انتخابی مہم: ترقیاتی پروگرام یا جذباتی مسائل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سیاسی اور سماجی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گجرات میں بی جے پی ایک بار پھر انتخابی فائدے کے لیے فرقہ پرستی کا سہارا لے رہی ہے۔ گجرات اسمبلی کی انتخابی مہم کے ابتدائی مرحلے میں ترقیاتی پروگرام اہم ایجنڈے میں شامل لگتے تھے لیکن وزیراعلٰی نریندر مودی کے بعض متنازعہ بیانات سے ترقیاتی پروگراموں کے بجائے اب فرقہ وارنہ اور جذباتی مسائل بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔ کانگریس کے سینئر رہنما اور مرکزی وزیر شنکر سنگھ وگھیلا کا کہنا ہے کہ ’بی جے پی ترقی کے نام پر عوام کچھ نہیں دکھا سکتی اس لیے وہ ان مسائل کو اچھال رہی ہے۔ سہراب الدین کے فرضی تصادم کا معاملہ سپریم کورٹ میں ہے تو پھر عوام کے سامنے اس بارے میں بات کیوں کی جا رہی ہے، اگر مودی میں ہمت ہے تو سپریم کورٹ کے سامنے کہیں کہ انہوں نے کوثر بی، سہراب الدین اور پرجا پتی کو مار ڈالا ہے‘۔ شنکر وگھیلا نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا کہ’بی جے پی کو احساس ہو چلا ہے کہ اب اگر ہندوتوا کا آخری کارڈ نہیں کھیلا گيا تو مشکل ہو جائے گی۔ لیکن اب عوام جان چکی ہے اور اب گودھرا، دہشتگردی اور فسادات کے ذکر سے کوئی بھلا ہونے والا نہیں ہے‘۔ ان کا کہنا تھا’بی جے پی اب کنفیوژ ہے کہ ترقیاتی پروگرام اس کے لیے اہم موضوع ہیں یا پھر جذباتی مسائل‘۔ تاہم بی جے پی نے نریندر مودی کے بیانات کا یہ کہہ کر دفاع کیا ہے کہ انتخابات میں نظریاتی ٹکراؤ بھی ہوتا ہے اور انتخابات میں بی جے پی اپنے نظریات پیچھے نہیں چھوڑ سکتی۔ پارٹی کے رہنما ارن جیٹلی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس طرح کی بحث کی شروعات کانگریس نے کی تھی اور بی جے پی اس کا جواب ضرور دے گی۔’اگر گجرات کی جنتا کو ہندو دہشت گرد کہا جائےگا تو وزیراعلٰی کو بھی اس کا جواب دینے کا حق ہے، کانگریس کی رہنما سونیا گاندھی اور دگ وجے سنگھ نے جو زبان استعمال کی ہے تو پہلے انہیں اس کا جواب دینا چاہیے‘۔ سیاسی تجزیہ کار یوگیش شرما کہتے ہیں کہ اس طرح کی خبریں آنے کے بعد کہ بی جے پی کی صورت حال بہت اچھی نہیں ہے نریندر مودی پھر وہی سہارا لینا چاہتے ہیں جس سے پچھلی بار انہیں کامیابی ملی تھی۔’الیکشن کسی نہ کسی جذباتی ایشو پر ہی لڑے جاتے ہیں، حالات ایسے ہیں کہ بی جے پی کے لیے ترقیاتی پروگرام زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوں گے اس لیے عین پولنگ سے قبل ایسی باتیں کہی جارہی ہیں جس سے مذہبی خطوط پر تقسیم سماج پھر بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ ہونے کے لیے آمادہ ہو‘۔ ’گجرات گلوبل ڈاٹ کام‘ کی نیہا امین کہتی ہیں کہ اس بار انتخابات میں بی جے پی کو کئی باغی رہنماؤں سے خطرہ ہے اور کیشو بھائی پٹیل جیسے پارٹی کے سینئر رہنما بھی ناراض ہیں اس لیے نریندر مودی کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ کیشو بھائی جیسے رہنما ہی جب یہ کہتے ہیں کہ مودی کے راج میں غربت اور بھوک سے اموات بڑھیں تو پھر ترقی کی بات کہاں سے اثر انداز ہوگی، ایسے میں گودھرا، سہراب الدین اور دہشت گردی کے ذکر سے ایک خاص طبقے کی حمایت حاصل کرنے کی یہ ایک کوشش ہے‘۔ مسلم دانشور پروفیسر محی الدین بامبے والا کے خیال میں نریندر مودی کو احساس ہو چلا ہے کہ ان کے لیے یہ انتخابات آسان نہیں ہوں گے۔’ان کی کوشش ہے کہ وہ ایک بار پھر مسلمانوں کو دہشت گرد بتا کر ہندوؤں کا ووٹ اس نام پر حاصل کریں کہ وہ ان کے مسیحا ہیں لیکن مجھے لگتا ہے کہ اس بار وہ کامیاب نہیں ہوں گے‘۔ انتخابات میں کامیابی اور ناکامی کس کے ساتھ ہوگی یہ وقت بتائے گا لیکن فی الوقت انتخابی مہم میں روزی روٹی، روزگار، بجلی پانی یا سلامتی جیسے موضوعات کے بجائے دہشت گردی، گجرات کا فخر ، ہندوؤں کا وقار اور افضل کو پھانسی دو جیسے مسائل بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں اور صرف بی جے پی ہی نہیں بلکہ اس بحث و تکرار میں کانگریس بھی پوری طرح شامل ہے۔ |
اسی بارے میں نریندر مودی کے بیان پر کڑی تنقید06 December, 2007 | انڈیا مودی کے بیان پر مقدمے سے الگ06 December, 2007 | انڈیا مودی: وہی ہوا جوہونا چاہیے تھا 05 December, 2007 | انڈیا گجرات: مسلمانوں کی اقتصادی بدحالی30 November, 2007 | انڈیا گجرات اسمبلی انتخابات کی اہمیت29 November, 2007 | انڈیا گجرات: سیاسی بے اطمینانی کی فضا28 November, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||