BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 17 April, 2008, 11:21 GMT 16:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مسلمانوں کوہراساں ہونےسے بچائیں‘

فائل فوٹو
کئی علاقوں میں مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں ہوئی ہیں
ہندوستان میں مسلمانوں کی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے نام پر مسلمانوں کو ہراساں کرنے اور انہیں بد نام کرنے سے بچایا جائے۔

مسلمانوں کی نمائندہ تنظیموں کے قائدین نے وزیر اعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کی ہے اور کہا ہے کہ ملک کی خفیہ ایجنسیاں دہشت گردی کے نام پر مسلمانوں کونشانہ بنا رہی ہیں۔

مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان قاسم رسول الیاس بھی وفد میں شامل تھے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت پورے ملک میں دہشت گردی کے نام پر جس طرح مسلمانوں کو ہراساں کیا جارہا ہے اس بارے میں وزیراعظم سے تشویش کا اظہار کرنا تھا۔’وزیر اعظم کو بتایا گيا کہ خفیہ ایجنسیاں میڈیا کو رپورٹ خفیہ طور پر مہیا کرتی ہیں اور پھر ان کا میڈیاٹرائل ہوتا ہے جس سے مسلمانوں کی بدنامی ہوتی ہے۔ وفد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وزارت داخلہ کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف جو’ وچ ہنٹنگ‘ ( نشانہ بنانا) ہورہی ہے اس کو بند کیا جائے۔‘

 کوئی بھی دہشتگردانہ عمل ہو اس کا اسلام سے کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے، اس کے باوجود پورے ملک میں مسلمانوں کی ایک پروفائلنگ ہورہی ہے۔ مسلمان نوجوانوں کوگرفتار کیا جاتا ہے اور پھرتفتیش شروع بھی نہیں ہوتی ہے کہ میڈیا میں ان کا ٹرائل شروع ہوجاتا ہے اور پھر انہیں دہشت گرد مان لیا جاتا ہے۔ حال ہی میں ملک کے مختلف حصوں میں بڑی تعداد میں ایسی گرفتاریاں ہوئی ہیں جس پر تشویش پائی جاتی ہے۔
مولانا محمود مدنی سیکریٹری جمعت علماء ہند

وزیر اعظم سے ملنے والے وفد میں جماعت اسلامی اور جمیعت علماء ہند سمیت کئی تنظمیوں اور رہنماؤں نے شرکت کی۔ جمیعت علماء ہند کے سیکریٹری اور رکن پارلیمان مولانا محمود مدنی نے بتایا کہ ایسے وقت جب ملک کے تمام علماء اور تنظیمیں دہشت گردی کی مذمت کر رہی ہیں مسلمانوں کو نشانہ بنانے پر سبھی کو تشویش ہے۔

انہوں نے کہا ’ کوئی بھی دہشتگردانہ عمل ہو اس کا اسلام سے کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے، اس کے باوجود پورے ملک میں مسلمانوں کی ایک پروفائلنگ ہورہی ہے۔ مسلمان نوجوانوں کوگرفتار کیا جاتا ہے اور پھرتفتیش شروع بھی نہیں ہوتی ہے کہ میڈیا میں ان کا ٹرائل شروع ہوجاتا ہے اور پھر انہیں دہشت گرد مان لیا جاتا ہے۔ حال ہی میں ملک کے مختلف حصوں میں بڑی تعداد میں ایسی گرفتاریاں ہوئی ہیں جس پر تشویش پائی جاتی ہے۔‘

مولانا محمود مدنی نے بتایا کہ وزیر اعظم نے اس بات کو تسلیم کیا کہ میڈیا ٹرائل کے ذریعے ملزم اور مجرم کے درمیان کے فرق کو مٹانا درست نہیں ہے اور وہ اس کا انتظام کرنے کی کوشش کریں گے۔

مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان قاسم رسول الیاس نے کہا کہ جن معصوم اور بےگناہ لوگوں کو اٹھالیا جاتا ہے ان کی قانونی چارہ جوئی کا مسئلہ بھی تشویش ناک ہے۔’ بار کونسلز فیصلے کرتی ہیں کہ ایسے لوگوں کا مقدمہ کوئی نہیں لڑسکتا ہے جبکہ انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ ہر شخص کو بےگناہی ثابت کرنے کا پورا موقع ملنا چاہیے تو عدالتوں میں مسلمانوں کے خلاف ایسا ماحول بنایا جارہا ہے جس سے انہیں انصاف کے تقاضے بھی ملنے مشکل ہیں۔‘

 جن معصوم اور بےگناہ لوگوں کو اٹھایا جاتا ہے ان کی قانونی چارہ جوئی کا مسئلہ بھی تشویش ناک ہے۔ بار کونسلز فیصلے کرتی ہیں کہ ایسے لوگوں کا مقدمہ کوئی نہیں لڑسکتا ہے جبکہ انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ ہر شخص کو بےگناہی ثابت کرنے کا پورا موقع ملنا چاہیے تو عدالتوں میں مسلمانوں کے خلاف ایسا ماحول بنایا جارہا ہے جس سے انہیں انصاف کے تقاضے بھی ملنے مشکل ہیں۔
قاسم رسول الیاس ترجمان پرسنل لاء بورڈ

مسلم رہنماؤں نے ملک کی خارجہ پالیسی پر بھی تشویش ظاہر کی ہے اور وزیر اعظم منمو ہن سنگھ سے اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے پر حکومت کی پالیس پر نظر ثانی کی اپیل کی ہے۔اس کے علاوہ مسلمانوں کو ریزویشن دینے جیسے مسئلے پر بھی بات چیت ہوئی۔

گزشتہ چند ماہ میں ملک کی مختلف ریاستوں میں دہشت گردی کے نام پر کئی مسلمان نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور خفیہ ایجنسیوں سے منسوب ان افراد کے متعلق ذرائع ابلاغ میں طرح طرح کی خبریں شائع ہوتی رہی ہیں۔ ان خبروں پر ہندوستان کے بھی بعض اخبارت نے تشویش ظاہر کی ہے۔

انڈیا کے مسلم قیدی
انڈین جیلوں میں مسلمانوں میں اضافہ
اسماء اپنی ماں کے ساتھمہاراشٹر کی اسماء
نائٹ سکول کی لڑکی ریاست میں اول
زرینہممبئی کے مسلمان
اعلیٰ تعلیم پر لڑکیوں کے والدین کی پٹائی
شعیب’مکہ مسجد دھماکہ‘
شعیب قصوروار یا نعیم شیخ سے تعلق کی سزا
مسلم پسماندہ کیوں؟
بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کی حالتِ زار
ہندوستانی مسلمان
برطانیہ میں ناکام حملوں کے بعد ایک نئی بحث
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد