گجرات اسمبلی انتخابات کی اہمیت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست گجرات میں آئندہ مہینے 182 رکنی اسمبلی کے لیے انتخابات ہونے جا رہے ہيں اور سیاسی نقطۂ نظر سے یہ انتخابات بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ گجرات میں گزشتہ دس برس سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے اور اس دوران 2002 میں ریاست کے اب تک کے سب سے خوفناک فرقہ وارانہ فسادات بھی ہوئے ہیں۔ ریاست کی تاریخ پر اگر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ گجرات میں فرقہ وارانہ فسادات وقتاً فوقتاً رونما ہوتے رہے ہیں۔ دانشورگھنشیام شاہ کے مطابق آزادی کے پہلے اور بعد کی تاریخ میں ریاست گجرات کے فرقہ وارانہ فسادات کے واقعات درج ہیں لیکن سب سے بڑے فسادات ساٹھ کی دہائی میں ہوئے، اس کی سب سے بڑی وجہ اس دوران ہوئی ہند پاک جنگ بتائی جاتی ہے۔ اس دور میں ہندو نظریاتی تنظیموں (ہندو مہا سبھا اور آر ایس ایس) نے ہندو مذہب کے نام پر لوگوں کو موبلائزیشن شروع کر دیا تھا اور یہ سلسلہ جاری رہا اور دلتوں اور قبائلیوں کے نام پر فرقہ وارانہ فسادات ہوتے رہے۔ گھنشیام شاہ کے مطابق نوے کی دہائی آتے آتے ہندو نظریاتی تنظیوں نے ریاست میں متنازعہ بابری مسجد اور رام جنم بھومی کے معاملے کو ہتھیار بنا کر ریاست میں ساکھ بنا لی تھی جس کے سبب بھارتیہ جنتا پارٹی پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات میں زيادہ سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی چلی گئی۔ ساٹھ کی دہائی سے نوے کی دہائی کی شروعات تک کانگریس کی حکومت ہی عام طور پر اقتدار میں رہی لیکن 1995 میں پہلی مرتبہ کیشو بھائی پٹیل کی سربراہی میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے اقتدرا سنبھالا۔ تاہم شنکر سنگھ واگھیلہ کی جماعت راشٹریہ جنتا پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان رسہ کشی جاری رہی اور جب 2001 میں کیشو بھائی پٹیل کوسیاسی اتھل پتھل کے درمیان وزير اعلٰی کا عہدہ چھوڑنا پڑا تو اس وقت نریندر مودی نے گجرات کے وزيراعلی کی گدّی سنبھالی۔ دسمبر دو ہزار ایک میں نریندر مودی وزیراعلٰی بنے اور فروری میں احمد آباد کے نزدیک گودھرا علاقے میں ایودھیا سے آ رہی اس ٹرین کو مبینہ طور پر مسلمانوں کے ایک ہجوم نے آگ لگا دی جس میں ہندو عقیدت مند سوار تھے۔ اس ٹرین کی ایک بوگی ميں بیٹھے 59 ہندو آگ میں جل کر ہلاک ہوگئے۔ اس واقعے کے خلاف احتجاج میں اگلے دن ہندو نظریاتی تنظیموں نے ریاست میں ہڑتال کا اعلان کیا اور اس دوران ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان خلیج کو مزید بڑھا دیا۔ یہ فسادات ریاست کے بیشتر مرکزي علاقوں میں ہوئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاست کے وہ علاقے جہاں بھاریتہ جنتا پارٹی مضبوط پوزیشن میں تھی عام طور پر پر امن رہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان فسادات کے چند مہینے بعد ریاست میں اسبملی انتخابات ہوئے اور بی جے پی کو اس مرتبہ 182 میں سے 126 اور کانگریس کو اکیاون سیٹیں حاصل ہوئيں۔ تاہم دو ہزار چار کے پالیمانی انتخابات میں گجرات سے بی جے پی کو 13 جبکہ کانگریس کو 12 سیٹیں حاصل ہوئيں۔ ان فسادات کے پانچ برس گزرنے کے باوجود اگر صرف احمدآباد کی بات کریں تو ہندو اور مسلم علاقوں میں فرق صاف صاف نظر آتا ہے۔ جہاں نئے احمدآباد میں تمام جدید سہولیات موجود ہیں وہيں پرانے (مسلم اکثریت ) علاقے ميں تنگ گلیاں اور غربت کا رنگ نظر آتا ہے۔ گزشتہ چھ برسوں ميں گجرات کا شمار سب سے زیادہ اور تیزی سے ترقی کرنے والی ریاستوں میں ہونے لگا ہے اور گجرات کی اسمتا(وقار)، گجراتیوں کی ترقی اور ’وائبرنٹ گجرات‘ کے نعرے دیے گئے۔ بھاریتہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما اور انتخابات کی دیکھ ریکھ کرنے والے ارن جیٹلی کا کہنا ہے ’ہمارا مقصد ساڑھے پانچ کروڑ گجراتیوں کی بہتری کے بارے میں سوچنا ہے اور گزشتہ پانچ برسوں میں ہم نے یہی کیا ہے‘۔ ادھر ریاستی کانگریس کے جنرل سکریٹری دیپک برباریہ کہتے ہیں کہ پچھلے انتخابات میں حکمراں جماعت نے پولرائزیشن کو انتہا تک پہنچا دیا تھا لیکن اس مرتبہ ایسا نہیں ہو سکے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ عام لوگوں کو پتہ چلا گیا ہے کہ ترقی صرف خاص طبقے کے لیے ہو رہی ہے۔’ ریاست میں کسان خودکشی کر رہے ہيں، تعلیم کےذرائع نہيں ہیں اور نہ ہی ملازمت کے مواقع ہیں، اس حکومت سے لوگوں کا یقین اٹھ چکا ہے۔‘ کانگریس نے مودی کے مقابلے میں اپنے سیئنر رہنما اوو سابق مرکزی وزیر دنشاء پٹیل کو اتارا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان مقابلہ برابر کا ہے اور تیئس دسمبر کو کسی بھی قسم کے نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ | اسی بارے میں گجرات: سیاسی بے اطمینانی کی فضا28 November, 2007 | انڈیا گجرات: تہلکہ آپریشن کے بعد کیا؟12 November, 2007 | انڈیا ’شاعر اور ادیب‘ نریندر مودی10 November, 2007 | انڈیا ’گجرات فسادات: انصاف کی آس زندہ ہے‘03 November, 2007 | انڈیا گجرات انتخابات اور مسلمانوں کی الجھن 21 October, 2007 | انڈیا گجرات انتخابات: نئی دھڑے بندیاں15 October, 2007 | انڈیا گجرات میں انتخابات اعلان 10 October, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||