BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 25 February, 2006, 10:00 GMT 15:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سورت کی نئی شکل

سورت کی صاف سڑکیں
سورت کی سڑکوں پر کچرے کا نام نشان نہیں
گجرات کے شہر سورت میں روز رات کو سڑکوں پر صفائی کرنے والوں کی ایک فوج دکھائی دیتی ہے۔ نارنجی بنیانوں میں ملبوس یہ افراد تین چار گھنٹے تک پورے شہر میں جھاڑو لگاتے ہیں۔ اور ان کی اسی محنت کی وجہ سے سورت کا شمار جنوبی ایشیا کے صاف ترین شہروں میں کیا جاتا ہے۔

لیکن یہ صورتحال بارہ سال پہلے کی صورتحال سے بہت مختلف ہے۔ انیس سو چورانوے میں سورت میں ’بیوبونِک‘ وباء پھیل گئی تھی جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔ اس زمانے میں سورت ایک گندا غلیظ شہر ہوا کرتا تھا۔ وہاں کے رہائشی بتاتے ہیں کہ حال یہ تھا کہ سڑکوں پر کوڑے کے ڈھیر ہوتے تھے اور زیادہ تر گٹر بھی بند رہتے تھے۔

بیوبونک وباء کے بعد شہر بیماری اور گند کی وجہ سے مشہور ہو گیا۔ ہزاروں لوگ سورت سے اپنا گھر بار منتقل کر کے چلے گئے، کئی بزنس اور کاروبار ٹھپ ہو گئے اور سورت آنے والے لوگ ہر وقت منہ پر ماسک پہن کر رکھتے تھے۔

لیکن آج سورت کا انتخاب بھارت کے صاف ترین شہروں کی فہرست میں کیا گیا ہے۔

جنوبی گجرات کے ’چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری‘ کے صدر دلیپ چشمہ والا کہتے ہیں کہ صفائی کے اعتبار سے اب سورت ہانگ کانگ، بینککاک، کوالالمپور، بیجنگ اور شنگھائی جیسے شہروں کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ ’مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں ایشیا کے صاف ترین شہر میں رہتا ہو‘۔

دلیپ چشمہ والا کے مطابق ’سورت میں ہمارے پاس سڑکوں، صاف پانی اور گٹر کا بہترین نظام بنا ہوا ہے۔ ہماری بلدیہ ملک کا سب سے موثر بلدیاتی ادارہ ہے۔‘

اس بات پر سب متفق ہیں کہ اس بہتری کا ذمہ دار سورت کے بلدیاتی کمشنر ایس آر راؤ ہیں۔

اس بارے میں دلیپ چشمہ والا بتاتے ہیں کہ بلدیاتی کمشنر کی یہ بڑی کامیابی تھی کہ انہوں نے قوانین اور ضوابط پر پورا عمل کروایا۔

سورت کے ایک اور تاجر کمال کمار جین بتاتے ہیں کہ ’انہوں نے ان ہوٹلوں اور ٹھیلے والوں کے خلاف کارروائی کی جو گندا کھانا بیچتے تھے، اور کہیں کسی سڑک پر دکان کے سامنے کاغذ کا ٹکڑا بھی پڑا ہوتا تو دکاندار پر جرمانہ ہو جاتا۔‘

’پھر دکانداروں بھی زیادہ خیال رکھنے لگے۔ پہلے تو دکاندار بڑی سستی کرتے اور یہیں کہتے رہتے کہ کسٹمر گند کرتے ہیں، ہم ذمہ دار نہیں۔لیکن حکام نے انہیں سختی سے بتایا کہ آپ ہی ذمہ دار ہیں اور جرمانہ آپ ہی کو ادا کرنا پڑے گا، تو پھر وہ خیال کرنے لگے۔‘

محکمہ بلدیات کے اس عمل سے شہر کی شکل بالکل بدل گئی۔

لیکن حکام کہتے ہیں کہ ابھی بھی انہیں بہت کام درکار ہے اور شہر کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ سورت کے میئر ڈاکٹر کنوبھائی موانی کی پچھلے دس سال کی کوششوں سے شہر بڑا خوبصورت بنا دیا گیا ہے لیکن ’ہم اسے اور بھی خوبصورت بنانا چاہتے ہیں۔‘

