’گجرات کا سچ‘، فائدہ کس کو؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گجرات میں اسمبلی انتخابات سے محض چند ہفتے قبل تہلکہ میگزین اور ’آج تک‘ ٹی وی چینل نے اپنی دانست میں سنہ دو ہزار دو کے فسادات کے پیچھے چھپے چہروں کو بے نقاب کرکے رکھ دیا ہے۔ تاہم جس ڈرامائی انداز میں سٹنگ آپریشن کے ذریعے ’گجرات کا سچ‘ اجاگر کیا گیا اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اس سے نریندر مودی کا دوبارہ اقتدار میں آنا ناممکن ہوگا۔ غور کرنے پر صورت حال اس کے برعکس نظر آتی ہے اور لوگوں کا عام طور پر یہ خیال ہے کہ اس آپریشن کے پیچھے جو لوگ ہیں وہ وزیراعلیٰ نریندر مودی کے بہترین دوست ثابت ہو سکتے ہیں۔ کئی گھنٹوں پر مشتمل تہلکہ کی رپورٹ میں صرف وشو ہندو پریشد کے رہنماؤں اور کارکنان کو ہی بے نقاب کیا گیا ہے جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے وہ رہنما جن کا ان فسادات میں ہاتھ رہا ہے، کوئی ذکر نہیں ہے۔ ان میں سابق مرکزی رہنما ہرین پاٹھک، مقتول رہنما ہرین پنڈیا اور رکنِ اسمبلی مایا بہن کوڈنانی شامل ہیں۔ اس سلسلے میں بی جے پی کے ناراض گروپ کے رہنما خاموش ہیں جبکہ کانگریس نے فسادات اور دہشت گردوں کے حملوں کی تفتیش سی بی آئی سے کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ بعض لوگوں نے اس رپورٹ کے وقت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ادھر گجرات انتظامیہ نے تہلکہ کی رپورٹ کے ریاست گجرات میں نشر کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔ گجرات میں جماعت اسلامی ہند کے صدر محمد شفیع مدنی کا خیال ہے کہ جو لوگ اس رپورٹ سے سیاسی فائدہ اٹھانا چاہیں گے انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑےگا۔ بقول ان کے اس رپورٹ میں جو بھی کچھ کہا گیا ہے اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے اور لوگ یہ سب پہلے ہی سے جانتے ہیں۔ مسٹر مدنی کے مطابق سنہ دو ہزار دو اور دو ہزار سات کے عرصے میں مسلمانوں کے مسائل کی نوعیت بھی بدل چکی ہے۔ شفیع مدنی کے مطابق نریندر مودی کے گزشتہ کارناموں کی یاد دہانی کا مقصد محض اتنا ہوسکتا ہے کہ ہندو ووٹ پھر سے متحد ہوجائیں اور ان کی پارٹی کے ناراض لوگوں اور کانگریس کی سیاسی طاقت ختم ہوجائے۔ سٹوڈنٹ اسلامک آرگنائزیشن کے ارشد حسین نے بتایا کہ رپورٹ کو جاری کرنے کے وقت کا تعین اس کے پیچھے کار فرما مقصد کو ظاہر کرتا ہے اور اس کا راست فائدہ حکمراں جماعت کو ہوگا۔ مقامی تاجر نظام الدین شیخ کہتے ہیں کہ اگر اس رپورٹ کی بنیاد پر قانونی کارروائی بھی کی جائے اور وہ بھی انتخابات سے قبل تو جن لوگوں کو بے نقاب کیا گیا ہے وہ سیاسی ہیرو بن جائیں گے۔ بقول ان کے خود نریندر مودی جن کے متعلق یہ کہا گيا ہے کہ انہوں نے فسادیوں کو شاباشی دی تھی وہ ہندوؤں کے بے تاج بادشاہ بننے میں دوبارہ کامیاب رہیں گے۔ |
اسی بارے میں گجرات میں انتخابات اعلان 10 October, 2007 | انڈیا گجرات انتخابات: نئی دھڑے بندیاں15 October, 2007 | انڈیا گجرات فسادات پر ایمنسٹی رپورٹ28 January, 2005 | انڈیا گجرات میں فرقہ وارانہ کشیدگي19 September, 2007 | انڈیا مسلمانوں کو ختم کرنے کا حکم تھا‘ 14 April, 2005 | انڈیا گجرات فسادات: کتنے ہلاک ہوئے؟11 May, 2005 | انڈیا گجرات میں بھگدڑ 12 ہلاک14 October, 2007 | انڈیا گجرات انتخابات اور مسلمانوں کی الجھن 21 October, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||