مسلمان:ریزرویشن کےمطالبےمیں شدت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سماجی اور تعلیمی بنیاد پر پسماندہ مسلمانوں کو سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن دیے جانے کے معاملے پر منقسم مسلم تنظیمون نے پہلی بار ایک ساتھ مل کر کام کرنے کا عہد کیا ہے۔ آل انڈیا یونائٹڈ مسلم مورچہ کی پہل پر پٹنہ میں منعقد حقوق کانفرنس میں متعدد عیسائی تنظیموں کے علاوہ مشہور مسلم تنظیم امارت شریعہ اور ادارہ شریعہ کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ مسلمانوں کے مختلف طبقوں کی نمائندگی کرنے والی تنظیموں کے اس اعلان سے مسلم مجلس مشاورت اور مجلس اور اتحاد المسلمین جیسی تنظیمیں الگ تھلگ پڑ گئی ہیں۔ یہ تنظیمں مسلمانوں کو ذات کی بنیاد پر ریزرویشن دینے کے بجائے سبھی مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ اس موقع پر پندرہ ہزار سے زیادہ عوام کو خطاب کرتے ہوئے امارت شریعہ کے جنرل سیکریٹری انیس الرحمٰن قاسمی اور آل انڈیا یونائٹڈ مسلم مورچہ کے صدر اعجاز علی نے کہا کہ بھارتی آئین کی دفعہ 341 کے تحت ہندو، سکھ اور بودھ مذہب سے تعلق رکھنے والی پسماندہ ترین دلت ذاتوں کو درجہ فہرست ذاتوں میں شامل کرکے خصوصی حقوق دیے گئے ہیں لیکن مسلمانوں کی پسماندہ ترین ذاتوں کو اس فہرست سے نکال دیا گیا۔ واضح رہے کہ 1935 سے 1950 تک مسلمانوں کی پسماندہ ترین ذاتوں کوبھی سرکاری نوکریاں حاصل کرنے کے لیے خصوصی حقوق دیے گئے تھے۔ ان رہنماؤں نے کہا کہ آئین کی دفہ 341 میں 1950 میں مذہب کی بندش لگا دی گئی جس کے تحت ان حقوق سے پسماندہ مسلمانوں اور عیسا ئوں کو محروم کر دیا گیا۔ جبکہ سکھ مذہب کے دلتوں کے لیے 1950 میں اور بودھوں کو 1990 میں یہ خصوصی حقوق بحال کر دیے گئے۔ واضح رہے کے درجہ فہرست ذاتوں کو ریاست کی اسمبلی اور ملک کی پارلیمنٹ کی رکنییت اور سرکاری نوکریوں کے علاوہ اقتصادی اور تعلیمی اداروں میں بھی ریزرویشن کے خصوصی حقوق حاصل ہیں۔ اس موقع پرانسانی حقوق کی ممتاز کارکن تیستا سیتلواڑ نے کہا کہ ایک خاص پسماندہ طبقہ کو صرف اس لیے ان حقوق سے محروم کردیا جائے کہ وہ مسلمان ہے تو یہ آئین کے سیکولرازم کی روح کی خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ دلتوں کے ساتھ آئینی طور پر امتیازی سلوک کرنے سے فرقہ پرستی کو ہوا ملتی ہے جو ایک سنگین سماجی مسئلہ کو جنم دیتا ہے۔ اس کانفرنس میں بڑی تعداد میں ایسی خواتین بھی موجود تھیں جو بیڑی بنانے، دور دراز گاؤں میں دیسی شراب بیچنے اور غلاظت صاف کرنے جیسے پیشے سے وابستہ ہیں۔ شہر کی غلاظت صاف کرنے والی حلال خور طبقہ سے تعلق رکھنے والی خاتون ریحانہ نے کہا کہ اگر وہ ایک دن کام نہیں کرے تو اسکے بچے بھوکے سوتے ہیں لیکن اپنے حقوق کی حصولیابی کے لیے وہ اپنے بچوں کو بھوکا رکھنے کو بھی تیار ہے اس موقع پر رپبلیکن پارٹی کے رہنما رام داس اٹھاولے نے بھی دلت مسلمانوں کو دلت ہندؤں کی طرح خصوصی حقوق دیے جانے کی وکالت کی۔ | اسی بارے میں ہندوستان: مسلمانوں کے لئے ریزرویشن؟03 December, 2006 | انڈیا انڈیا: بلند معیشت، پست مسلمان08 February, 2007 | انڈیا اقلیتیوں کے لیے وظیفہ سکیم21 June, 2007 | انڈیا ’مسلمانوں کو اردو نہیں، ترقی چاہیے‘22 April, 2007 | انڈیا ’یو پی میں مسلمان اقلیت نہیں‘05 April, 2007 | انڈیا ریزرویشن بِل لوک سبھا میں منظور14 December, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||