حکومت گجرات کا ایوارڈ قبول نہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی مشہور کتھک ڈانسر ادیتی منگل داس نے گجرات حکومت کی جانب سے دیے جانے والے سنگیت ناٹک اکیڈمی کا ’گورو‘ ایوارڈ قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔ یہ فیصلہ انہوں نے گجرات کے مسلم مخالف فسادات کے خلاف احتجاجاً کیا ہے۔ محترمہ منگل داس کلاسکی رقص کتھک کی ایک نامور رقاصہ ہیں اور وہ اپنے روایتی اور جدید ڈانس کے فیوثن کے لیے جانی جاتی ہیں۔ ادیتی منگلداس کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایسی حکومت سے ایوارڈ نہیں لے سکتیں جس کی پالیسیاں تفریق پر مبنی ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’گزشتہ ماہ جب وہ ملک سے باہر تھیں تو انہیں گجرات سنگیت ناٹک اکیڈمی سے فون آیا تھا لیکن انہیں یہ پتہ نہیں تھا کہ فون کس سلسلے میں آيا لیکن جب وہ اس ہفتے وطن واپس آئیں توایک خط کے ذریعے معلوم ہوا کہ انہیں اس اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ ‘ انہوں نے کہا: ’میں نے فیصلہ کیا کہ میں گجرات حکومت سے کوئی بھی اعزاز قبول نہیں کروں گی۔‘ محترمہ منگل داس نے ایک ای میل کے ذریعے گجرات سنگیت ناٹک آکیڈمی کو اپنے فیصلے کا اظہار کیا ہے حالانکہ اکیڈمی کے طرف سے کوئی جواب نہیں آیا ہے۔
ادیدیتی منگل داس کا کہنا ہے کہ ان کا یہ فیصلہ گجرات حکومت کی پالیسیاں نہیں بدل سکتا لیکن ایک فنکار ہونے کے ناطے وہ ایک آزاد اور ملٹی کلچرل سماج میں یقین رکھتی ہیں اور ایک فنکار کسی ذات، مذہب اور زبان کی بنیاد پر انسانوں میں فرق قبول نہیں کرتا۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا ان کا یہ فیصلہ گجرات میں ان کی مقبولیت پر کوئی اثر ڈالےگا، ان کا کہنا تھا: ’مجھے امید ہے کے گجرات میں ان کی سوچ سے متفق افراد ان کے اس فیصلے سے خوش ہونگے اور فن کے قدردان مجھ سے کبھی منہ نہیں موڑیں گے۔ حالانکہ مجھے یہ نہیں پتہ کہ اس فیصلے کے بعد وہاں کی حکومت مجھے ڈانس پرفارمینس کی دعوت دے گی یا نہیں۔‘ |
اسی بارے میں ہندو لیڈر کی کار سے لاشیں برآمد18 May, 2006 | انڈیا گجرات فسادات کی سماعت06 August, 2004 | انڈیا گجرات پولیس مقابلے: مذہبی رنگ 02 May, 2007 | انڈیا گجرات فسادات متاثرین کا کنونشن02 February, 2007 | انڈیا ٹرینوں میں تصادم، سترہ ہلاک21 April, 2005 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||