سات مسلمانوں کا قتل، آٹھ کو عمر قید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گجرات میں گودھرا کی سیشن عدالت نے مذہبی فسادات کے دوران ایرل گاؤں میں سات مسلمانوں کی ہلاکت اور دو لڑکیوں کی آبروریزی کے جرم میں آٹھ افراد کو عمرقید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے اس واقعہ میں ملوث تین افراد کو تین تین برس قید کی سزا دی ہے جبکہ انتیس ملزموں کو ناکافی ثبوتوں کے سبب رہا کر دیا گیا ہے۔ فیصلہ آنے سے کئی روز قبل سے ہی گودھرا اور ایرل گاؤں میں کشیدگی تھی ۔ یہ واقعہ گودھرا ٹرین میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد تین مارچ سنہ 2002 کو اس وقت پیش آیا تھا جب کلول تحصیل کے ایرل گاؤں میں شیخ فیروز نامی شخص کے گھر پر فسادیوں نے حملہ کیا تھا۔ حملے میں فیروز کی بیوی، ماں، باپ،نانی، نانا، بہن اور ایک بھانجی کو قتل کر دیا گیا تھا۔ فسادیوں نے فیروز کی بہن اور بھانجی کو قتل کرنے سے پہلے ان کی آبروریزی بھی کی تھی۔ یہی نہیں بلکہ فیروز کے ڈیڑھ سالہ بچے کی انگلیاں بھی کاٹ لی تھیں۔ ان میں سے ایک لڑکی کی ماں مدینہ شیخ نے یہ تمام منظر دیکھا تھا ۔ وہ ایک کھیت میں چپھپی ہوئی تھیں۔ شیخ فیروز نے بی بی سی اردوڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے عدالت کے فیصلے پر مایوسی ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ’ان میں سے کم از کم بیس ملزمان کو پھانسی کی سزا ملنی چاہیے تھی ۔ یہ سبھی قتل میں ملوث تھے‘۔فیروز شیخ نے کہا کہ وہ ذیلی عدالت کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے ۔ فیروز نے اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ’ہم لوگوں کے تعلقات سبھی سے اچھے تھے اور پہلے کبھی ایسا ہوا نہیں تھا اس لیے ہم اپنے گاؤں سے کہیں نہیں گئے تھے‘۔ بیسٹ بیکری کے بعد گجرات فسادات کے سلسلے میں یہ دوسرا اہم معاملہ ہے جس میں فسادیوں کو سزا ملی ہے۔ | اسی بارے میں گجرات: متاثرین کے لیے معاوضہ23 March, 2007 | انڈیا گجرات: خوف کے مسلسل پانچ سال02 March, 2007 | انڈیا گودھرا فسادات کے’مثبت‘ اثرات 28 February, 2007 | انڈیا گودھرا، یہ کیسی سزا؟28 February, 2007 | انڈیا گودھرا سانحے کی پانچویں برسی27 February, 2007 | انڈیا گجرات: فسادات کے پانچ سال بعد25 February, 2007 | انڈیا گجرات فسادات متاثرین کا کنونشن02 February, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||