BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 November, 2007, 06:31 GMT 11:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گجرات:اعلٰی افسران کی ضمانت مسترد

فائل فوٹو
یہ وہ مقام ہے جہاں فرضی پولیس مقابلے کو انجام دیا گیا تھا
گجرات میں سنہ دو ہزار پانچ میں ایک مبینہ فرضی پولیس مقابلے میں شہری سہراب الدین شیخ کے قتل کے مقدمے میں مقامی عدالت نے ریاست کے سابق اعلٰی پولیس افسران ڈی جی ونجارا اور راج کمار پانڈین کی درخواستِ ضمانت مسترد کر دی ہیں۔

یہ درخواستیں تقریباً دو مہینے قبل داخل کی گئی تھی۔

سیشن جج اے جی عریضی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزمان اس فرضی پولیس مقابلے میں ملوث پائے گئے ہيں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ پولیس ریکارڈ کے مطابق سہراب الدین شیخ کو فرضی مقابلے میں مارنے کے بعد ایسا تاثر دیا گيا کہ پولیس نے اپنے دفاع میں گولیاں چلائی تھیں۔

اس مقدمے کے متعلق آخری فیصلہ مکمل سماعت کے بعد سنایا جائے گا۔

دفاعي وکیل کی جانب سے یہ دلیل دیے جانے پر کہ ونجارا اور پانڈین نے کوئی قتل نہيں کیا بلکہ اپنا فرض ادا کیا تھا، عدالت نے کہا کہ اس مرحلہ پر جبکہ ملزمین پر سہراب الدین کے قتل کا الزام لگا ہوا ہے وہ یہ نہيں کہہ سکتے کہ انہوں نے اپنا فرض نبھایا ہے کیوں کہ وہ خود اس معاملے میں فریق کی حیثیت رکھتے ہيں۔

مجاز نہيں
 محض اس بات سے کہ مقتول ایک دہشت گرد تھا پولیس اس کو قتل کر دینے کی مجاز نہیں ہو جاتی۔
عدالت

ان پولیس افسران کی یہ دلیل بھی عدالت نے مسترد کر دی کہ وہ اعلی افسر ہیں نیز یہ کہ انہيں ماضی میں بہتر کارکردگی کے مظاہرے کے لیے کئي انعامات اور اعزازت سے نوازا جاچکا ہے۔ جج کا کہنا تھا کہ’یہ صحیح ہے کہ درخواست گزار کو اعزاز و اکرام سے نوازا گيا ہے لیکن یہ چیز بذات خود ان کے جرم کی سنگینی کو کسی طور کم نہيں کرتی‘۔

عدالت نے یہ بات بھی مسترد کردی کہ چونکہ مقتول ایک خطرناک دہشت گرد تھا اس لیے قتل کردیا گیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ محض اس بات سے کہ مقتول ایک دہشت گرد تھا پولیس اس کو قتل کردینے کی مجاز نہیں ہو جاتی۔

ونجارا اور ان کے ساتھی افسران پر الزام ہے کہ نہ صرف انہوں نے سہراب الدین کو آندھراپردیش سے اغواء کر کے اسے فرضی مقابلے میں مار ڈالا بلکہ اس کی بیوی کوثر بی بی کو بھی قتل کر کے اس کی لاش کو نذر آتش کردیا۔

یہ معاملہ اس وقت منظر ‏عام پر آیا تھا جب حکومت گجرات سپریم کورٹ کے سامنے کوثر بی بی کو حاضر کرنے سے قاصر رہی تھی اور اسے یہ اعتراف کرنا پڑا تھا کہ کوثر بی بی کو قتل کر دیا گیا ہے۔ یہ سارا معاملہ پردۂ راز میں ہی رہتا اگر مقتول کا بھائی رباب الدین اپنے بھائي اور اپنے بھابھی کی گمشدگی کا معاملہ عدالت تک نہيں لے گيا ہوتا۔

بعد ازاں اس معاملے کو سیاسی رنگ بھی دیا گيا جس میں حکمراں جماعت بی جے پی نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ دہشت گردوں کی پشت پناہی کرکے سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔ ادھر کانگریس کا کہنا تھا کہ مودی حکومت پولیس مقابلوں کی آڑ میں بےگناہ شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار کر خوف و دہشت کا ماحول پیدا کر رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد