نریندر مودی کے بیان پر کڑی تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گجرات کے وزیراعلٰی نریندر مودی کی جانب سے جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے ایک شخص کی ہلاکت کو صحیح قرار دیے جانے پر متعدد سیاسی جماعتوں نے احتجاج کیا ہے۔ دو روز قبل نریندر مودی نے اسبملی انتخابات کی مہم کے دوران ایک ریلی میں سہراب الدین نامی شخص کے گجرات پولیس کے ہاتھوں مارے جانے کو صحیح قرار دیا تھا۔ سہراب الدین شیخ گجرات پولیس کے انسدادِ دہشتگردی دستے اور راجستھان پولیس کی مشترکہ کارروائی میں 26 نومبر 2005 کو مارے گئے تھے۔ نریندر مودی کے اس بیان پر زبردست نکتہ چینی ہوئی ہے۔ کانگریس پارٹی کے ترجمان ابھیشیک سنگھوی کا کہنا ہے کہ’ وزیراعلٰی نے اس بات کا اعلان کر دیا کہ انہیں کسی کو بھی ہلاک کرنے کا حق ہے‘۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے رہنما سیتا رام یچوری کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کا بیان ’شرم ناک‘ ہے۔ ادھر نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان وی کے ملہوترا نے کہا ہے کہ مودی نے اس قسم کا کوئی بیان نہیں دیا اور انہوں نے کہا تھا کہ’ اگر کوئی دہشت گرد پولیس مقابلہ میں مارا جائے تو اس میں کچھ غلط نہیں‘۔ بھارتی الیکشن کمیشن نے مقامی حکام سے کہا ہے کہ وہ یہ بتائیں کہ نریندر مودی کے اصل الفاظ کیا تھے تاکہ اس بات کا فیصلہ کیا جا سکے کہ انہوں نے انتخابی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کی یا نہیں۔
ادھر سہراب الدین شیخ کیس میں سرکاری وکیل کے ٹی ایس تلسی نے فوری طور پر اپنے آپ کو اس مقدمے سے الگ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سپریم کورٹ میں کے ٹی ایس تلسی گجرات حکومت کے وکیل ہیں۔ انہوں نے مودی کے اس بیان کو غلط قرار دیا ہے جس میں انہوں نے پولیس کے ہاتھوں سہراب الدین کی ہلاکت کو مبینہ طور پر جائز کہا تھا۔ تلسی کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ عدالت میں ہے اور ایسے وقت میں اس پر کوئی بھی بیان دینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ بی بی سی کے ساتھ ایک بات چیت میں کے ٹی ایس تلسی نے کہا ’مودی کا بیان صحیح نہیں ہے۔ ان کا بیان حکومت کی جانب سے دائر کیے گئے حلف نامہ سے مختلف ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ مودی کے اس بیان سے گجرات حکومت اب مشکل میں پڑ گئی ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وزیر اعلی کا بیان توہینِ عدالت کے دائرے میں آتا ہے، ان کا کہنا تھا ’مقدمے کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے اس لیے یہ بیان عدالت کی توہین کے دائرے میں تو بھلے ہی نہ آئے لیکن یہ صحیح نہیں ہے‘۔ یاد رہے کہ سہراب الدین کیس اس وقت منظر عام پر آیا جب سہراب الدین کے بھائی رباب الدین نے سپریم کورٹ میں درخواست داخل کی تھی کہ پولیس کو حکم جاری کیا جائے کہ وہ ان کے لاپتہ بھائی کی بیوی کوثر بی کو پیش کریں۔ جس پر ریاستی انتظامیہ نے عدالت کے سامنے قبول کیا تھا کہ سہراب الدین کے علاوہ ان کی بیوی کوثر بی بی کو بھی مار دیا گیا تھا۔ |
اسی بارے میں مودی: وہی ہوا جوہونا چاہیے تھا 05 December, 2007 | انڈیا مودی کے بیان پر مقدمے سے الگ06 December, 2007 | انڈیا وزیراعلی کے طور پر مودی پہلی پسند03 December, 2007 | انڈیا گجرات:اعلٰی افسران کی ضمانت مسترد15 November, 2007 | انڈیا فرضی تصادم،پولیس والوں کو عمر قید12 September, 2007 | انڈیا گجرات: سہراب کی بیوی بھی قتل30 April, 2007 | انڈیا جعلی جھڑپ میں ہلاکت پر احتجاج31 January, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||