BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 May, 2007, 14:56 GMT 19:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جعلی پولیس مقابلے: دہلی میں مظاہرہ

دہلی میں مظاہرہ
’خواتین میں خوف ہراس پایا جاتا ہے اسی لیے خواتین مظاہرے کے لیے نکلی ہیں‘
ہندوستان کی دارالحکومت دلی میں انسانی حقوق اور خواتین کی تنظیموں نےگجرات میں جعلی پولیس مقابلے یا فرضی انکاؤنٹر میں مارے جانے والے سہراب الدین کی بیوی کوثر بی کے قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ ان تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ کوثر بی کے قتل کی بھی اعلی سطح پر تحقیقات کی جائیں اور مجرموں کو سزا دی جائے۔

مظاہرے کا اہتمام ’انڈین پیس آرگنائزیشن‘ نے کیا تھا۔ تنظیم کی صدر بیگم فاطمہ شہناز کا کہنا تھا کہ کوثر بی کے ساتھ پولیس کے رویے سے لگتا ہے کہ خواتین کہیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’حکومت کے اس رویے سے دہشت گردی میں مزید اضافہ ہوگا۔ گجرات کا واقعہ در اصل سرکاری سطح پر کی جانے والی دہشت گردی ہے اور ہمارا مطالبہ ہے کہ مرکزی حکومت اس پر توجہ دے آخر کوثر بی کے ساتھ جو ہوا اس سے بڑھ کر انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور کیا ہو سکتی ہے؟‘۔
’کوثر بی کی نذر انداز کیا جا رہا ہے‘
 ملک کے ذرائع ابلاغ نے جیسکا لال کے قتل پر ایک مہم چلائی تھی لیکن کوثر بی کے معاملے کو نظر انداز کیا جارہا ہے

مظاہرے میں جماعت اسلامی کی خواتین کار کنان نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان قاسم رسول الیاس کا کہنا تھا کہ سہراب الدین کے فرضی انکاؤنٹر پر تو توجہ دی جا رہی لیکن بقول ان کے ایک معصوم خاتون کے ساتھ پولیس نے جو بہیمانہ سلوک کیا، اسے نظرانداز کیا جارہا ہے۔ خود ان کے الفاظ میں ’ کوثر بی کو پولیس نے حراست میں لیا ان کی عصمت دری کی پھر انہیں جلا دیا، نماز جنازہ تو درکنار کم سے کم مسلمان ہونے کے ناطے اسے مٹی میں دفن ہی کردیتے‘۔

جماعت اسلامی ہند کے ترجمان این کے آفندی نے کہا کہ گجرات کے واقعے سے مسلم خواتین میں خوف ہراس پایا جاتا ہے اسی لیے خواتین مظاہرے کے لیے نکلی ہیں۔ ان کے بقول ’ کوثر بی اور عشرت جہاں اکیلی نہیں ہیں گجرات، کشمیر، مہاراشٹر، چھتیس گڑھ جیسی ریاستوں میں بہت سی خواتین کے ساتھ یہی سلوک کیا گیا ہے‘۔

دھرنے پر بیٹھی مریم فاطمہ کہتی ہیں: ’میرے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک نہ ہو، اس لیے مظاہرہ کرنے آئی ہوں، کوثر بی کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا گیا اس سے تمام مسلم خواتین ڈری ہوئی ہیں‘۔

مظاہرے کے دوران ایک پوسٹر
مظاہرے میں شریک خواتین نے ایسے پوسٹر بھی اٹھا رکھے تھے جن کے ذریعے گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی کی برطرفی کا مطالبہ بھی کیا گیاتھا

مظاہرے میں شریک شائستہ رفعت کا کہنا تھا کہ کوثر بی بھارتی سماج کی ایک مثال ہیں جہاں خواتین محفوظ نہیں ہیں۔

جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ ملک کے ذرائع ابلاغ نے جیسکا لال کے قتل پر ایک مہم چلائی تھی لیکن کوثر بی کے معاملے کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ مسٹر الیاس کے مطابق ’یہ معاملہ اس لیے زیادہ سنگین ہے کہ پولیس نے ایک بے گناہ کو مارا ہے‘۔

نومبر دو ہزار پانچ میں گجرات پولیس نے احمدآباد کے قریب سہراب الدین نامی ایک شخص کو لشکر طیبہ کا دہشت گرد قرار دے کر ہلاک کردیا تھا۔
ثبوت مٹانے کے لیے پولیس نے چند روز بعد ان کی بیوی کو ثر بی کو بھی قتل کرکے لاش جلا دی تھی۔ اس واقعے کے ایک چشم دید گواہ تلسی رام پرجاپتی کو بھی پولیس نے واقعہ کے ایک برس بعد ایک اور جعلی مقابلے میں گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد