BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 September, 2007, 14:42 GMT 19:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکومت گجرات کا ایوارڈ قبول نہیں

ادیتی منگل داس
میرا ضمیر اس ایوارڈ کو قبول نہیں کرسکتا:ادیتی
ہندوستان کی مشہور کتھک ڈانسر ادیتی منگل داس نے گجرات حکومت کی جانب سے دیے جانے والے سنگیت ناٹک اکیڈمی کا ’گورو‘ ایوارڈ قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔ یہ فیصلہ انہوں نے گجرات کے مسلم مخالف فسادات کے خلاف احتجاجاً کیا ہے۔

محترمہ منگل داس کلاسکی رقص کتھک کی ایک نامور رقاصہ ہیں اور وہ اپنے روایتی اور جدید ڈانس کے فیوثن کے لیے جانی جاتی ہیں۔

ادیتی منگلداس کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایسی حکومت سے ایوارڈ نہیں لے سکتیں جس کی پالیسیاں تفریق پر مبنی ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’گزشتہ ماہ جب وہ ملک سے باہر تھیں تو انہیں گجرات سنگیت ناٹک اکیڈمی سے فون آیا تھا لیکن انہیں یہ پتہ نہیں تھا کہ فون کس سلسلے میں آيا لیکن جب وہ اس ہفتے وطن واپس آئیں توایک خط کے ذریعے معلوم ہوا کہ انہیں اس اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ ‘

انہوں نے کہا: ’میں نے فیصلہ کیا کہ میں گجرات حکومت سے کوئی بھی اعزاز قبول نہیں کروں گی۔‘

محترمہ منگل داس نے ایک ای میل کے ذریعے گجرات سنگیت ناٹک آکیڈمی کو اپنے فیصلے کا اظہار کیا ہے حالانکہ اکیڈمی کے طرف سے کوئی جواب نہیں آیا ہے۔

ادیتی منگل
ایک فن کار کسی ذات ، مذہب اور زبان کی بنیاد پر انسانوں میں فرق قبول نہیں کرتا
انہوں نے اپنے ای میل میں لکھا ہے کہ انہیں ’ایوارڈ ملنے کی خوشی ہے لیکن میں یہ ایوارڈ قبول نہیں کرسکتی کیونکہ مجھے موجودہ گجرات حکومت کی پالیسیوں اور کام کاج کے طریقےسے اتفاق نہیں ہے۔‘ انہوں نے کہا: ’میرا ضمیر اس ایوارڈ کو قبول نہیں کرسکتا ہے۔‘

ادیدیتی منگل داس کا کہنا ہے کہ ان کا یہ فیصلہ گجرات حکومت کی پالیسیاں نہیں بدل سکتا لیکن ایک فنکار ہونے کے ناطے وہ ایک آزاد اور ملٹی کلچرل سماج میں یقین رکھتی ہیں اور ایک فنکار کسی ذات، مذہب اور زبان کی بنیاد پر انسانوں میں فرق قبول نہیں کرتا۔

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا ان کا یہ فیصلہ گجرات میں ان کی مقبولیت پر کوئی اثر ڈالےگا، ان کا کہنا تھا: ’مجھے امید ہے کے گجرات میں ان کی سوچ سے متفق افراد ان کے اس فیصلے سے خوش ہونگے اور فن کے قدردان مجھ سے کبھی منہ نہیں موڑیں گے۔ حالانکہ مجھے یہ نہیں پتہ کہ اس فیصلے کے بعد وہاں کی حکومت مجھے ڈانس پرفارمینس کی دعوت دے گی یا نہیں۔‘

گجرات5 سال مسلسل خوف
’گجرات تجربہ‘ دہرائے جانے کے خدشات کیوں؟
گجرات: پانچ سال بعد
ناسازگار حالات، انصاف کیلیے ترستے مسلمان
اسی بارے میں
گجرات فسادات کی سماعت
06 August, 2004 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد