’گجرات فسادات: انصاف کی آس زندہ ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریشماں ایوب پٹھان کے ہاتھ پر سے تلوار کے وہ زخم مندمل ہو چکے جو فسادیوں نے دیے تھے۔ ماں کی جھلسی ہوئی پیٹھ بھی اب ٹھیک ہے۔ بے بسی، غصہ، خوف اور نفرت ان مختلف جذبات کو امید کے دامن میں جگہ ملی ہے کیونکہ آج بھی امید کی ایک کرن نے زندگی کے اس مثبت پہلو کو زندہ رکھا ہے کہ خدا کے گھر دیر ہے لیکن اندھیر نہیں ہے وہ انصاف ضرور کرے گا۔ ممبئی سے دو سو کلومیٹر دور رائے گڑھ کے بورلی پنچتن گاؤں میں رائل ایجوکیشنل سوسائٹی ہے جہاں آج سے پانچ سال قبل گجرات کے بے سہارا اور یتیم بچوں کو لایا گیا تھا۔ یہ بچے سکول میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان کے پاس ماضی کی تلخ یادیں ہیں تو نئی زندگی جینے اور اسے پورا کرنے کے لیے کچھ خواب بھی ہیں۔ یہاں ظلم و زیادتی کا شکار ہوئے گجرات کے بے سہارا بچوں کے ساتھ کچھ کشمیر ی بچے بھی ہیں جہاں زلزلہ نے لوگوں کو بے گھر کر دیا۔
گجرات اور کشمیر کے یہ بچے اپنے غم کو بھلا کر ایک ساتھ آگے بڑھنا سیکھ رہے ہیں۔ کوئی انجینئر بننا چاہتا ہے تو کوئی ڈاکٹر، کوئی پائلٹ اور کوئی کمپیوٹر انجینئر لیکن ہر کسی کے دل میں آج بھی ایک کسک ہے۔ خطاکاروں کو سزا دلانے کی۔ ریشماں نرودا پاٹیا میں اپنی ماں بہن اور ابو کے ساتھ رہتی تھیں۔ اٹھائیس فروری سن دو ہزار دو کو ہوئی واردات بتاتے ہوئے وہ آج بھی لرز جاتی ہیں۔ حملہ آوروں نے پہلے نورانی مسجد جلا ڈالی۔ پھر گھروں پر حملہ شروع کیا۔ان کی بہن کو اس کے نظروں کے سامنے تلوار سے کاٹ دیا گیا۔ان کے ہاتھ پر بھی وار کیا گیا اور ماں کو زندہ آگ میں پھینک دیا گیا لیکن وہ کسی طرح بچتے ہوئے نکل آئے۔ ہسپتال میں علاج کے دوران ماں اور ریشماں کے زخم بھر گئے۔ آج ریشماں رائل ایجوکیشن سوسائٹی کے یتیم خانے میں رہتی ہیں جہاں ان کی طرح گجرات سے آئی سینتیس اور دو برس قبل زلزلہ سے متاثرہ علاقوں سے آئی سات لڑکیاں اور رہتی ہیں۔ ریشماں اس وقت نویں جماعت میں ہیں اور ڈاکٹر بننا چاہتی ہیں۔ان کا کہنا تھا ’دل سے نفرت ختم ہو چکی۔ ممی (ریحانہ اندرے) نے بہت پیار دیا۔ اب میں ڈاکٹر بن کر مسیحا کا کردار نبھانا چاہتی ہوں‘۔ ریشماں اپنا غم بھلانے کی کوشش میں ہیں لیکن گیارہ سالہ پروین شیخ کا زخم شاید سب سے گہرا ہے۔ فساد میں اس کے ماں باپ دونوں کو ہی زندہ جلا ڈالا گیا۔ سوسائٹی کی صدر ریحانہ اندرے کہتی ہیں: ’پروین اور اس کے ساتھ سارے بچوں کو وہ گجرات کے ریلیف کیمپ سے پانچ اکتوبر کو یہاں لائے تھے۔ وہ دور بہت دل دہلا دینے والا تھا۔ ہر طرف غم کا ماحول، بے بسی اور ہمہ وقت روتے بچے۔ ماہر نفسیات کی مدد لی گئی۔ پھر رفتہ رفتہ ماحول ٹھیک ہوا۔ تعلیم نے سب کا غم بھلانے میں بڑی مدد کی‘۔ یتیم خانے کی وارڈن فیروزہ شیخ کہتی ہیں: ’پروین نو ماہ تک کچھ بھی نہیں کہتی تھی لیکن اب وہ بہتر ہے۔اس وقت وہ پانچویں جماعت میں ہے۔ بہت ذہین ہے لیکن آج بھی کم بولتی ہے۔ ماں باپ کو نظروں کے سامنے قتل ہوتے دیکھنا بہت دل گردے کا کام ہے‘۔ ان لڑکیوں میں مہتاب محمد اقبال سپاہی بہت ہمت والی لڑکی ہے۔ وہ گجرات کے وٹوا علاقے میں تھیں جب ان کے گھر پر حملہ ہوا۔ انہوں نے بتایا: ’ہم نے لوگوں کے ہاتھ پیر جوڑے۔ بہت روئے لیکن کسی نے ایک نہ سنی۔ گھر میں ہم نے مرچی کا سفوف تیار کیا تھا وہ ان پر ڈال دیا۔اور بس وہی ایک پل تھا جب ہم فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔ میرے ماں باپ سلامت ہیں وہ آج ایک بار پھر وہیں جا کر آباد ہوئے ہیں لیکن ہم محفوظ نہیں ہیں۔ کاروبار ختم ہو چکا ہے اور جینے کے وسائل کم اس لیے میں آج یہاں یتیم خانے میں ہوں۔ میں نے فلمساز راکیش شرما کی فلم ’دی فائنل سولیوشن‘ دیکھی ہے۔ اب اخباروں میں پڑھا ہے کہ کس طرح مودی اور ان کے ساتھیوں نے کیمرے کے سامنے اقبال جرم کیا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ عدالت انصاف کرے کیونکہ خطاکاروں کو سزا ملنے سے ہی ہمیں یقین ہو گا کہ اس ملک میں انصاف باقی ہے‘۔ کشمیر کے ہنڈوارا علاقے سے یہاں لائی گئی قرۃ العین غلام رسول باندے ساتویں جماعت میں زیر تعلیم ہے۔ زلزلہ نے ان کا گھر بار سب کچھ تباہ کر دیا تھا۔ آج وہ یہاں تعلیم حاصل کر رہی ہے اور پائلٹ بننے کے خواب دیکھ رہی ہے۔ اسی یتیم خانے میں گجرات سے لائے گئے لڑکوں کی تعداد بھی سینتیس ہے۔ یہاں کے وارڈن افروز خان کے مطابق یہاں ایسے بچوں کی بھی تعداد ہے جن کے والدین ان کی نظروں کے سامنے جلا دیے گئے۔ کسی کی بہن کی عصمت لوٹ لی گئی لیکن تعلیم اور ماہر نفسیات کی مدد کی وجہ سے یہ بچے آج ایک عجیب سی لگن اور ہمت کے ساتھ پڑھ رہے ہیں۔لیکن ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جن کے دل دماغ پر سے وہ خوفناک یادوں کے سائے نہیں گئے۔یہاں ٹی وی نہیں ہے لیکن اخبارات میں گجرات کے بارے میں پڑھ کر ایک بار پھر ان کے دلوں میں انصاف ملنے کی امید نے کروٹ لی ہے۔ شفیق شیخ آج ڈاکٹر بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔اس وقت وہ نویں جماعت میں ہیں۔شفیق کی ہی بہن پروین ہے جو وہیں لڑکیوں کے یتیم خانے میں ہے اور خاموش رہتی ہے۔ شفیق کے والدین کو زندہ جلانے کے بعد شفیق کو بھی آگ میں ڈال دیا گیا تھا۔ ان کے جسم پر جلنے کے نشانات ہیں۔ لیکن شفیق اب بدلہ نہیں چاہتے۔ وقت کی مار نے انہیں وقت سے پہلے سمجھدار بنا دیا۔ انہوں نے بتایا:’ کم عمری میں سر سے ماں باپ کا سایہ اٹھ جانا کیا ہوتا ہے یہ ہم یتیموں سے کوئی پوچھے لیکن دل میں بدلہ کا جذبہ نہیں ہے اگر ہوتا تو پھر ان حیوانوں میں اور ہم میں فرق کیا رہتا لیکن خدا سے انصاف کی امید نہیں چھوڑوں گا اور اب ٹی وی چینل کے سٹنگ آپریشن نے بتا دیا کہ ظلم کبھی نہیں چھپتا۔گناہ سر چڑھ کر بولتا ہی ہے‘۔ آصف داؤد کرباری شاید ان بچوں سے کچھ مختلف ہیں۔ ان کے زخم شاید ابھی بھی مندمل نہیں ہوئے۔ وہ اپنے ساتھ اس میگزین کو چھپا کر رکھتے ہیں جس میں گجرات فسادات کی تصاویر ہیں۔ ان میں ان کی نانی کی بھی تصویر ہے جس میں ان کی نانی کا پیٹ چیرا ہوا ہے۔
بوائز ہوسٹل کے وارڈن افروز خان کہتے ہیں’ آصف بھی کم بولتے ہیں۔ان کے اندر کہیں ایک غصہ آج بھی باقی ہے اس لیے ایک روز میں نے ان کے کمرے سے وہ میگزین ہی غائب کر دی۔آصف نے کسی سے کچھ نہیں پوچھا لیکن مجھے یقین ہے کہ اب شاید وہ جلد ٹھیک ہو جائے‘۔ آصف کمپیوٹر انجینئر بننا چاہتے ہیں۔ دبے اور تھمے ہوئے لہجے میں آصف نے بتایا ’میں ایک اچھا انسان بننا چاہتا ہوں لیکن چاہتا ہوں کہ میری نانی کے قاتلوں کو سزا ملے تا کہ انصاف پر سے ہمارا یقین ڈانو ڈول نہ ہو‘۔ کہتے ہیں وقت سب سے بڑا مرہم ہوتا ہے۔گجرات میں حیوانیت کے ننگے ناچ میں انہوں نے اپنوں کو کھویا کسی نے اپنے جسم پر وار سہے اور روح زخمی ہوئی لیکن ان کے دلوں میں اب بدلہ یا نفرت کا جذبہ نہیں رہا۔ یہ سب اب گھل مل کر رہتے ہیں۔ آپس میں ایک دوسرے کا زخم بانٹتے ہیں۔ ہنستے کھیلتے ہیں۔ یہ تعلیم کے ذریعہ آگے بڑھنا چاہتے ہیں لیکن اگر آپ ان کے اندر جھانک کر دیکھنے کی کوشش کریں تو پتہ چلے گا کہ انصاف پانے کا جذبہ اور امید ابھی بھی زندہ ہے اور اگر انصاف نہیں ملا تو ڈر ہے کہ کہیں اس نئی نسل کا قانون اور اس کی بالا دستی پر سے یقین ہی نہ اٹھ جائے۔ |
اسی بارے میں گجرات: متاثرین کے لیے معاوضہ23 March, 2007 | انڈیا گجرات انتخابات اور مسلمانوں کی الجھن 21 October, 2007 | انڈیا گجرات میں فرقہ وارانہ کشیدگي19 September, 2007 | انڈیا گجرات فسادات پر ایمنسٹی رپورٹ28 January, 2005 | انڈیا گجرات فسادات پر تحقیقاتی رپورٹ26 October, 2007 | انڈیا گجرات فسادات: مقدمات کا نیا جائزہ23 August, 2004 | انڈیا گجرات فسادات: سرکاری وکیل مقرر16 August, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||