گجرات: تہلکہ آپریشن کے بعد کیا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی مغربی ریاست گجرات میں اسمبلی انتخابات کی سرگرمیوں کے درمیان تہلکہ کے حالیہ سٹنگ آپریشن کے انکشافات نے گجرات کے فسادات کو ایک بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ انتخابات کے دوران اس طرح کے سٹنگ آپریشن سے کوئی اثر پڑے گا؟ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گوتم نو لکھا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ صحیح ہے کہ ایسے بہت کم مواقع ملتے ہيں جب ہم ’قاتل‘ کے منہ سے گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے سنتے ہيں لیکن ملک میں جیسی سیاست چل رہی ہے، مرکز میں جو حکمراں کانگریس ہے، مودی کے خلاف کسی بڑے قد م کی امید کرنا خود کو دھوکہ دینا ہوگا۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’اگر کانگریس کے پاس نریندر مودی کے خلاف کوئی حکمت عملی ہوتی تو تہلکہ کے سٹنگ آپریشن کے فوراً بعد وہ الیکشن کمیشن کو بتاتے کہ مودی کےدور اقتدار میں صاف شفاف اور منصفانہ الیکشن کرانا ممکن نہيں ہے۔‘ بقول مسٹر نو لکھا کانگریس کو ووٹ کی فکر ہے، اور عدالتیں زیادہ تر انفرادی معاملوں کا از خود نوٹس لیتی ہیں، اس لیے ان انکشافات کا انتخابی یا قانونی طور پر کوئی خاص اثر نہيں پڑے گا۔‘ گجرات فسادات کے مسلم متاثرہ افراد کی پیروی کرنے والے وکیل مکل سنہا نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ تہلکہ سٹنگ نے کم از کم ملزمان کو اپنے بھیانک جرائم کا اعتراف کرتے ہوئے دکھایا ہے۔ ’یہ سٹنگ فسادات متاثرین کے لیے ایک امید کی کرن ہے کیونکہ پانچ سال قبل ہونے والے فسادات کے مظلوموں سے لوگوں کا دھیان ہٹنے لگا تھا اس سٹنگ سے ان کی یاد تازہ ہوئی ہے اور انصاف کی لڑائی کو طاقت ملے گی۔‘ لیکن کیا اس سٹنگ سے گجرات کے رائے دہندگان پر کوئی اثر نہيں پڑے گا؟ مسٹر سنہا کہتے ہيں کہ ’وقت بدل گیاہے، اور ہندو سماج نے تہلکہ کے اس ویڈیو میں جس قدر ظلم دیکھا ہے وہ بھی اب اس کو بر داشت نہیں کرنے والا ہے،اس لیے مودی کے لیے آنے والا وقت مشکل ہوگا۔ عوام یہ سمجھ چکے ہيں کہ دو ہزار دو کے فسادات سیاست کی بساط پر کیا جانے والا فساد تھا۔‘
تہلکہ میگزین کے چیف ایڈیٹر ترون تیج پال اپنے سنٹگ پر ہونے والے عوامی اور سیاسی ردعمل سے مایوس ہيں کیونکہ انہيں امید تھی کہ اتنے بڑے انکشافات کے بعد مرکزی حکومت مودی کے خلاف کوئی سخت قدم اٹھائے گی۔ بقول مسٹر تیج پال ’انصاف کے معاملے میں بھی سیاست کی جارہی ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’ایسے انکشافات سے کوئی خوش تو نہيں ہوسکتا لیکن ہمیں ایک اطمینان ضرور ہے کہ ہماری ٹیم نے ایک اہم سچائی کو بے نقاب کیاہے، صحافی کا کام سچ کو باہر لاناہے، ہم باہر لے آئے ہیں، ہم سیاست کے قائل نہيں بلکہ ہم انصاف کے طرف دار ہيں۔‘ ترون تیج پال مزید کہتے ہيں کہ ’اس مرحلے پر ہم یہ ضرور سوچیں کہ ہم میں وہ کون سا ایسا جراثیم ہے جو بار بار ہندو مسلم فسادات کی شکل میں غیر انسانی عمل کرنے کے لیے مجبور کرتا ہے۔‘
بی جے پی کے ترجمان روی شنکر پرساد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تہلکہ سٹنگ کو کانگریس کی چال قرار دیا۔ ’تہلکہ نے نریندر مودی کے امیج کو نقصان پہنچانے لیے کانگریس کے اشارے پر سٹنگ کیا ہے، کیونکہ آج تک کسی کانگریسی رہنما کے خلاف تہلکہ نے سٹنگ نہيں کیاہے، بلکہ ایک ا یسے وقت تہلکہ نے سٹنگ کیا جب گجرات ترقی کی طرف رواں دواں تھا اور فسادات کے پانچ برس بعد عوام فسادات کو بھول گئے تھے۔‘ تہلکہ سٹنگ کے بعد یہ بات زور و شور سے ہورہی ہے کہ متاثرین اب کیا کریں؟ سیاست کی جانب دیکھیں یا عدالتوں پر تکیہ کیا جائے کہ وہ اس معاملے پر از خود نوٹس لیں یا ایک جمہوری ملک میں انتخابات کا انتظار کیاجائے۔ ریاست میں سال دو ہزار دو میں زبردست ہندو مسلم فسادادت میں ایک ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے تھے جن میں بیشتر مسلمان تھے۔ہندوستانی میڈیا اور انسانی حقوق کے اداروں نے ریاست کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی اور ان کی انتظامیہ کو مورد الزام ٹھہرایا تھا لیکن فسادات کے چند ماہ بعد ہونے والے انتخابات میں مودی کی جماعت بھاریتہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو دو تہائی اکثریت ملی تھی، یعنی سال دو ہزار دو کے جمہوری عمل میں مودی کو عوام نے کلین چیٹ دیا تھا۔ اب ایک بار پھر مودی عوام کی عدالت میں جانے والے ہيں، تہلکہ کا سٹنگ سامنے ہے، مودی کی جماعت بی جے پی بھی پھوٹ کا شکار ہے اور ملک کے بعض مبصرین کا خیال ہےکہ گجرات کے ہندو اور مسلمان فسادات کے زخم سے آگے بڑھ چکے ہيں، جبکہ بعض کا کہنا ہےکہ ابھی گجرات کا ’بھوت‘ زندہ ہے۔ عوام کیا سوچتی ہے اس کے سامنے آنے میں بہت وقت نہيں رہ گیا ہے دسمبر کے انتخابی نتائج نہ صرف جہوری عمل کی عکاس ہونگے بلکہ ان سے گجرات میں سماج کی روش کا بھی اندازہ ہوگا۔ |
اسی بارے میں گجرات: پولیس افسروں کا ریمانڈ05 May, 2007 | انڈیا گجرات انتخابات اور مسلمانوں کی الجھن 21 October, 2007 | انڈیا ’گجرات فسادات: انصاف کی آس زندہ ہے‘03 November, 2007 | انڈیا گجرات انتخابات: نئی دھڑے بندیاں15 October, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||