گجرات: مسلمانوں کی اقتصادی بدحالی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریاست گجرات میں تقریباً نوفیصد کی آبادی والی مسلم برادری کے لیے چھوٹے کاروبار آمدنی کا ذریعہ رہے ہیں۔ بیکری چلانا ہو یا موٹر گاڑیوں کی مرمت کرنا یا پھر پتنگ بازی کے شوقینوں کے لیے پتنگیں بنانی ہوں۔ ان تمام کاموں میں مسلمانوں کی شراکت زیادہ رہی ہے۔ لیکن اب اس رجحان میں تبدیلی آ رہی ہے۔ ایک وقت تھا جب مسلمانوں کے کاروبار ’اٹالیئن بیکری‘ ، ’پنکج تیل‘ اور ’پوسٹمین آئل‘ گجرات کے ہر گھر کا اہم حصہ تھے لیکن آج بازار سے یہ تمام مصنوعات غائب ہیں۔ یہ تبدیلی گزشتہ دس برس میں آئی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا کہ کیا یہ تبدیلی اپنے آپ آ گئی یا پھر مسلمانوں کوجان بھوجھ کر اقتصادی طور پر الگ تھلگ کیا گیا؟ احمدآباد کے نئے اور پرانے شہر کے درمیان شہر کی سب سے پرانی ’اٹالین بیکری‘ ہے۔ اس بیکری کی شروعات سن انیس سو تیس میں اس وقت کی گئی جب شہر میں صرف نان اور پراٹھوں کو ہی مقبولیت حاصل تھی لیکن اس بیکری نے شہر میں بریڈ اور بیکری کے دیگر سامان کو مقبول بنایا۔
عبدالرّزاق نے بتایا کہ جب کاروبار بہتر بنانے کے لیے قرض کی درخواست دی تو وہ اس لیے نامنظور کردی گئی کہ ان کی کمپنی میں پارٹنر اقلیتی طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ حنیف لکڑاوالا جیسے سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے وِشو ہندو پریشد اور آر ایس ایس کی جانب سے ایک مہم چلائی گئی اور اس دوران کچھ پرچے ہندوؤں میں تقسیم کیے گیے۔’ان پرچوں میں ان تمام مصنوعات کے نام لکھے گئےجنہیں مسلمان بناتے ہيں اور یہ پیغام دیا گیا کہ مسلمانوں کی بنائی ہوئی مصنوعات کو استعمال نہیں کرنا چاہیے‘۔
مسٹر لکڑوالا نے بتایا کہ ’احمدآباد میں ایک وقت تھا کہ ’پنکج آئل‘ (تیل)، ’پوسمٹ مین آئل‘ اور ’اٹائلین بیکری‘ کی بریڈ بہت مشہور تھی لیکن آج ان تمام چیزوں کے نام لینے سے بھی لوگ گھبراتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عام لوگوں کو پہلے یہ نہیں پتہ تھا کہ یہ کاروبار چلانے والوں کا تعلق مسلمان براردی سے ہے‘۔ مسٹر لکڑاوالا کی بات صحیح معلوم ہوتی ہے۔ راجو بھائی پتنگ والے نے بتایا کہ احمدآباد کی پتنگوں کو پورے گجرات میں بھیجا جاتا تھا لیکن آج اس میں کوئی کمائی باقی نہیں بچی ہے۔ راجو بھائی نے بتایا کہ ’سرکار نے کئی مرتبہ قرض دینے کے لیے پتنگوں کی ایسوسی ایشن کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں لیکن ابھی تک معاملہ صرف کاغذات پر ہی اٹکا ہوا ہے۔ جن لوگوں کو پتنگ بنانے کے نام پر قرض دیے بھی گئے ہیں تو وہ کچھ اور ہی کام کر رہے ہيں‘۔ دوسری جانب پیر کمال قبرستان کے نزدیک شہر کا سب سے بڑا گیراج فی الوقت وقف بورڈ اور میونسپل کارپوریشن کے درمیان پھنس گیا ہے۔ اس مقام پر برسوں سے لوگ مکینک کا کام کر رہے تھے اور بعض نے اپنی رہائش بھی اسی مقام پر بنا لی تھی۔ وقف کی زمین ہونے کے سبب وہ یہاں کا کرایا وقف بورڈ کو دیتے تھے۔ لیکن دو برس قبل یہاں بسے ہوئے گھروں اور گیراج کو غیر قانونی ہونے کی بنیاد پر توڑ دیا گیا۔فی الوقت یہاں رہنے والے نہ تو دو وقت کی روٹی کھا پا رہے ہيں اور نہ ہی ان کے سر پر چھت ہے۔وہاں کی مقیم فرزانہ کا کہنا ہے کہ’ہم سردی میں پڑے ہوئے ہیں۔ ہمارے سو مکان توڑ دیے ہیں، ہمارے پاس پیسہ بھی نہيں ہے کہ ہم نیا مکان خرید سکیں‘۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کیے جا رہے ہیں۔ بقول مسٹر لکڑاوالا مسلمانوں کو سماجی اور اقتصادی طور پر پسماندہ بنا کر انہيں ملک کے لیے غیر ضروری بنانے کی کوشش ہورہی ہے۔ لکڑاوالا کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے خلاف یہ مہم صرف گجرات میں ہی نہيں بلکہ ملک کی دیگر ریاستوں جییسے اتر پردیش، میدھیہ پردیش ، کرناٹک، مغربی بنگال میں بھی جاری ہے۔ اس موضوع پر بات کرتے ہوئے گجرات چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی صدر پارو ایم جے کرشنا کا کہنا ہے کہ گجرات میں ہندو اور مسلم عرصے سے ایک ساتھ کام کرتے رہے ہيں لیکن کچھ عرصے سے یہ ہوا پھیلی ہوئی ہے کہ مسلمانوں کو بعض قسم کی تکلیفیں ہو رہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گجرات میں کاروبار میں ترقی ہوئی ہے اور اس سے سب کو فائدہ پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں جن کاروباروں سے مسلم تعلق رکھتے ہيں وہ مزید بہتر کام کر رہے ہيں‘۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کہ یہ ضرور ہے کہ بعض لوگوں نے اپنے کاروبار کو خود ہی مخصوص علاقوں تک محدود کر دیا ہے۔ ایم جے کرشنا نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جہاں تک کاروبار کے لیے قرض دیے جانے کی بات ہے تو اس کے متعلق بینک فیصلہ کر سکتا ہے اور وہی فیصلہ کرتا ہے کہ وہ کسے قرض دے گا اور کسے نہيں۔ |
اسی بارے میں گجرات اسمبلی انتخابات کی اہمیت29 November, 2007 | انڈیا گجرات:اعلٰی افسران کی ضمانت مسترد15 November, 2007 | انڈیا ’گجرات فسادات: انصاف کی آس زندہ ہے‘03 November, 2007 | انڈیا حکومت گجرات کا ایوارڈ قبول نہیں20 September, 2007 | انڈیا زیرِ حراست پولیس افسران کی معطلی06 May, 2007 | انڈیا گودھرا، یہ کیسی سزا؟28 February, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||