گجرات: مودی کے خلاف محاذ آرائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریاست گجرات میں انتخابات جوں جوں نزدیک آ رہے ہیں سیاسی ہلچل بڑھتی جا رہی ہے اور وزير اعلی نریندر مودی کے مخالفین ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہيں۔ بھاریتہ جنتا پارٹی کے معطل شدہ رکن اسمبلی گوردھن بھائی جھاپڑیا ، جو سنہ دو ہزار دو کے فسادات کے دوران ریاست کے وزیر داخلہ تھے اور جن پر فسادیوں کی پشت پناہی کا الزام ہے، اب مکمل طور پر مودی مخالف مہم میں سرگرم ہو چکے ہیں۔ مسٹر جھا پڑیا جو اپنی مہم کو’مشن ڈیموکریسی‘ قرار دیتے ہیں اب باضابطہ طور پر ’سردار پٹیل اتکرش سمیتی‘ نامی تنظیم کے صدر بن گئے ہیں ۔ جھاپڑیا مودی کے خلاف کسی بھی پلیٹ فارم سے بولنے پر رضامند ہیں اور کانگریس پارٹی سے بھی ان کے مذاکرات جاری ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ صورت میں کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ سرکار کس کے ساتھ ہے۔
سابق وزیر اعلی سریش مہتا بھی چھا پڑیا کے ساتھ اس تنظیم ميں شامل ہیں اور دونوں نے اعلان کیا ہے کہ نہ تو وہ انتخاب میں کھڑے ہوں گے اور نہ ہی کانگریس میں شامل ہوں گے۔ دوسری طرف کانگریس کے رہنما شکتی سنگھ گوہل کا کہنا ہے کہ کانگریس صرف سکیولر لوگوں کا ہی ساتھ قبول کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ویسے اگر مسٹر مودی بھی کانگریس کے امیدواروں اور پالیسی کی تشہیر کریں گے تو کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟ یہ اور بات ہے کہ تہلکہ ٹیپس کے نشر ہونے سے پہلے تک جھاپڑیا اور کانگریس تعلقات بڑھا رہے تھے لیکن ٹیپ کے منظور عام پر آتے ہی صورت حال اچانک بدل گئی اور وہی جھاپڑیا کانگریس کے لیے شجر ممنوعہ بن گئے۔ نہ صرف کانگریس اور جھاپڑیا بلکہ مدھیہ پردیش کی سابق وزیر اعلی اوما بھارتی بھی مودی کے خلاف گجرات میں خیمے گاڑ چکی ہیں۔ گزشتہ ہفتے انہوں نے گجرات میں اپنی سیاسی پارٹی ’ بھارتیہ جن شکتی‘ کی داغ بیل جھاپڑیا اور گجرات کے سابق وزیر اعلی کیشو بھائی پٹیل کے ساتھ مل کر ڈالی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جھاپڑیا نے کانگریس اور اوما بھارتی دونوں ہی کی انتخابی مہم میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی سے نکالے جانے کے بعد اوما بھارتی نے اپریل دو ہزار چھ میں اپنی پارٹی کی بنیاد رکھی تھی۔ مودی کے خلاف ایک اور مورچہ شرد پوار کی پارٹی نیشنلسٹ کانگریس کا ہے جو فی الحال کانگریس کے ساتھ سیٹوں کے لین دین پر بات چیت میں مصروف ہے۔گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں این سی پی نے علحیدہ امیدوار کھڑے کر کے کانگریس کو بھاری نقصان پہنچایا تھا اور اس کا براہ راست فائدہ بی جے پی کو ہوا تھا جس نے ساتوں بلدیاؤں میں اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس وقت حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں اس کا فیصلہ وقت ہی کرےگا۔ |
اسی بارے میں گجرات انتخابات: نئی دھڑے بندیاں15 October, 2007 | انڈیا ’گجرات فسادات: انصاف کی آس زندہ ہے‘03 November, 2007 | انڈیا گودھرا کمیشن غیرقانونی: عدالت 13 October, 2006 | انڈیا گجرات: فسادات کے پانچ سال بعد25 February, 2007 | انڈیا مودی کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ31 October, 2007 | انڈیا گجرات انتخابات اور مسلمانوں کی الجھن 21 October, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||