جعلی پولیس مقابلے: دہلی میں مظاہرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی دارالحکومت دلی میں انسانی حقوق اور خواتین کی تنظیموں نےگجرات میں جعلی پولیس مقابلے یا فرضی انکاؤنٹر میں مارے جانے والے سہراب الدین کی بیوی کوثر بی کے قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ ان تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ کوثر بی کے قتل کی بھی اعلی سطح پر تحقیقات کی جائیں اور مجرموں کو سزا دی جائے۔ مظاہرے کا اہتمام ’انڈین پیس آرگنائزیشن‘ نے کیا تھا۔ تنظیم کی صدر بیگم فاطمہ شہناز کا کہنا تھا کہ کوثر بی کے ساتھ پولیس کے رویے سے لگتا ہے کہ خواتین کہیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’حکومت کے اس رویے سے دہشت گردی میں مزید اضافہ ہوگا۔ گجرات کا واقعہ در اصل سرکاری سطح پر کی جانے والی دہشت گردی ہے اور ہمارا مطالبہ ہے کہ مرکزی حکومت اس پر توجہ دے آخر کوثر بی کے ساتھ جو ہوا اس سے بڑھ کر انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور کیا ہو سکتی ہے؟‘۔
مظاہرے میں جماعت اسلامی کی خواتین کار کنان نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان قاسم رسول الیاس کا کہنا تھا کہ سہراب الدین کے فرضی انکاؤنٹر پر تو توجہ دی جا رہی لیکن بقول ان کے ایک معصوم خاتون کے ساتھ پولیس نے جو بہیمانہ سلوک کیا، اسے نظرانداز کیا جارہا ہے۔ خود ان کے الفاظ میں ’ کوثر بی کو پولیس نے حراست میں لیا ان کی عصمت دری کی پھر انہیں جلا دیا، نماز جنازہ تو درکنار کم سے کم مسلمان ہونے کے ناطے اسے مٹی میں دفن ہی کردیتے‘۔ جماعت اسلامی ہند کے ترجمان این کے آفندی نے کہا کہ گجرات کے واقعے سے مسلم خواتین میں خوف ہراس پایا جاتا ہے اسی لیے خواتین مظاہرے کے لیے نکلی ہیں۔ ان کے بقول ’ کوثر بی اور عشرت جہاں اکیلی نہیں ہیں گجرات، کشمیر، مہاراشٹر، چھتیس گڑھ جیسی ریاستوں میں بہت سی خواتین کے ساتھ یہی سلوک کیا گیا ہے‘۔ دھرنے پر بیٹھی مریم فاطمہ کہتی ہیں: ’میرے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک نہ ہو، اس لیے مظاہرہ کرنے آئی ہوں، کوثر بی کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا گیا اس سے تمام مسلم خواتین ڈری ہوئی ہیں‘۔
مظاہرے میں شریک شائستہ رفعت کا کہنا تھا کہ کوثر بی بھارتی سماج کی ایک مثال ہیں جہاں خواتین محفوظ نہیں ہیں۔ جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ ملک کے ذرائع ابلاغ نے جیسکا لال کے قتل پر ایک مہم چلائی تھی لیکن کوثر بی کے معاملے کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ مسٹر الیاس کے مطابق ’یہ معاملہ اس لیے زیادہ سنگین ہے کہ پولیس نے ایک بے گناہ کو مارا ہے‘۔ نومبر دو ہزار پانچ میں گجرات پولیس نے احمدآباد کے قریب سہراب الدین نامی ایک شخص کو لشکر طیبہ کا دہشت گرد قرار دے کر ہلاک کردیا تھا۔ | اسی بارے میں زیرِ حراست پولیس افسران کی معطلی06 May, 2007 | انڈیا گجرات: پولیس افسروں کا ریمانڈ05 May, 2007 | انڈیا فرضی تصادم: مزید پولیس اہلکار گرفتار03 May, 2007 | انڈیا گجرات پولیس مقابلے: مذہبی رنگ 02 May, 2007 | انڈیا فرضی تصادم : نئے انکشافات01 May, 2007 | انڈیا گجرات: سہراب کی بیوی بھی قتل30 April, 2007 | انڈیا اصل مجرم بےنقاب کریں:کانگریس26 April, 2007 | انڈیا فرضی تصادم : تین پولیس افسرگرفتار24 April, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||