BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 October, 2007, 02:10 GMT 07:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مسلمان بھارت کے نئے دلِت ہیں‘

بھارتی مسلمان(فائل فوٹو)
ہ’مسلمانوں کی پسماندگی کے بعض تاریخی حقائق ہيں تو بعض سیاسی‘
ہندوستان کی دوسری سب سے بڑی اکثریت مسلمان اپنے برادران وطن کے مقابلے ملکی سطح پر ہر میدان میں پسماندہ ہیں۔

اس حقیقت کا انکشاف مسلمانوں کے حالات کا جائزے لینے کے لیے بنائی گئی سچر کمیٹی کی رپورٹ نے بھی کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مسلمان ملک کے’نئے دلت‘ ہیں اور سماجی ، سیاسی، معاشی اور تعلیمی میدان میں ان کی حالت نہایت خراب ہے۔

مسلمانوں کی اس پسماندگی کے کئی اسباب بتائے جاتے ہيں اور اس کے اداراک کی کوششیں بھی وقتاً فوقتاً ہوتی رہی ہيں لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہندوستانی مسلمان نہ صرف پسماندگی کی بوجھ کے تلے دبے ہوئے ہيں بلکہ انیس سو سنتالیس میں برطانیہ سے انتقال اقتدار اور ملک کے بٹوارے نے مسلمانوں کو اپنے ہی ملک میں ایک ’مجرم‘ بنا دیا۔ کیونکہ تقسیمِ برصغیر کی مکمل ذمہ داری مسلمانوں کے سر ڈال دی گئی۔

مسلمانوں کی پسماندگی کے اسباب کا ذکر کرتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ تاریخ کے لیکچرر رضوان قیصر کہتے ہيں کہ’مسلمانوں کی پسماندگی کے بعض تاریخی حقائق ہيں تو بعض سیاسی ہیں‘۔ ان کے مطابق مسلمانوں کی پسماندگی کو سمجھنے کے لیے حکومت، بٹوارے کے بعد مسلمانوں کےایک بڑے طبقے کا پاکستان چلا جاننا اور ہندو قوم پرست جماعتوں کی کارکردگی کا الگ الگ جائزہ لینا ہوگا۔ بقول رضوان مسلمان خود بھی اپنی پسماندگی کے لیے بہت حد تک ذمہ دار ہیں۔

قومیت پرستی کی تحریک نے بھی مسلمانوں کا بہت نقصان کیا ہے کیوں کہ مسلمانوں کے سامنے یہ بے تکے سوال بھی کیے جاتے ہيں کہ آپ پہلے مسلمان ہيں یا ہندوستانی اور اس بےتکے سوال کی گرفت ميں مسلمان غیر اداری طور پر آ جاتے ہيں۔

رضوان قیصر کے مطابق مسلمانوں نے تعلیم پر زور نہيں دیا جس کی وجہ سے برادری میں اصلاحات کے عمل میں رکاوٹیں آئیں۔ اس کے برعکس مسلمانوں نے شناخت اور جذباتی مسا‏ئل پر ضرورت سے زیادہ زور دیا۔ تاہم اس دوران مسلمانوں کی معاشی بہتری کے لیے کوئی اقدام نہيں کئےگیے۔

سیاست اور سماج پر گہری نظر رکھنے والے ایک طالب علم صفدر علی کا کہنا ہے کہ سخت گیر ہندوؤں نے مسلمانوں کی ترقی کی راہ میں بعض ایسے مسائل کھڑے کیے کہ مسلمان اس کے ادراک میں لگ کر رہ گئے اور تعمیری کام کے لیے وقت ہی نہیں نکال پائے۔

بقول ان کے’ایک سے زیادہ شادی کرنا، زیادہ بچے پیداکرنا، پاکستانی حمایتی ہونا، تشدد پسند ہونا وغیرہ جیسے الزامات ہندوؤں کی جانب سے لگائےگئے جبکہ یہ حقیقت کے برعکس ہے۔ صفدرر علی بتاتے ہيں کہ ان سب الزامات کے لیے میڈیا بھی ذمہ دار ہے کیونکہ اس کا کردار بھی متعصب اور ہندوؤں کی طرف داری کرنے والا رہا ہے۔

بھارتی مسلمان(فائل فوٹو)
’مسلمانوں کی پسماندگی کے لیے بہت حد تک علماء ذمہ دار ہيں ‘

