وزیراعلی کے طور پر مودی پہلی پسند | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گجرات کے اسمبلی انتخابات کے پس منظر میں ہر طرف یہ سوال پوچھا جارہا ہے کہ گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کیا ایک بار پھر برسر اقتدار ہوں گے؟ اس سوال کا جواب اگر احمدآباد کے متوسط طبقے کے ہندوؤں سے جاننے کی کوشش کریں تو انہيں اس میں کوئی شک نہيں ہے کہ نریندر مودی ایک بار پھر ریاست کی حکمرانی کرنے جا رہے ہیں۔ نریندر مودی نے گزشتہ پانچ برس میں عام ہندو شہریوں کے درمیان اپنی ایک شناخت بنا لی ہے جسے کے سامنے کوئی بھی کھڑا نہیں ہو سکتا ہے۔ وہ چاہے ترقی کی بات ہو یا پھر بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی سب ان سے خوش ہیں اور وہ انہيں کسی ’ دیوتا ‘سے کم نہیں سمجھتے ہیں۔ ایک ورزش گھر چلانے والے منیش پانڈے کا کہنا ہے ’ نریندر مودی نے ہم میں خود اعتمادی پیدا کی ہے اگر وہ پھر آئیں گے تو گجرات اور بھی آگے جائے گا۔ اگر یہ کہیں کہ گجرات میں نریندر مودی ہی بھارتیہ جنتا پارٹی بن گيے ہيں تو شاید غلط نہیں ہو گا۔ منیش بتاتے ہیں ’ پچھلے پانچ برسوں میں اگر مقامی اخبارات پر نظر ڈالیں تو شاید ایک بھی دن ایسا نہیں گزرا ہوگا جب مودی کی تصویر نظر نہ آئی ہو۔ جس کے سبب عام شہریوں کے ذہن میں ان کی شکل بس چکی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے اور سچائی تو یہ ہے کہ آج بی جے پی انہیں برانڈ امبیسڈر کی طرح استمعال کر رہی ہے‘۔
قومی یا بین الاقوامی سطح پر نریندر مودی کی جو بھی شناخت ہو احمدآباد کی اکثریت کو اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا ہے۔ ان کے لیے مودی کسی راجہ سے کم نہيں ہیں۔ فنانس کمپنی میں مینیجرمیتل دوے کا کہنا ہے کہ جیسے پرانے زمانے میں لوگ راجہ کی ہر بات پر یقین کرتے تھے اسی طرح مودی پر بھی ہمارا یقین ہے۔ انہوں نے مزيد کہا’ بعض لوگ کہتے ہیں کہ مودی ایک ڈکٹیٹر ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں یہ اچھاہی ہے کیونکہ قاعدے کا نظام بنانے کے لیے ڈسپلن کی ضرورت تو ہوتی ہی ہے‘۔ ادھر اگر بات صرف ہندو متوسط طبقے کی کریں تو ان کے ذہن میں وہ سب سے طاقت ور اور انہتائی پرکشش شخصیت ہیں۔ ڈاکٹر کمل پٹیل کا کہنا ہے’ وہ ڈیشنگ تو ہیں ہی اور لائن (شیر) کی طرح ہیں۔ اور وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں‘۔ ایک خانہ دار خاتون میگھنا اوپادھائے کہتی ہیں ’مودی کے خطاب میں جو طاقت ہے وہ کسی میں نہیں ہے۔ ان کا مقابلہ اور کوئی نہیں کر سکتا۔ ہاں اگر راجیو گاندھی ہوتے تو شاید انہیں مقابلہ دے سکتے تھے‘۔ مودی کی ’ماچو ‘ امیج اور مودی کے خطاب سے متاثرہ کئی خواتین کبھی مودی کو بالی ووڈ سٹار امیتھابھ بچن کی برابری میں کھڑا کر دیتی ہیں۔ اگر بات کریں گجرات کے ادب اور ثقافت کی دنیا کی تو اس میں نریندر مودی کم مقبول نہيں ہیں۔ مودی کے بارے میں کوئی غلط بات سننے کے لیے تیار نہيں ہے۔ شاید یہی وجہ رہی ہوگی جب میں نے ایک دستاویزی فلم کے ہدایت کار منیشن دوے سے پوچھا کہ کیا انہوں نے تہلکہ اور آج کی جانب سے کیا گیا سٹنگ آپریشن دیکھاجس میں دکھایا گیا کہ کس طرح دو ہزار دو کے فرقہ وارانہ فسادات میں مبینہ طور پر انتظامیہ ملوث تھی اور بیشتر نے نریندر مودی کو ذمے دار ٹھرایاہے۔ منیشن کا جواب تھا’ مجھے نہیں پتہ میں نے تو دیکھا ہی نہیں‘۔
جب ان سے یہ پوچھا گیا گیا ایک فلم میکر ہونے کے ناطے آپ نریندر مودی کے بارے میں کیا سوچتے ہيں تو ان کا کہنا تھا’ یہ میرا ذاتی معاملہ ہے میں نہيں بتا سکتا‘۔ وجہ چاہے جو بھی ہو یہ بات واضح ہے کہ گزشتہ چھ برسوں میں نریندر مودی نے ہندوؤں کے درمیان ایک خصوصی جگہ بنا لی ہے اور ان کے لیے وہ کسی دیوتا سے کم نہیں جس نے وہ کر دکھایا جو پہلے کوئی نہ کر سکا۔ر آئندہ انتخابات میں بھی ہندو متوسط طبقے پر مودی کا جادو چلتا صاف صاف نظر آ رہا ہے۔ |
اسی بارے میں گجرات:اعلٰی افسران کی ضمانت مسترد15 November, 2007 | انڈیا گجرات: تہلکہ آپریشن کے بعد کیا؟12 November, 2007 | انڈیا گجرات انتخابات: نئی دھڑے بندیاں15 October, 2007 | انڈیا زیرِ حراست پولیس افسران کی معطلی06 May, 2007 | انڈیا گجرات پولیس مقابلے: مذہبی رنگ 02 May, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||