نادیہ پرویز بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، دلی |  |
 | | | پوری دنیا کے مسلمان ایک نئی قسم کی لڑائی لڑ رہے ہیں |
گلاسگو اور لندن ميں ناکام دہشتگردانہ حملوں ميں مبینہ طور پر تین ہندوستانیوں کے نام سامنے آتے ہی ذرائع ابلاغ ميں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ یوں تو اب تک ان لوگوں کے خلاف باقاعدہ طور پر کوئی ثبوت نہيں ملے ہيں لیکن یہ پہلا موقع ہے جب کسی غیر ملکی دہشتگردانہ حملوں میں ہندوستانیوں کی شمولیت کی بات سامنے آئی ہے۔ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے حملوں کے بعد پوری دنیا کے مسلمان ایک نئی قسم کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ تو کیا اب تازہ واقعات کے رونما ہونے کے بعد قومی اور بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کے مسلمانوں کی ایک منفی شبیہ سامنے آنے کے امکانات نظر آرہے ہيں؟ دلی میں مقیم سماجیات کے ماہر امتیاز احمد کہتے ہیں کہ کچھ افراد کسی ملک کی شبیہ کو خراب یا اچھا نہیں بنا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اگر تین لوگوں کی وجہ سے ہندوستان کی شبیہ پر اثر پڑنے لگے تو اس کا مطلب یہی نکالا جا سکتا ہے کہ ملک کی شبیہ پہلے سے ہی کمزور ہے۔‘ ممبئی میں مقیم اسلامک سکالر اصغر علی انجینئر کا کہنا ہے کہ جس طرح ذرائع ابلاغ اس قسم کے واقعات کی رپورٹنگ کرتے ہیں اس سے اسلام کی ایک منفی شبیہ سامنے آتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اصل میں جس مذہب نے امن کو اپنا مرکزی پیغام بنایا اسے ہی آج سب سے زيادہ تشدد سے جوڑ کے دیکھا جاتا ہے۔ اضغر علی انجینئر کہتے ہیں کہ ’جب جب فرقہ پرست طاقتیں میڈیا میں یہ کہتی ہيں کہ تمام مسلمان دہشتگرد نہیں لیکن ایسا کیوں ہے کہ پکڑے گئے تمام دہشتگرد مسلمان ہیں، تو عام انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔‘
 | | | ایسے واقعات کے سبب متاثرہ ممالک کی امیگریشن پالیسیز میں زبردست تبدیلی دیکھی گئی ہے: ایک پروفیسر |
دوسری جانب لندن ميں مقیم جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفسر عادل مہدی کا کہنا ہے کہ ’ان واقعات کے بعد لندن ميں تو فی الوقت معمول کی زندگی پر کوئی واضح اثر نہیں پڑتا نظر نہيں آ رہا ہے لیکن ماضی کے تجربات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ایسے واقعات کے سبب متاثرہ ممالک کی امیگریشن پالیسیز میں زبردست تبدیلی دیکھی گئی ہے۔‘ہندوستان میں ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ ہندوستانی مسلمانوں کو کسی دہشت گردانہ حملے سے جوڑا جا رہا ہو۔ حال ہی میں ہوئے ممبئی بم دھماکوں اور مالیگاؤں حملوں میں گرفتار ہونے والے سب ہی مسلمان تھے۔ لیکن لندن اور گلاسگو کے نا کام حملوں کے سلسلے میں تین مسلمانوں کے نام رونما ہونے کے بعد ہندوستان کے مسلمانوں کا نام بین الاقوامی دہشت گرد حملوں سے جڑ گیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ حالیہ لندن اور گلاسگو میں ناکام بم حملوں کی کوشش کے معاملے میں ہندوستانیوں کے نام رونما ہونے کے بعد ملک میں مسلمانوں کی شبیہ پر کوئی براہ راست اثر نہیں پڑے گا لیکن اس سے ملک کے مسلمانوں میں عدم تحفظ میں مزید اضافہ ہوگا۔
|