BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 15 October, 2007, 14:49 GMT 19:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گجرات انتخابات: نئی دھڑے بندیاں

فائل فوٹو
گجرات میں گزشتہ دس برس سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے
ہندوستان کی مغربی ریاست گجرات میں اسمبلی انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آگئی ہے اور نئی سیاسی دھڑے بندیوں کے آثار ہیں۔

حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اس بات سے مطمئن ہے کہ انتخابات گیارہ اور سولہ دسمبر کو دو مرحلوں میں منعقد ہوں گے جو اس کی مرضی کے عین مطابق ہے۔

حزب اختلاف جماعت کانگریس کے رہنماؤں نے انتخابی کمیشن سے شکایت کی ہے کہ ریاستی حکومت نے پچھلے چند ماہ میں وزیراعلیٰ نریندر مودی کی تشہیر کے لیے تقریباً ساڑھے سات سو کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت ریاست میں ’وندے گجرات‘ ٹی وی چینل پر سرکاری تشہیر کررہی ہے جس کو فوراً بند کرنا چاہیے۔

اگر ایک طرف الیکشن کمیشن انتخابی تیاریوں میں مصروف ہے تو دوسری جانب سیاسی جماعتیں کی ایک دوسرے پر الزام تراشی اور گروہ بندیاں اپنے عروج پر ہیں۔ حکمراں جماعت بی جے پی میں ناراض گروپ کے ارکان جماعت چھوڑنے کے بارے میں اب بھی گومگو کی حالت میں ہیں لیکن ان کے بیانات سیاسی توڑ پھوڑ کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور اس سے ایسا لگتا ہے کہ تقریبًا نصف درجن ممبران اسمبلی جو جماعت سے معطل ہو چکے ہیں، کانگریس پارٹی میں شامل ہوجائیں گے۔

یہ بھی مانا جارہا ہے کہ سرکردہ رہنما اور سابق وزیراعلیٰ کیشو بھائی پٹیل اور ان کے ساتھی کاشی رام رانا وغیرہ انتخابات کے دوران بی جے پی کے امیدواروں کی انتخابی مہم میں شریک نہیں ہوں گے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ کے دوران کیشو بھائی پٹیل اور ان کے حامیوں کے ایماء پر پیٹل برادری کے اجتماعات کے دوران متاثر کن حاضری پہلے ہی وزیراعلیٰ نریندر مودی کے لیے درد سر بنی ہوئی ہے خاص کر اس لیے بھی کہ خود وزیراعلیٰ کے پروگراموں میں لوگوں کی تعداد گھٹتی جا رہی ہے۔ مختلف گروہوں مثلاً سرکاری ملازمین، ڈاکٹروں، تاجروں اور سکول ٹیچروں نے پہلے ہی اپنی اپنی مانگیں پوری نہ ہونے پر ناراضگی ظاہر کر رکھی ہے۔ ان کے باوجود بھاریتہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں نے حوصلہ نہیں ہارا ہے اور وہ الگ الگ مقامات پر اجتماعات کرنے کے منصوبے بنا رہے ہیں۔

بی جے پی کی مرکزی قیادت، بی جے پی کی ریاستی شاخ میں زبردست اختلافات کے باجود اپنی پوری طاقت نریندر مودی پر لگارہی ہے۔

گزشتہ دنوں مودی نے ایک انتخابی سی ڈی جاری کی ہے جس میں ریاست کی ترقی کو انتخاب کا اصل موضوع بنایاگیا ہے اور پہلی بار اقلیتوں کے تحفظ کی بھی بات کی گئی ہے۔

بی جے پی کو صدمہ
بی جے پی گھر میں شکست پر حیران
گجرات: پانچ سال بعد
ناسازگار حالات، انصاف کیلیے ترستے مسلمان
عام انتخابات پر ’گجرات‘ کا اثر کیا ہوگا؟امکانات سے بھرپور
عام انتخابات پر ’گجرات‘ کا اثر کیا ہوگا؟
اسی بارے میں
گجرات میں بھگدڑ 12 ہلاک
14 October, 2007 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد