اقلیتیوں کے لیے وظیفہ سکیم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں حکومت نے اقلیتی برادری میں تعلیم کے فروغ کے لیے طلباء کو وظیفے دینے کی ایک نئی سکیم شروع کی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس نئے منصوبہ کے تحت سالِ رواں میں پیشہ ورارنہ تعلیم حاصل کرنے والے اقلیتی برادری کے تقریباً بیس ہزار طلباء کو سکالر شپ دیے جائیں گے۔ یہ سکیم ان طلباء کے لیے ہے جو انڈر یا پوسٹ گریجویٹ کورسز میں تعلیم حاصل کر رہے ہوں اور ہونہار ہونے کے ساتھ ساتھ انہیں مالی مدد کی ضرورت بھی ہو۔ کابینہ کی منظوری کے بعد وزیرخزانہ پی چدمبرم نے اس منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس کا نفاذ اسی برس سے ہوگا اور اس کے تحت ہر برس تقریبا بیس ہزار طلباء کی مدد کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا’اقلیتی برادری کے طلباء جو اپنے مضامین میں بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ امداد کے حق دار ہوں گے، پیشہ ورانہ یا تکنیکی کورسز کر رہے ہوں اور ایسے اداروں میں زیر تعلیم ہوں جو حکومت یا اس سے ملحق ہیں توانہیں یہ سکالر شپس دی جائیں گی‘۔ وزیرِ خزانہ پی چدمبرم نے کہا کہ اس طرح کی سکیم سے اقلیتی طبقہ کی حالت بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور اس سے نتیجتاً ملک کی اقتصادی ترقی بھی ہوگي۔ موجودہ حکومت نے اقلیتی طبقے کی سماجی و اقتصادی حالت بہتر کرنے کے لیے سچّر کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے حکومت کو ایسی کئی سفارشات پیش کی تھیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت نے وظیفہ سکیم انہی سفارشات کی بنیاد پر شروع کی ہے۔ سماجیات کے ماہر اور مسلم امور کے تجزیہ کار امتیاز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سچر کمیٹی نے ایسے طلباء کی مالی مدد دینے کی بھی سفارش کی تھی اور حکومت کا یہ صحیح قدم ہے۔’ تعلیمی اعتبار سے مسلمان بہت پیچھے ہیں اور ایسے اقدامات سے مسلم طلباء کی حوصلہ افزائی ہوگی، حکومت کا طریقہ بھی صحیح ہے کہ یہ صرف انہیں کو ملےگی جو پڑھنے میں اچھے ہوں گے اور جو مالی مدد کے مستحق ہوں گے۔‘ | اسی بارے میں مغربی بنگال کے مدارس میں ہندو طلبہ18 June, 2007 | انڈیا ’یو پی میں مسلمان اقلیت نہیں‘05 April, 2007 | انڈیا مسلم اقلیت نہیں: فیصلہ معطل06 April, 2007 | انڈیا ’مذہب کی بنیاد پرگنتی نہیں ہوگی‘17 May, 2007 | انڈیا انڈیا: بلند معیشت، پست مسلمان08 February, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||