’شاعر اور ادیب‘ نریندر مودی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گجرات کے مسلم مخالف فسادات میں بدنامی کے باوجود انتخابی میدان میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد وزیر اعلیٰ نریندر مودی اب ادبی دنیا میں ایک لکھاری کی حیثيت سے اپنے پاؤں جمانے کی کوشش میں ہیں۔ چند ماہ قبل گجراتی زبان میں ان کے شعری مجموعہ’ آنکھ آ دھنیہ چھے‘ ( آنکھیں احسان مند ہیں) کا بڑی دھوم دھام سے ممبئی میں اجراء ہوا تھا اور اب ان کے افسانوں کا مجومعہ بھی منظر عام پر آگیا ہے۔ نریندر مودی نے اپنے افسانے کے مجموعہ ’پریم تیرتھ ‘ کو منظر عام پر لاکر ایک بار پھر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ ایک حساس دل بھی رکھتے ہیں لیکن ممکن ہے نرودا پاٹیہ اور کلبرگ سوسائٹی کے مظلومین ان کی اس بات سے متفق نہ ہوں۔ گجراتی شاعر اور مقتدرہ جریدہ ’ کویتا‘ کے مدیر سریش دلال مودی کی ادبی کاوشوں کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں ’مودی کے فن کی جڑوں میں ماں، ممتا اور مادری زبان موجود ہے اور اس کا احساس ان کی افسانوی تخلیقات میں جھلکتا ہے۔‘
ستم ظریفی یہ ہے کہ اس رسم اجراء کی تقریب سے چند روز پہلے ہی تہلکہ کے سٹنگ آپریشن میں نریندر مودی کو ایک ایسے شخص کو شاباشی دیتے ہوئے بتایا گيا تھا جس کا کہنا تھا کہ فسادات میں اس نے ایک حاملہ عورت کا پیٹ چیر کر نوزائدہ بچے کو نیزے پر اٹھایا تھا۔ بہر حال مودی کے فن کے ذکر کے دوران یہ ایک جملہ معترضہ تھا۔ مسٹر دلال کا کہنا تھا کہ نریندر مودی ’جوڑنے والے شخص ہیں توڑنے والے نہیں۔‘ خود مودی نے اس موقع پر کہا کہ وہ ادیب نہیں لیکن ادب پرست ضرور ہیں۔ سریش دلال سے پہلے بھی کئی لوگ نریندر مودی کے فن کی تعریف کر چکے ہیں۔ بزرگ سنسکرت اسکالر آنجہانی کے کے شاستری اور گجراتی شاعر راجندر شاہ نے بھی نریندر مودی کے فن کی تعریف کی تھی۔ |
اسی بارے میں مودی کو مدعو کرنے پر احتجاج06 July, 2006 | انڈیا گجرات: مودی کے خلاف محاذ آرائی06 November, 2007 | انڈیا مودی کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ31 October, 2007 | انڈیا جوان اٹھ کھڑے ہوں: نریندر مودی17 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||