اس سلسلے میں کئی منصوبوں پر کام جاری ہے جن میں مزید فلائی اوورز کی تعمیر اور شہر کے پبلِک ٹرانسپورٹ کو سی این جی پر چلانے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔

بڑھتی ہوئی آبادی کا مسئلہ
لیکن سورت کی خوشحالی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ اس کی بڑھتی ہوئی آبادی ہے۔

شہر کی آبادی اس وقت تقریباً چالیس لاکھ ہے لیکن چونکہ یہاں ہیرے اور ٹیکسٹائلز کی بڑی صنعتیں چل رہی ہیں، ان میں کام کرنے کے لیے ملک بھر سے یہاں لوگ آتے رہتے ہیں۔ اور یہ لوگ زیادہ تر کچی آبادیوں میں بس جاتے ہیں۔

شہر کی ایک غیرب آبادی کا منظر
شہر کی ایک غیرب آبادی کا منظر

ادھنا کی مورارجی کالونی کی مثال لے لیجیے: جہاں کوڑے کے ڈھیر ہر طرف پڑے ہیں اور جہاں گٹر کی بدبو نا قابل برداشت حد تک پھیلی ہوئی ہے۔

موروراجی کالونی کے ایک باسی بھانو بین شور کو صاف شہر نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ صرف امیر لوگوں کے علاقوں کو صاف رکھا جاتا ہے۔ ’ہمارے گھروں میں ہر سال بارش کا پانی آجاتا ہے۔ پچھلے سال تو سب کچھ تباہ ہو گیا تھا، برتن کپڑے، ہر چیز‘۔

ان کے پڑوسی رمیش بالوبھائی گمت ٹیکسٹائل بنانے کی کھڈیوں میں کام کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ حکام ہر سال آکر حالات دیکھتے ہیں اور یہ کہہ کر چلے جاتے ہیں کہ وہ گٹر اور ڈرینِج کا نیا نظام بنائیں گے لیکن وہ یہ کام کرنے کے لیے پلٹ کے نہیں آتے۔ میں یہاں بیس سال سے رہتا ہوں اور پچھلے پانچ سال میں ان کے یہ وعدے سن رہا ہوں۔‘

ماحولیات کے لیے کام کرنے والے کارکن درشن دیسائی کہتے ہیں کہ ادھنا جیسے علاقے میں ہر سال پانی کھڑا ہو جاتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ پلاسٹک کے تھیلوں سے سارے نالے بند ہو جاتے ہیں۔

کچرے کا مسئلہ
درشن دیسائی کہتے ہیں کہ حکام نے شہر کو صاف تو کر لیا ہے لیکن جمع کردہ اس کچرے کا ابھی کوئی صحیح انتظام نہیں کیا گیا ہے۔ اسے شہر کے ایک خالی جگہ پر ڈال دیا جاتا ہے جہاں پر درجنوں کوے اور کتے اس پر آتے ہیں۔

لیکن سورت کے محکمہ بلدیات کے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر آئی سی پٹیل کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ بھی حل ہو جائے گا اور کچرے کو الگ کرنے اور اسے ری سائیکل کرنے کے منصوبے پر کام ہو رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ سورت کو دنیا کے بہترین شہروں کے معیار تک لانے کے لیے ’ویژن ٹوینٹی ٹوینٹی‘ نامی اک پلان تیار کیا گیا ہے۔ میئر موانی کہتے ہیں کہ اگلے دس سال میں سورت کو ایک ایسا شہر بنا دیا جائے گا جس میں کوئی کچی آبادی نہ ہو۔

یہ ایک مشکل کام تو ہے لیکن سورت کے پچھلے دس سال کی کارکردگی دیکھ کر یہ اتنا نا ممکن بھی نہیں۔

برقعہ پوش خاتونخواتین کا اجتماع
پچاس ہزار برقعہ پوش خواتین کی شرکت
بنگلہ خالی کر دیا
لالو پرساد سرکاری رہائش گاہ سے نکل گئے
اسی بارے میں
سب سےبڑی غربت مٹاؤ سکیم
02 February, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد