گجرات: 9مسلمانوں کو عمر قید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
احمدآباد کی ایک خصوصی عدالت نے بی جے پی کے سینئر رہنما اور سابق وزیر داخلہ ہرین پانڈیا کے قتل کے جرم میں نو مسلمانوں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ چھبیس مارچ دو ہزار تین کو ہرین پانڈیا کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا جب وہ صبح کے وقت چہل قدمی پر تھے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پوٹا قانون کے تحت دو دیگر ملزمان کو سات، سات برس اور ایک کو پانچ برس قید با مشقت کی سزا دی ہے۔ موجودہ وزیراعلیٰ نریندر مودی سے ہرین پانڈیا کے شدیداختلافات تھے اور ان کی اہلیہ اور والد نے ان کے قتل کے پیچھے سیاسی سازش کا الزام لگایا تھا۔وہ اس معاملے کی دوبارہ تفتیش چاہتے تھے۔ پانڈیا کے والد وٹھل بھائی نے عدالت کے فیصلے پر مایوسی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی بی آئی نے یہ تفتیش پوری طرح بقول ان کے ایل کے اڈوانی اور نریندر مودی کے دباؤ ميں کی ہے۔ ’مجھے معلوم ہے کہ مجھے انصاف نہیں ملے گا‘۔ ریاست میں حزب اختلاف کی جماعت کانگریس نے عدالت کے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ اس معاملے میں انصاف نہيں ہوا ہے۔
ملزمان کی وکیل نتیہ ر اماچندرن نے کہا ہے کہ وہ عدالت کے فیصلے کو چیلنج کریں گی۔ ’سی بی آئی نے کب، کہاں اور کیسے پوچھ گچھ کی ہے یہ کوئی نہیں جانتا۔ تفتیش میں کمی ہے اور اسی بنیاد پر ہم فیصلے کو چیلنج کریں گے‘۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہےکہ حیدرآباد کے اصغر علی نے ہی ہرین پانڈیا کو گولی ماری تھی جب کہ حیدرآباد کے مفتی احمد میاں صوفیان پتنگیا اور ان کے کئی ساتھیوں کو اس قتل کے پیچھے اصل دماغ قرار دیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں گجرات قتل: متعدد گرفتاریاں24.07.2003 | صفحۂ اول پانڈیا کا قاتل گرفتار01.01.1970 | صفحۂ اول انتہا پسند ہندو رہنما قتل26.03.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||