’ہمیں بھی پوٹا لگا کر جیل میں بند کر دیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’جو کمانے والا تھا وہ تو جیل میں قید ہے۔چھ برس ہو گئے لیکن انہیں ضمانت نہیں ملی ہے۔ گھروں میں کام کر کے بچوں کو پال رہے ہیں۔ ہمارے گھروالے کو پوٹا میں بند کیا ہے۔ پتہ نہیں کیوں صرف مسلمانوں پر ہی پوٹا لگایا گیا ہے وہ بھی گودھرا کے مسلمانوں پر۔ سب کو ضمانت مل جاتی ہے ابھی سنجے دت کو بھی مل گئی لیکن میرا گھر والا چھ برس سے جیل میں قید ہے۔ اب تو بس یہی راستہ ہے کہ ہمارے پر بھی پوٹا لگا دیں اور ہمیں جیل میں بند کر دیں‘۔ یہ خیالات ہیں ریاست گجرات کے شہر گودھرا کی باسی ریحانہ کے جن کے خاندان کے تین افراد گزشتہ چھ برس سے جیل میں قید ہیں۔ ان لوگوں کو پولیس اس وقت اٹھا کر لے گئی تھی جب گودھرا ریلوے اسٹیشن پر ہندو کارسیوکوں سے بھری ہوئے ٹرین کے ایک ڈبے میں آگ لگا دی گئی تھی اور اس میں 59 ہندو ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے گودھرا میں گرفتاریاں کیں اور تقریباً اسّی لوگوں کو ’پوٹا‘ یعنی انسداد دہشتگردی قانون کے تحت جیل بھیج دیا گیا تھا۔ جیل بھیجے جانے والے یہ سبھی افراد مسلمان تھے۔ سنہ دو ہزار چار میں جب مرکز میں یو پی اے کی حکومت بنی تو ’پوٹا‘ ہٹا لیا گیا لیکن گودھرا واقعے میں قید افراد ابھی بھی جیل میں ہیں۔
ریحانہ گزشتہ چھ برس سے اپنے گھر والوں کو جیل سے رہا کرانے کی جدوجہد میں لگی ہوئی ہیں۔ اس جدوجہد میں وہ اکیلی نہیں ہیں۔ شہر کے مضافاتی علاقے میں ایسے کئی گھر موجود ہیں جہاں ایک بھی مرد نہيں ہیں اور ان گھروں کی عورتیں اپنی اور اپنے بچوں کی ذمے داری سنبھالے ہوئے ہیں۔ یہ خواتین دوسرے گھروں میں محض چند سو روپے کےعوض کام کرتی ہیں۔ کئی بزرگ عورتیں بھیک مانگنے پر مجبور ہیں اور کچھ صرف انصاف کے انتظار میں ہیں۔ ایسی ہی ایک خاتون عطیہ ہیں جن کے والد عنایت عبدالستار سرکاری ملازم تھے۔ عطیہ نے بتایا کہ’واقعے کے دن وہ دفتر گئے تھے لیکن اس کے بعد واپس نہیں آئے۔ دوسرے دن پتہ چلا کہ وہ جیل میں ہیں۔ لیکن ہمیں سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ انہیں کیوں گرفتار کیا ہے۔ پندرہ دن بعد پتہ چلا کہ انہیں اس ٹرین والے واقعے کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے‘۔ عبدالستار کی اہلیہ عزیزہ خانم نے بتایا کہ ان کے جیل جانے کے بعد آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ نوکری سے انہيں معطل کر دیا گیا تھا اس لیے انہیں کوئی فنڈ نہیں ملا۔گھر میں چھوٹے چھوٹے بچے تھے۔’پھر ہم نے مزدوری کرنی شروع کر دی اورگھر میں دودھ دہی بیچ کر زندگی گزارنی شروع کی۔ زندہ ہوتے ہوئے بھی بچوں کے سر پر باپ کا سایہ نہیں ہے‘۔
گودھرا آتشزدگی کے حوالے سے شہر کی جانی مانی ہستی مولانا حسین عمر جی کو بھی دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گجرات کے متاثرہ مسلمانوں کی جس نے بھی مدد کرنے کی کوشش کی ہے انہیں کسی نہ کسی شکل میں ہراساں کیا گیا ہے۔ عمر جی کے بیٹے سعید حسین کہتے ہیں کہ انہیں سپریم کورٹ سے انصاف کی امید ہے۔ ان کا کہنا ہے ’ہمیں تو یہی احساس ہوتا ہے کہ ہمارا مسلمان ہونا ہی سب سے بڑا گناہ ہے‘۔ سعید عمر جی بتاتے ہیں ’سپریم کورٹ میں گزشتہ ڈھائی برس سے ’پوٹا‘ کے تحت جیل میں قید افراد کی ضمانت پر نظر ثانی کی سماعت جاری ہے لیکن ہر سماعت میں اگلی شنوائی کی تاریخ کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا‘۔ فی الوقت ریاست میں اسبملی انتخابات کی گہما گہمی ہے۔ اور جب جیل میں قید افراد کے لواحقین سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ اگر ریاستی حکومت میں تبدیلی آتی ہے تو کیا ان کے حالات میں فرق پڑے گا؟ تو ان کا کہنا حکومت کوئی بھی ہو ہمیں تو اپنے گھر والے واپس گھر میں چاہئيں۔ |
اسی بارے میں گجرات: مودی کے خلاف محاذ آرائی06 November, 2007 | انڈیا مودی کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ31 October, 2007 | انڈیا سات مسلمانوں کا قتل، آٹھ کو عمر قید30 October, 2007 | انڈیا گودھرا، یہ کیسی سزا؟28 February, 2007 | انڈیا گجرات: فسادات کے پانچ سال بعد25 February, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||