت کے نئے دلِت ہیں‘ 24 October, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||