BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 December, 2007, 11:43 GMT 16:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مودی: وہی ہوا جوہونا چاہیے تھا
فائل فوٹو
بی جے پی نے ایک بار پھر ہندوتو کا نعرہ دے دیا ہے
گجرات میں اسمبلی انتخابات کی مہم کے دوران وزيراعلی نریندر مودی کے اس بیان پر نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے کہ پولیس کے ساتھ فرضی مقابلے میں مارے جانے والے سہراب الدین کے ساتھ وہی سلک ہوا جو ہونا چاہیے تھا۔

احمدآبار سے مقامی صحافی منیش لانگا نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ منگل کو ایک انتخابی ریلی میں نریندر مودی نے سہراب الدین کے گجرات پولیس کے ہاتھوں مارے جانے کو صحیح قرار دیا ہے۔

کانگریس نے مودی کے بیان کو ’ تاناشاہ رویہ‘ قرار دیا ہے ۔ سماجودای پارٹی نے کہا ہے کہ ایسے شخص کو قانون اور آئین میں یقین نہیں ہے اور اسے کسی ذمہ داری کے عہدے پر فائذ نہیں ہونا چاہیے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے جب انتخابی مہم کی شروعات کی تھی اس وقت وہ ترقی کی بات کر رہی تھی لیکن کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کی ریلیوں کے بعد بی جے پی نے دہشتگردی اور ہندوتوا کا نعرہ بلند کرنا شروع کر دیا۔

ٹی وی چینلز نے ایک ریلی کے دوران سہراب الدین کے فرضی مقابلے میں ہلاکت کے معاملے پر مودی کو یہ کہتے ہوئے دکھایا:’ جس سہراب الدین پر دہشتگردانہ کاروائیوں میں شامل ہونے کا الزام ہو، جس سہراب الدین کو چار چار ریاستوں کی پولیس تلاش کر رہی ہو اس کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہیے‘؟

 بی جے پی کو اپنے موقف کو واضح کرنا چاہیے کہ کیا وہ مودی کے بیان سے اتفاق رکھتے ہيں۔ لوگوں کو طے کرنا ہے کہ ایسے وزیر اعلی کا کیا کرنا ہے جو تاناشاہ ہے اور جسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا کوئی افسوس نہیں ہے۔
کانگریس

سہراب الدین شیخ گجرات پولیس کے دہشتگرد مخالف دستے اور راجستھان پولیس کی مشترکہ کاروائی میں 26 نومبر 2005 کو مارے گئے تھے۔

معاملہ اس وقت روشنی میں آیا جب سہراب الدین کے بھائی رباب الدین نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کر کے گزارش کی کہ پولیس کو حکم جاری کیا جائے کہ وہ ان کے لاپتہ بھائی کی بیوی کوثر بی کو پیش کریں۔

مودی نے سہراب الدین کی بیوی کے پولیس کے ہاتھوں مبینہ قتل کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔

انتخابی ریلی میں مودی نے مرکزي یو پی اے حکومت کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر وہ انہیں قصوروار مانتے ہيں اور اگر ان میں دم ہے تو انہیں پھانسی دے دیں‘۔

کانگریس نے مودی کے بیان پر سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ کانگریس کے ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا ’ بی جے پی کو اپنے موقف کو واضح کرنا چاہیے کہ کیا وہ مودی کے بیان سے اتفاق رکھتے ہيں‘۔

انہوں نے کہا ’ جو وزیر اعلی لوگوں سے سوال پوچھتے ہیں کہ کیا سہراب الدین کو پولیس کو نہیں مارنا چاہیے تھا۔۔۔لوگوں کو طے کرنا ہے کہ ایسے وزیر اعلی کا کیا کرنا ہے جو تاناشاہ ہے اور جسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا کوئی افسوس نہیں ہے۔‘

دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان پرکاش جاوڑیکر نے کہا ہے کہ کانگریس کا حال عجیب ہے۔’ جب مودی دہشتگردی کی بات کرتے ہیں تو وہ کہنے لگتے ہیں کہ مودی ترقی کی بات نہیں کر رہے اور جب ترقی کی بات کرتے ہيں تو کہتے ہیں کہ وہ دیگر مسائل سے بچ رہے ہيں‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد