گجرات کی سیاست میں مسلم کردار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریاست گجرات کی ایک سو بیاسی رکنی اسمبلی کے لیے آئندہ ماہ ہونے والے انتخابات میں بہت کم مسلم امیدوار میدان میں ہیں، حالانکہ ساٹھ کے لگ بھگ ایسے حلقے ہیں جہاں مسلمان ووٹروں کی تعداد پندرہ سے بیس فیصد ہے۔ بی جے پی کا کہنا ہےکہ وہ صرف اسی امیدوار کو ٹکٹ دے گی جو جیتنے کی صلاحیت رکھتا ہو، اس لیے کسی بھی مسلمان امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا گیا ہے۔ جبکہ کانگریس نے صرف چھ مسلمانوں کو ٹکٹ دیا ہے۔ مسلمانوں نے کانگریس سے چودہ سیٹوں کا مطالبہ کیا تھا۔ پیشے سے بلڈر (معمار) اور مقامی سطح پر سیاست میں سرگرم شریف خان نواب خان پٹھان کا کہنا ہے ’ تاریخ پر اگر نظر ڈالیں تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ کانگریس ہو یا پھر بی جے پی دونوں ہی سیاسی جماعتوں نے مسلمانوں کو دھوکہ دیا ہے، اس لیے مسلمانوں کا اعتماد ان دونوں ہی جماعتوں سے اٹھ چکا ہے‘۔
ان کا مزید کہنا ہے تھا کہ’اس مرتبہ مسلمانوں میں شرد پوار کی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی یعنی این سی پی سے کافی امیدیں تھیں لیکن جب ان کی جماعت نے کانگریس سے ہاتھ ملا لیا تو مسلمانوں کی امیدیں ٹوٹ گئیں‘۔ انتخابات کی اس گہما گہمی میں غیر ارادی طور پر بھی دو ہزار دو کے فرقہ وارانہ فسادات کی یادیں مسلمانوں کا پیچھا نہيں چھوڑ رہی ہیں۔ کیونکہ ان فسادات نے احمدآباد شہر کو دو حِصّوں میں تقسیم کردیا ہے۔ احمدآباد میں فسادات سے متاثر افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ آج یہ شہر پرانے اور نئے دو خانوں میں تقسیم ہو گیا ہے جہاں ہندو اور مسلمان واضح طور پر بٹے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وکیل اور ٹیکس کنسلٹنٹ وی اے آسیانی کو بھی دو ہزادو میں اپنا گھر چھوڑ کر پرانے شہر کے مسلمان آبادی والے علاقے میں جانا پڑا تھا۔ لیکن وہ تین مہینے بعد واپس اپنے گھر آگئے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک حد تک مسلمان خود اپنی حالت کے ذمہ دار ہیں۔’اسلام کسی کا محتاج بننے کی اجازت نہیں دیتا اور اگر حکومت محتاج بنانے کی کوشش کر رہی ہے تو خود ميں اتنی طاقت پیدا کرنی چاہیے کہ اس مشکل گھڑی کا مقابلہ کیا جا سکے‘۔
وارث کی بیوی شاہین کے مطابق ’بھلے ہی ہم اس طرف رہتے ہیں لیکن ایک خوف ہمیشہ ذہن میں رہتا ہی ہے‘۔ آسیانی خاندان کاکہنا ہے کہ انتخابات کی بات ہو تو ہمیں نفع اور نقصان کا خیال رکھنا پڑتا ہے’اگر کوئی کسی کا نقصان کر تا ہے تو ظاہر ہے کہ اس کے ساتھ ہمدردی نہیں دکھائی جا سکتی ہے‘۔ پرانے شہر سے تعلق رکھنے والے منا بھائی ایک نجی دفتر میں ملازم ہیں۔ ان کا کہنا ہے’ بی جے پی کہتی ہے کہ مسلمان کانگریس کے ساتھ ہے اور کانگریس مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی کا دعویٰ کرتی ہے لیکن عملی طور پر ایسا نظر نہیں آتے۔ ان حالات میں مسلمان کشمکش میں پھنس جاتا ہے۔ چونکہ مسلمانوں کے پاس کوئی تیسرا راستہ بچتا، اس لیے چپ ہو کر بیٹھ جاتے ہیں‘۔ محمد شکیل ملک آٹو رکشہ چلاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے’ ریاست میں بے روز گاری بہت بڑھ چکی ہے اور اس سے اقلیت اور اکثریت دونوں ہی متاثر ہو رہے ہیں۔ اس لیے جو بھی سرکار بنے اسے سب کی ترقی کی بات کرنی چاہیے چاہے بات اکثریت کی ہو یا پھر اقلیتوں کی‘۔
سماجی کارکن شکیل احمد کے مطابق’بیشتر مسلمانوں کا یہی خیال ہے کہ ریاست سے فسطائي طاقتوں کا جلد سے جلد خاتمہ ہو جائے۔ لیکن اگر بات مسلمانوں کے مسائل کی کریں تو وہ پورے سماج میں پائی جانے والی مشکلات اور پریشانیوں سے مختلف نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فرق صرف اتنا ہے کہ اگر سماج میں بدعنوانی ہو یا تشدد کے واقعات تو اقلیتیں اس سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں‘۔ ماہرین کا خیال ہے کہ کوئی بھی معاشرہ تشدد اور مذہبی تفریق کی بنیاد پر حاصل کیے گيے اقتدار کو زیادہ دن تک برداشت نہیں کرسکتا۔ |
اسی بارے میں گجرات: تہلکہ آپریشن کے بعد کیا؟12 November, 2007 | انڈیا ’گجرات کا سچ‘، فائدہ کس کو؟27 October, 2007 | انڈیا گجرات فسادات پر تحقیقاتی رپورٹ26 October, 2007 | انڈیا گجرات انتخابات: نئی دھڑے بندیاں15 October, 2007 | انڈیا گجرات: خوف کے مسلسل پانچ سال02 March, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||