سماج اور سیاست پرگہری نظر رکھنے والے ایک طالب علم مناظر عالم اس بات کو قبول نہیں کرتے کہ ہندوؤں کی جانب سے کھڑے کیےگئے مسائل کے سبب مسلمان اپنی ترقی کے لیے کام نہيں کرسکے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’مسلمانوں کا کردار ہمشہ ہی منفی رہا ہے۔ مسلمان حقیقت پسندی کی بجائے جذباتی رہے ہيں اور تعلیمی اور معاشی ترقی کے برعکس غیرضروری چیزوں پر زیادہ زرو دیا جاتارہا ہے اور آج کا مسلمان ڈاڑھی کی لمبائی کتنی ہوگی، مخلوط تعلیم نظام ہو یا نہيں، انگیزی ذریعہ تعلم ہو یا نہيں، بینک سے لین دین جائز ہے یا نہیں، ٹیلی ویژن دیکھنا شرعی طور پر صحیح ہے کہ نہيں جیسے سوالات میں الجھا رہتاہے‘۔ مناظر عالم کا کہنا ہے کہ’جب سائنسدان چاند پر جانے کے لیے تجربہ کر رہے تھے ہمارے مولانا حضرات اور امام مسجد ان سائنسدانوں کا مذاق اڑا رہے تھے۔

جماعت اسلامی ہند کے ترجمان سہ روزہ دعوت کے مدیر پرواز رحمانی بھی قبول کرتے ہيں کہ مسلمانوں کی پسماندگی کے لیے بہت حد تک علماء ذمہ دار ہيں کیونکہ انہيں جو کردار ادا کرنا چاہیے تھا وہ انہوں نے وہ نہيں کیا۔ تاہم وہ حکومت کو بھی اس کے لیے ذمہ دار قرار دیتے ہيں۔ ان کا کہنا ہے’چونکہ حکومت سیاسی پارٹیاں بناتی ہیں اور سیاسی پارٹیوں کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہے اور ووٹ بینک کا خیال رکھنا ہوتا ہےاس لیے مسلمانوں کے ساتھ وہ انصاف نہيں ہوسکا جو ہونا چاہیے‘۔

مسلمانوں نے تعلیم پر زور نہيں دیا جس کی وجہ سے برادری میں اصلاحات کے عمل میں رکاوٹیں آئیں جبکہ اس کے برعکس مسلمانوں نے شناخت اور جذباتی مسا‏ئل پر ضرورت سے زیادہ زور دیا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ قومیت پرستی کی تحریک نے بھی مسلمانوں کا بہت نقصان کیا ہے کیوں کہ مسلمانوں کے سامنے یہ بے تکے سوال بھی کیے جاتے ہيں کہ آپ پہلے مسلمان ہيں یا ہندوستانی اور اس بےتکے سوال کی گرفت ميں مسلمان غیر اداری طور پر آ جاتے ہيں۔

دوسری طرف بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہےکہ ہندوستان میں جمہوریت تو ہے لیکن طرز حکمرانی میں جمہوریت کا فقدان ہے اور اس وجہ سے مسلمان کی ترقی ناہموار ہوتی ہے جس سے ملازمت، روزگار اور سیاسی نمائندگی میں کمی کو دور نہيں کیا جا سکا جبکہ تعلیمی اور معاشی بہتری کے لیے حکومت کی جانب سے اٹھائے گیے اقدام ناکافی تھے۔

رضوان قیصر کہتے ہيں کہ مسلمانوں کو بدحالی سے نکالنے کے لیے جدید تعلیم کا فروغ سب سے اہم ہے۔تاہم ساتھ ہی حکومت کو یقینی بنانا چاہیے کہ زندگی کے دوسرے شعبے ميں مسلمانووں کو کسی امتیازي سلوک سے نہ گزرنا پڑے بلکہ ان کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے اور انہیں سیاسی طور پر جو نشانہ بنائے جانے کا مزاج بھی ختم ہونا چاہیے تاکہ ان کے اندر قوت اعتماد مضبوط ہو سکے۔

لیکن سوال ایک بار پھر گھوم پھر کر ٹھاک کے تین پات کہ جب مسلمان اپنے بچوں کی تعلیم کے بجائے جذباتی مسائل پر ہی زیادہ زور دیں گے تو ترقی کی راہ ہموار کون کرے گا۔

مسلم پسماندہ کیوں؟
بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کی حالتِ زار
ہندوستانی مسلمانہندوستانی مسلمان
ریزرویشن کے معاملے پرمل کر کام کریں گے
انڈین مسلماناردو نہیں ترقی چاہیے
’انڈین مسلمانوں کو اردو نہیں سماجی ترقی چاہیے‘
معیشت اور مسلمان
ترقی کے عمل میں انڈین مسلم پیچھے رہ گئے
ریزرویشن کی بحث
’ہندوستان میں 70 فیصد مسلمان پسماندہ‘
انڈیا کے مسلم قیدی
انڈین جیلوں میں مسلمانوں میں اضافہ
مسلمانوں کے مسائل
مولوی با اثر یا جدید طبقہ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد