گجرات فسادات: مقدمات کا نیا جائزہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی سپریم کورٹ نے گجرات کے اٹارنی جنرل کو مذہبی فسادات کے دو سو مقدموں کا از سر نو جائزہ لینے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے پوچھا ہے کہ مذہبی فسادات کے دو سو مقدمات میں ملوث لوگوں کو الزامات سے کیوں بری کیا گیا اور ان کے خلاف اپیلیں کیوں نہیں کی گئیں۔ عدالت نے انہیں کہا ہے کہ یہ اور دوسرے مقدمات بہت سے مقدمات شواہد نہ ملنے کو جواز بنا کر کیوں بند کیے گئے۔ عدالت نے اس سلسلے میں ایڈوکیٹ جنرل سے چار ماہ کے اندر رپورٹ مانگی ہے۔ گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ نے دو ہزار حقائق ناموں کا دوبارہ جائزہ لینے کا حکم صادر کیا تھا۔ عدالت نے کچھ مقدموں کو گجرات سے باہر منتقل کر دیا ہے تا کہ انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔ بھارت کی مغربی ریاست گجرات میں ہندو مسلم فسادات میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں زیادہ تر مسلمان تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||