BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 27 October, 2007, 11:52 GMT 16:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’گجرات کا سچ‘، فائدہ کس کو؟

 فائل فوٹو
سنہ 2002 کے گجرات فسادات میں ایک ہزار سے زائد افراد مارے گئے تھے
گجرات میں اسمبلی انتخابات سے محض چند ہفتے قبل تہلکہ میگزین اور ’آج تک‘ ٹی وی چینل نے اپنی دانست میں سنہ دو ہزار دو کے فسادات کے پیچھے چھپے چہروں کو بے نقاب کرکے رکھ دیا ہے۔

تاہم جس ڈرامائی انداز میں سٹنگ آپریشن کے ذریعے ’گجرات کا سچ‘ اجاگر کیا گیا اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اس سے نریندر مودی کا دوبارہ اقتدار میں آنا ناممکن ہوگا۔

غور کرنے پر صورت حال اس کے برعکس نظر آتی ہے اور لوگوں کا عام طور پر یہ خیال ہے کہ اس آپریشن کے پیچھے جو لوگ ہیں وہ وزیراعلیٰ نریندر مودی کے بہترین دوست ثابت ہو سکتے ہیں۔

کئی گھنٹوں پر مشتمل تہلکہ کی رپورٹ میں صرف وشو ہندو پریشد کے رہنماؤں اور کارکنان کو ہی بے نقاب کیا گیا ہے جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے وہ رہنما جن کا ان فسادات میں ہاتھ رہا ہے، کوئی ذکر نہیں ہے۔ ان میں سابق مرکزی رہنما ہرین پاٹھک، مقتول رہنما ہرین پنڈیا اور رکنِ اسمبلی مایا بہن کوڈنانی شامل ہیں۔

نریندر مودی کے گزشتہ کارناموں کی یاد دہانی کا مقصد محض اتنا ہوسکتا ہے کہ ہندو ووٹ پھر سے متحد ہوجائیں اور ان کی پارٹی کے ناراض لوگوں اور کانگریس کی سیاسی طاقت ختم ہوجائے
محمد شفیع مدنی

اس سلسلے میں بی جے پی کے ناراض گروپ کے رہنما خاموش ہیں جبکہ کانگریس نے فسادات اور دہشت گردوں کے حملوں کی تفتیش سی بی آئی سے کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ بعض لوگوں نے اس رپورٹ کے وقت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ادھر گجرات انتظامیہ نے تہلکہ کی رپورٹ کے ریاست گجرات میں نشر کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔

گجرات میں جماعت اسلامی ہند کے صدر محمد شفیع مدنی کا خیال ہے کہ جو لوگ اس رپورٹ سے سیاسی فائدہ اٹھانا چاہیں گے انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑےگا۔ بقول ان کے اس رپورٹ میں جو بھی کچھ کہا گیا ہے اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے اور لوگ یہ سب پہلے ہی سے جانتے ہیں۔

مسٹر مدنی کے مطابق سنہ دو ہزار دو اور دو ہزار سات کے عرصے میں مسلمانوں کے مسائل کی نوعیت بھی بدل چکی ہے۔ شفیع مدنی کے مطابق نریندر مودی کے گزشتہ کارناموں کی یاد دہانی کا مقصد محض اتنا ہوسکتا ہے کہ ہندو ووٹ پھر سے متحد ہوجائیں اور ان کی پارٹی کے ناراض لوگوں اور کانگریس کی سیاسی طاقت ختم ہوجائے۔

سٹوڈنٹ اسلامک آرگنائزیشن کے ارشد حسین نے بتایا کہ رپورٹ کو جاری کرنے کے وقت کا تعین اس کے پیچھے کار فرما مقصد کو ظاہر کرتا ہے اور اس کا راست فائدہ حکمراں جماعت کو ہوگا۔

مقامی تاجر نظام الدین شیخ کہتے ہیں کہ اگر اس رپورٹ کی بنیاد پر قانونی کارروائی بھی کی جائے اور وہ بھی انتخابات سے قبل تو جن لوگوں کو بے نقاب کیا گیا ہے وہ سیاسی ہیرو بن جائیں گے۔ بقول ان کے خود نریندر مودی جن کے متعلق یہ کہا گيا ہے کہ انہوں نے فسادیوں کو شاباشی دی تھی وہ ہندوؤں کے بے تاج بادشاہ بننے میں دوبارہ کامیاب رہیں گے۔

گجرات فسادات
’چار سال بعد بھی پانچ ہزار خاندان بے گھر ہیں‘
سورت کی نئی شکل
وباء زدہ علاقے سے صاف شہر تک
بھارتی مسلمان (فائل فوٹو)ووٹ کس کو دیں؟
گجرات کے مسلمان ووٹر مخمصے کا شکار ہیں
بی جے پی کو صدمہ
بی جے پی گھر میں شکست پر حیران
گودھرا انکوائری
ٹرین میں آتشزدگی ایک حادثہ تھی: رپورٹ
گجرات5 سال مسلسل خوف
’گجرات تجربہ‘ دہرائے جانے کے خدشات کیوں؟
اسی بارے میں
گجرات میں بھگدڑ 12 ہلاک
14 October, 2007 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد